سانحہ قصور کیا معصوم زینب جیسے واقعات سے بچا جا سکتا ہے؟؟؟

Posted on January 13, 2018



سانحہ قصور کیا “معصوم زینب” جیسے واقعات سے بچا جا سکتا ہے؟؟؟
( معصوم زینب کے دلخراش واقعہ کے بعد مفاد عامہ کیلئے حبیب جان کی تحریر)

سانحہ قصور پر جس انداز سے Tv چینل NGOs اور پارلیمنٹرین اسکولوں میں تعلیمی نصاب میں تبدیلی اور چائلڈ سیکس ایجوکیشن کو لازمی قرار دینے کی زورو شور سے سفارشات اور تاویلیں پیش کر رہے ہیں دراصل وقتی سوڈے کا جوش، ریٹنگ کی دوڑ اور انٹرنیشنل فنڈنگ کے حصول کے سوا اور کچھ نہیں۔ کوئی ان عقل کے اندھوں سے پوچھے کہ پنجاب یا دیگر صوبوں میں کس شرح سے والدین بچوں کو اسکول بھیجتے ہیں۔ اب تک کہ اعداد و شمار کے مطابق بمشکل %18 والدین بچوں کو اسکول بھیجنے کا کشت کرتے ہیں۔۔۔۔ یہاں عقل کے اندھوں کو یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ہمارے شہر اور دیہاتوں کے %82 بچے گیراجوں، بسوں ویگنوں، کارخانوں، سڑکوں، گھڑوں اور بازاروں میں مختلف قسم کی خدمات انتہائی قلیل ترین تنخواہ پر انجام دیتے ہوئے روزآنہ جنسی درندگی کا شکار ہوتے ہیں۔ سونے پہ سہاگہ روزگار کے چھینے جانے کے خوف سے یہ معصوم بچے کسی کو شکایت کرنے کا رسک بھی نہیں لیتے۔ ہم یہاں ارباب اقتدار اور سماج سدھار تنظیموں کے اکابرین سے گزارش کرتے ہوئے مشورہ دیں گے۔ دنیا کے وجود میں آتے ہی نیکی اور بُرائی کی جنگ جاری و ساری ہے اور یہ سلسلہ تا قیامت تک جاری رہے گا۔ آج بھی سخت قوانین کے باوجود برطانیہ جیسے مُلک میں بھی اس طرح کے اکا دکا واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ لہذا ایسے میں وقتی مذمت اور ٹیسوے بہانے سے بہتر ہے کہ ہمارے پالیمنٹرین سماجی جرائم اور کرائم کے خلاف نیک نیتی اور خلوص کے زریعے قرآن و سنت کی روشنی کے ساتھ ساتھ دور جدید کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے برطانیہ، یورپ اور امریکہ کے قوانین کا جائزہ لے کر سخت ترین قانون سازی کریں تو کوئی وجہ نہیں ہم پاکستان میں جنسی درندگی اور دیگر قباحتوں کو کسی حد تک کم کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔ آخر میں ایک اور گزارش بھی ہے کہ ہمارے Top-5 Tv چینل روزآنہ شام سات بجے اور ہفتہ اور اتوار صبح لازمی بچوں کے پروگرام جیسے “انکل سرگم” کلیاں” سارے دوست ہمارے” جن چاچا” پُتلی تماشہ” طرز کے پروگرام سرکاری اور نجی اداروں کے تعاون سے سبق آموز کہانیوں میں بچوں کی سماجی تربیت کا سلسلہ شروع کر کے احسن طریقہ سے شیطان صفت درندوں کو شکست دی جاسکتی ہے۔ والدین کو بھی چاہئیے کہ بچوں کی سن بلوغت کی عمر تک پہنچنے کے عمل کو دوست بن کر مانیٹر کریں بلکہ ہر وہ بات شئیرز کریں جو ان کی حفاظت اور بہتری کیلئے ضروری ہے۔ بچوں کی حفاظت ریاست سے پہلے والدین ہی کی ذمہ داری ہیں۔