New Health Minister

Posted on September 14, 2018 Articles



*22 دسمبر کی سرد صبح تھی۔ لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں میرا پہلا دن تھا۔ میں ٹھیک آٹھ بجے انستھیزیا آفس میں داخل ہوا تو دیکھا کہ آتش دان کے پاس دو ڈاکٹر حضرات اور ایک سترہ اٹھارہ سال کا لڑکا بیٹھے ہاتھ سینک رہے تھے۔ میں نے اپنا تعارف کروایا اور قریب موجود کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس سے پہلے کہ کوئی بات چیت ہوتی آفس کا دروازہ کھلا اور گائنی کی پروفیسر اندر داخل ہوئیں۔ ہم سب احتراماً کھڑے ہو گئے۔ وہ بولیں کہ مریضہ اب خطرے سے باہر ہے اور recovery میں شفٹ ہو گئی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے نوجوان لڑکے کو اشارہ کیا اور وہ دونوں کمرے سے باہر نکل گئے۔*
*ان کے جانے کے بعد ڈاکٹر حضرات نے سارا واقعہ بیان کیا جو کچھ یوں تھا۔ فجر کے قریب ایک مریضہ کا سیکشن کیا گیا جس کے دوران کچھ پیچیدگی کی باعث مریضہ کا خون بڑی حد تک ضائع ہو گیا۔ پروفیسر صاحبہ کو فوراً اطلاع دی گئی کیونکہ ان کا حکم تھا کہ ہر پیچیدہ کیس کے بارے میں انہیں فوراً اطلاع دی جائے۔ انہیں بتایا گیا کہ مریضہ کا بلڈ گروپ بی نیگیٹو ہے اور ہسپتال میں دستیاب نہیں۔ کوشش جاری ہے کہ کسی طرح اس کا جلد بندوبست کیا جائے۔* *پروفیسر صاحبہ جلد ہی ہسپتال میں موجود تھیں۔ وہ اکیلی نہیں آئی تھیں بلکہ اپنے دونوں بیٹوں کو ساتھ لائی تھیں جن کا بلڈ گروپ بی نیگیٹو تھا۔* *پروفیسر صاحبہ نے نہ صرف آپریشن سنبھالا اورمریضہ کی جان بچائی بلکہ رات کے اس پہر ایک عام مریض کیلئے اتنی سخت سردی کی رات دونوں بیٹوں کو ساتھ لا کر اور خون کا عطیہ دلوا کر انسانیت کی ایک لازوال مثال قائم کی۔*
*اس دن کے بعد میں اس عظیم خاتون کا معتقد ہو گیا ۔ یہ میرا میڈم یاسمین راشد سے پہلا تعارف تھا۔ اب کوئی بھی شخص سیاسی مخالفت میں لاکھ اس عظیم خاتون کو برا بھلا کہے میرے لئے وہ فرشتہ صفت خاتون ایک عظیم ترین مسیحا ہے۔ انکی کامیابی کیلئے ہر وقت دعاگو ہوں۔*
*(ڈاکٹر یاسمین راشد کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے شیئر کیا).*

Courtesy:
Dr.Badar Shehzad