امریکہ اور اسرائیل کو ایک کے بعد ایک شکست

Posted on December 22, 2017 Articles



امریکہ اور اسرائیل کو ایک کے بعد ایک شکست / ناصر
اسرائیل کی مدد کرنے والے ایک کے بعد ایک کرکے شکست سے دوچار ہو رہے ہیں حالانکہ اسی داعش کو دیکھ لیجیے کہ جس نے تقریباً چھ برس تک پورے خطے کو آگ و خون میں غرق کیے رکھا اور اسرائیل کےلیے امن و امان فراہم کیا۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ یہ داعش اور النصرۃ نامی دہشت گرد گروہ اسلام کا نام لے کر، پیغمبر اسلام (ﷺ) کے نام کا جھنڈا لے کر نکلے اور ایسی بد ترین سفاکیت کی سیاہ تاریخ رقم کی کہ زبان بیان کرنے سے عاجز ہے۔
ان دہشت گرد گروہوں نے نہ صرف مسلم دنیا کو تہس نہس کیا بلکہ اپنے آقا اسرائیل کو امان دیئے رکھی اور اس کےلیے مواقع اور وقت فراہم کیا کہ اسرائیل اپنے ناپاک عزائم کو آسانی سے پھیلاتا رہے۔ بہرحال، خدا کا کرم یہ ہے کہ ان امریکی و اسرائیلی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کو شکست کھانی پڑی اور ذلت و رسوائی ان کے مقدر کا حصہ بنی۔
اب امریکہ اور اسرائیل ان دہشت گرد پٹھو گروہوں داعش اور النصرۃ کی شکست پر شدید پریشانی میں مبتلا ہیں کیونکہ ان دہشت گردوں کو جس مقصد کےلیے بنایا اور پال پوس کر یعنی اسلحہ اور دولت دے کر پروان چڑھایا گیا تھا، وہ سب کا سب اب خاک ہوچکا ہے۔ بہرحال اب اسرائیل کی بوکھلاہٹ اس لئے بھی زیادہ بڑھ چکی ہے کیونکہ پہلے ماضی میں 2006 میں اسرائیل براہ راست جنگ میں بھی لبنان کی اسلامی مزاحمتی تحریک کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا تھا جس کے بعد نئے مرحلے میں ان دہشت گرد گروہوں کو پروان چڑھانے کی ناپاک منصوبہ بندی شروع کی گئی تھی۔ اسرائیل کی بوکھلاہٹ اس لئے بھی بڑھتی جارہی ہے کیونکہ لبنان ہی کی اسلامی مزاحمت حزب اللہ کے خلاف سیاست کے میدان میں جو محاذ کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی تھی وہ بھی ناکام بلکہ یوں کہیے کہ بری طرح ناکام ہوئی ہے۔
اب کچھ دن گزر جانے کے بعد پھر اسرائیل شدید بوکھلاہٹ میں لبنان سے کسی نئی ممکنہ جنگ کا عندیہ دے رہا ہے جس کا ہدف ہمیشہ کی طرح حزب اللہ کو قرار دیا جارہا ہے اور صہیونی ذرائع ابلاغ پر اس بحث کی بہت تکرار کی جارہی ہے کہ لبنان کی اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کو غیر مسلح اور ختم کیا جائے گا اور اس کےلیے اسرائیل جنگ کے آپشن پر غور کررہا ہے۔ در اصل اسرائیل کا ایک مرتبہ پھر جنگ میں براہ راست داخل ہونے کی باتیں کرنا یہ ثابت کر رہا ہے کہ خطے میں اسرائیلی نصب شدہ منصوبے اور آلہ کار دہشت گرد گروہ اور سیاست دان بالخصوص امریکا سب کے سب فلسطین کی جدوجہد آزادی میں سرگرم عمل اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کو گھٹنے ٹکوانے میں ناکام ہوئے ہیں۔
البتہ اسرائیل میں تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے لبنان یا حزب اللہ کے خلاف کسی بھی قسم کی شروع کردہ جنگ کے نتائج اسرائیل کےلیے بھیانک ہوں گے کیونکہ امریکا اور اسرائیل پہلے ہی پورے مشرق وسطیٰ میں اپنی پالیسیوں میں ناکام ہوچکے ہیں۔ تاہم ایسے حالات میں کوئی بھی نئی جنگ اسرائیل کےلیے شدید نقصان دہ ہوگی۔ یہ تجزیات اور تبصرے ایسے وقت میں سامنے آنا شروع ہوئے ہیں کہ جب غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے ایک بیان میں حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ البتہ ایسے وقت میں اسرائیل میں موجود متعدد ماہرین نفسیات جنگ کا کہنا ہے کہ یہ صہیونی غاصب ریاست اسرائیل کی تاریخ رہی ہے کہ جب جب حزب اللہ کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا ہے اس کے بعد آنے والی ہر قیادت اسرائیل کے شدید خطرے کی علامت ثابت ہوئی ہے۔ تاہم اسرائیل کا ایسے حالات میں کسی نئی جنگ کو شروع کرنے کے بارے میں سوچنا احمقانہ اور خود کشی کرنے کے مترادف اقدام ہوگا۔
اور دوسری طرف یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے امریکی فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ میں قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی گئی۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں قرارداد کے حق میں 128 جبکہ مخالفت میں 9 ووٹ ڈالے گئے۔193 ملکی اسمبلی کے 35 رکن ممالک ووٹنگ کے عمل سے غیر حاضر رہے۔
بہرحال، خلاصہ یہ ہے کہ داعش کے خاتمے اور شکست کے بعد امریکا و اسرائیل کی بوکھلاہٹ بڑھتی جارہی ہے اور جو کام وہ پہلے ماضی میں براہ راست نہ کرسکے تھے، اب داعش جیسے سفاک دہشت گردوں کی مدد سے کرنا چاہتے تھے لیکن اس مرتبہ بھی ناکام ہوئے ہیں جبکہ اب سیاسی محاذ پر سعد حریری کی ناکامی کے بعد عرب لیگ کی طرف سے حزب اللہ کے خلاف دیئے جانے والے بیانات واضح طور پر اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکا، اسرائیل، خلیجی عرب ممالک، سب کے سب 2006 میں غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کی شکست کے بعد سے حزب اللہ لبنان کو ختم کرنے کے درپے ہیں اور خطے میں شروع کی جانے والی دہشت گرد گروہوں کی سفاکیت بھی دراصل حزب اللہ اور اس جیسی دیگر فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریکوں بالخصوص حماس و دیگر کے خلاف سازش تھی جو رفتہ رفتہ ناکامی کا شکار ہوئی ہے۔