!تبدیلی فقط شعور سے ممکن ہے

Posted on March 17, 2018 Articles



تبدیلی فقط شعور سے ممکن ہے!
کیا شعور کے بغیر بھی تبدیلی ممکن ہے؟اس بات کا انحصار آپ پر ہے کہ آپ کیسی تبدیلی چاہتے ہیں۔اگر تو آپ ظاہری تزئین و آرائش، بناوٹ اور دکھاوے پر یقین رکھتے ہیں اور غلام عباس کی تحریر اوورکوٹ کے مرکزی کردار کی طرح تن کی اجلی چاہتے ہیں تو یقین کیجئے ایسی تبدیلی کے حصول کے لیے آپ کو شعور کی ضرورت نہیں پڑے گی۔لیکن اگر آپ کی اس تبدیلی کا تعلق فقط تن کی بجائے من سے ہے، ظاہر کی بجائے باطن سے بھی ہے،آپ یقین رکھتے ہیں کہ نئے جہان، تازہ اور بلند افکار سے پیدا ہوتے ہیں اور آپ ایک پاکیزہ اور انصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل جاتے ہیں تو تبدیلی کی یہ صورت شعور کے بغیر ممکن نہیں ہے بلکہ ایسی مثبت تبدیلی کی خواہش ہی شعور کا نقطہ آغاز ہے۔
زندگی تغیر پیہم کا نام ہے۔یعنی مستقل تبدیلی ہی زندگی ہے اگر آپ شعور رکھتے ہیں تو اس تبدیلی کی سمت درست ہوگی۔یہ بھی واضح حقیقت ہے کہ دنیا کی ہر قوم تبدیلی چاہتی ہے، چاہے وہ قوم ترقی پذیر ہے یا ترقی یافتہ،امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک کے عوام کا وائٹ ہاؤس کے سامنے جوتے رکھ کر احتجاج کرنا اسی بات کی علامت ہے اور شاید یہی وہ وجہ ہے جس نے انسان کو سٹیٹ اوف نیچرسے ایک مہذب دنیا کا باسی بنا دیا ہے۔
تو جیسے میں نے پہلے لکھا کہ مثبت تبدیلی فقط شعور سے ہی ممکن ہے۔ایک ذی شعور انسان ہی سہی اور غلط میں فرق کر سکتا ہے، وہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرسکتا ہے، آج کے جمہوری دور میں وہ اپنے ووٹ کا آزادانہ اور ایماندارانہ استعمال کرسکتا ہے،اسی طرح ایک ذی شعور فرد کئ افراد کو شعور کی پٹڑی پر چڑھا سکتا ہے اور افراد سے ہی قوم بنتی ہے اور اگر ایک قوم شعور کی پٹڑی پر چل پڑے تو پھرایک وقت آتا ہے جب معاشرے میں انصاف قائم ہوجاتا ہے،تھانوں سے ڈر نہیں لگتا ہے،نام نہاد حکمران عوام الناس کو پاگل نہیں بنا پاتے،راہبر راہزن نہیں بلکہ محافظ بن جاتے ہیں،جمہوریت کا فقط ڈھنڈورا نہیں پیٹا جاتا بلکہ اس کے ثمرات عوام تک پہنچتے ہیں،جمہوریت جمہور سے ہے جیسی جمہور ویسی جمہوریت باقی آپ خود سمجھدار ہیں،تو ذی شعورجمہور کی وجہ سے معاشرے سے رشوت، سفارش، اقرباپروری، اسمگلنگ،ناجائز منافع خوری، ہوس زر اور کرپشن جیسی برائیوں کا گلا گھونٹ کر فنا کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے اور یہی حقیقی تبدیلی ہے۔
تاریخ انسانیت میں بھی اور آج بھی دنیا کا بہت بڑا مسئلہ انسانی جارحیت ہے۔یہ جارحیت چاہے شدت پسندوں اور دہشت گردوں کی طرف سے ہو یا مختلف ممالک کی ایک دوسرے کے لئے۔جارحیت کا یہ طوفان جس طرف بھی اٹھتا ہے سب کچھ مٹاتا چلا جاتا ہے۔ یہ پاگل پن انسان کو درجہ انسانیت سے گرا دیتا ہے اور اس پاگل پن کاعلاج بھی فقط شعور سے ہی ممکن ہے کیونکہ آج کے ایٹمی دور میں دنیا اس کی ہرگز متحمل نہیں ہو سکتی۔
میرے خیال سے دنیا کی وہ تمام اقوام جو پستی کا شکار ہیں وہاں عرصہ دراز سے مخصوص چہرے اقتدار میں نظر آتے ہیں۔شعور کے کھیل کی طاقت سے یہ لوگ بھی واقف ہیں لیکن اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے یہ لوگوں کے سوچنے کی صلاحیت پر پہرا دے رہے ہیں۔سکولوں کالجوں میں بھی مخصوص طرز کا سلیبس ہے۔اور آج ان نمبروں کی دوڑ نے تو ایسا ہیجان پیدا کردیا ہے کہ ایک مخصوص دائرے سے باہر سوچنے کی سوچ بھی دماغوں میں جنم نہیں لیتی کیونکہ ایسی سوچ ایسے نظاموں اور حکمرانوں کے لئے زہر قاتل ہوتی ہے نتیجتا معاشرے اعلی فکر و سوچ کے حامل لوگ پیدا کرنے کی بجائے مشینیں پیدا کر رہے ہیں جہاں مروت اور احساس نام کی چیز زندہ نہیں رہ سکتی۔ ہر شخص اپنی دھن میں مگن ہے اپنے گھر کی چار دیواری کے باہر کچھ بھی ہوجائے ،فرق نہیں پڑتا۔ ترجیحات تبدیل ہو کے رہ گئی ہیں۔ ایسے میں تو یہی مشورہ دیا جاسکتا ہے۔
بہتر ہے مہ و مہر پہ ڈالو نہ کمندیں
انساں کی خبر لو کہ وہ دم توڑ رہا ہے میری اس تحریر کا اختتام بھی وہیں ہے جہاں سے آغاز ہوا اور فیصلہ قارین کے جواب پر چھوڑ رہا ہوں کہ کیا شعور کے بغیر بھی تبدیلی ممکن ہے؟