ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں؟ عثمان حیدر(شریک جرم)

Posted on January 10, 2018 Articles



نئے سال کی آمد اور ایک دل دہلا دینے والی اخبار کی سرخیوں میں سسکتی آہوں کے ساتھ تحریر سات سالہ معصوم بچی کے ساتھ درندگی کے واقعہ نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا وہیں اس واقعہ نے ہمارے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے کہ کیا ایسا معاشرہ جو حیوانیت کی اس انتہا تک کو چھو سکتا ہے وہ انسانی معاشرہ کہلانے کا مستحق ہے؟۔گڑیا سے کھیلنے والی گڑیا کو کس جرم کی سزا ملی۔ ہم تو زمانہ جاہلیت کو بھی پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ اس متاثرہ بچی کا جرم کیا ہے کہ اس نے ایک ایسے معاشرے میں آنکھ کھولی۔ جہاں سب سو رہے ہیں۔ایک پورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ 11 بچے جنسی زیادتی کا شکار بنتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار پاکستان میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے ‘ساحل’ نے جاری کیے ہیں۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2016 کے دوران بچوں سے جنسی زیادتی اور تشدد کے واقعات میں دس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ادارہ کہتا ہے کہ سال 2017میں بچوں سے جنسی زیادتی سمیت اغوا، گمشدگی اور جبری شادیوں کے 4139 کیس رجسٹرڈ ہوئے اور یہ تعداد 2015 کے مقابلے میں دس فیصد زیادہ ہے۔
کروؤل نمبرز’ یا ‘ظالمانہ اعداد و شمار’ کے عنوان سے شائع کی جانے والی اس رپورٹ کے لیے ادارے نے86 قومی، علاقائی اور مقامی اخبارات کی نگرانی کی۔2017 تک بچوں کے خلاف کیے گئے جو بڑے جرائم رپورٹ ہوئے اْن میں اغوا کے 1455 کیس، ریپ کے 502 کیس، بچوں کے ساتھ بدفعلی کے 453 کیس، گینگ ریپ کے 271 کیس، اجتماعی زیادتی کے 268 کیس جبکہ زیادتی یا ریپ کی کوشش کے 362 کیس سامنے آئے۔ان واقعات میں سب سے زیادہ سنگین جرم زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں کا قتل ہے۔ رپورٹ کہتی ہے کہ جنسی حملوں کے بعد قتل کے کْل 100 واقعات سامنے آئے۔ادارے کی تحقیقات کیمطابق بچوں سے جنسی زیادتی اور تشدد کرنے والے مجرمان میں گھر کے اندر کے افراد، رشتہ دار اور واقفِ کار بھی ہو سکتے ہیں۔
زیادتی کا شکار ہونے والے 76 فیصد کا تعلق دیہی علاقوں جبکہ 24 فیصد کا تعلق شہروں سے ہے۔ 2017ء کے دوران بچوں سے جنسی زیادتی اور تشدد کے واقعات میں12 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ بچوں پر تشدد کرنے والوں میں زیادہ تعداد ان افراد کی تھی جو بچوں کو جانتے تھے۔ ان کی تعداد1765 ہے۔ اعدادو شمار کے مطابق بچوں سے زیادتی کرنے والے افراد 798اجنبی ، 589ا جنبی واقف کار، 76 رشتہ دار، 64 پڑوسی، 44 مولوی، 37 اساتذہ اور 28 پولیس والے ملوث پائے گئے ہیں۔ملزمان بچوں کو تحائف دیکر ورغلاتے ہیں، اجنسی زیادتی میں کامیابی کے بعد یہ افراد بچوں کو بلیک میل کرتے ہیں۔پنجاب میں 2676، سندھ میں 987، بلوچستان میں 166، اسلام آباد میں 156، خیبر پختونخوا میں 141، آزادکشمیر میں 9، اور گلگت بلتستان سے 4 واقعات رپورٹ ہوئے۔اغواء ہونے والوں میں 11 سے 18 سال کے بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ 16 سے 18 سال کی لڑکیوں کے اغوا کے واقعات میں اضافہ جبکہ لڑکوں کے اغوا کے واقعات میں کمی ریکارڈ کی گئی ۔کم عمری کی شادی کے کل177، 176 واقعات میں سے 112 صوبہ سندھ میں جبکہ 43 پنجاب میں پیش آئے۔میڈیا کے لئے موجود ضابط اخلاق کے باوجود 47 فیصد بچوں کے نام، 23 فیصد بچوں کے والدین کے نام جبکہ چھ فیصد واقعات میں نام کے ساتھ تصاویر بھی شائع کی گئیں۔جبکہ2018 پنجاب میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں اچانک ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور گذشتہ 6 ماہ کے دوران صرف قصور شہر میں 5 سے 10 سال کی عمر کے 10 کم سن بچوں کو ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا۔ان مقتولین کی لاشیں زیر تعمیر مکانات سے برآمد کی گئیں۔رواں سال جنوری سے شروع ہونے والے ان حولناک واقعات میں ریپ کا نشانہ بنائے جانے والے 10 متاثرہ بچوں میں ایک 8 سالہ لڑکی بھی شامل ہے، جسے حال ہی میں درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔پولیس کو مذکورہ لڑکی کی لاش 8 جولائی کو شاہ عنایت کالونی کے ایک زیر تعمیر مکان سے ملی، یہ لڑکی اپنے گھر سے ٹیوشن سینٹر کے لیے نکلی تھی جس کے بعد لاپتہ ہوگئی۔مقتولہ تیسری کلاس کی طالبہ تھی اور اس کے والد ایک گھریلوں ملازم ہیں۔گذشتہ 6 ماہ میں جن بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، ان میں 7 لڑکیاں اور 3 لڑکے شامل ہیں۔
ہر واقعے کے بعد متاثرہ خاندان کے ہمراہ شہریوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا بعد ازاں پولیس کی یقین دہانی کے بعد منتشر ہوجاتے تھے، کہ واقعے میں ملوث افراد کو جلد کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔تاہم پولیس کسی بھی کیس کو حل کرنے میں ناکام رہی جبکہ پولیس کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ دو مبینہ ریپ ملزمان کو ان کے ساتھیوں نے مقابلے میں ہلاک کردیا ہے۔خیال رہے کہ دو سال قبل حسین خان والا میں سیکڑوں بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے اور اس کی ویڈیو بنانے کے بعد ان کے اہل خانہ کو بلیک میل کرنے کے واقعات نے قصور کی تاریخ میں ایک ناقابل یقین نقوش چھوڑے تھے۔بچوں کو نشانہ بنانے کے واقعات رواں سال جنوری میں شروع ہوئے، پہلا واقعہ کوٹ پروین میں پیش آیا تھا جس میں 5 سالہ لڑکی کو ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا تھا اور اس کی لاش زیر تعمیر مکان سے ملی تھی، تاہم پولیس اس کے قاتلوں تک پہنچنے میں ناکام رہی۔ ایک کم سن لڑکی کی لاش علی پارک سے برآمد ہوئی تھی اور یہ لاش بھی زیر تعمیر مکان سے برآمد کی گئی تھی، ان واقعات نے لوگوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔
شاہ عنایت کالونی کے رہائشی محمد اکبر کا کہنا تھا کہ ’ان واقعات کے بعد میں نے اپنی بیٹیوں کو ٹیوشن سینٹر جانے سے روک دیا ہے، یہ خوفناک اور دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے‘۔واضح رہے کہ ایسے واقعات کے فوری بعد پولیس متعدد افراد کو گرفتار کرتی ہے تاہم ان کیسز میں مزید پیش رفت دیکھنے میں نہیں آتی۔اس ساری صورت حال پر سول سوسائٹی کے رضاکاروں نے پولیس کے تحقیقاتی عمل کا تنقید کا نشانہ بنایا ہے، ان کے مطابق نہ تو پولیس افسران کو متعلقہ ٹریننگ دی جاتی ہے اور نہ ہی وہ تحقیقات کے جدید طریقہ کار سے واقف ہیں۔
اور بقعول شاعر ۔۔۔یہ کوچے یہ نیلام گھر دلکشی کے۔۔یہ لٹتے ہوئے کارواں زندگی کے۔۔ کہاں ہیں؟ کہاں ہیں محافظ خودی کے
ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں؟