سعد حریری کے استعفی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟

Posted on November 16, 2017



سعد حریری کے استعفی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟
لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری کا لبنان سے یکایک غائب ہونا اور پھر ایک دم سعودی عرب میں ریاض سے اپنے استعفیٰ کا اعلان کرنا اب ایک عالمی معمہ بن چکا ہے جو کسی کی سمجھ سے باہر ہے۔ سعد حریری پچھلے ہفتے اچانک سعودی عرب پہنچ گئے۔ اور عین اسی روز جس روز سعودی عرب میں گیارہ شہزادوں کے ساتھ سو سے زیادہ اہم افراد بدعنوانی کے الزام میں گرفتار ہوئے تھے۔ حریری نے لبنان کی وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ایک ٹیلی ویژن پیغام کے ذریعہ استعفیٰ دے دیا۔
ظاہر ہے کہ یہ ایک حیرت ناک واقعہ تھا۔ ایک ملک کا وزیر اعظم دوسرے ملک سے اپنے استعفیٰ کا اعلان کرے، اس خبر نے خصوصاً عالم عرب اور ساتھ ہی ساری دنیا کو چونکا دیا۔ پھر حریری نے اپنے استعفیٰ میں یہ بھی کہا کہ وہ اس لیے مستعفی ہو رہے ہیں کہ ان کی ’جان خطرے میں‘ ہے۔ حریری کو کس سے جان کا خطرہ تھا!
اس معمہ کو سمجھنے کے لئے تھوڑی سی وضاحت کی ضرورت ہے سعد حریری لبنان میں سعودی مفاد کے رہبر ہیں۔ ادھر دوسری جانب لبنان حکومت میں حزب اللہ ایرانی حلیف ہے۔ فی الحال مشرق وسطیٰ سعودی عرب اور ایران کے درمیان دو خیموں میں بٹ چکی ہے۔ ظاہر ہے کہ حریری کے استعفیٰ کے ذریعہ سعودی عرب حزب یعنی ایران کو نشانہ بنا رہا تھا۔
ان دنوں سعودی شہزادہ محمد بن سلمان نے یہ طے کر رکھا ہے کہ وہ ایران کو عرب معاملات سے بے دخل کر کے رہیں گے۔ لیکن یہ کوئی آسان بات نہیں ہے۔ کم و بیش آدھا عالم عرب اب ایران کے زیر سایہ ہے۔ عراق، لبنان اور شام وہ تین عرب ممالک ہیں جہاں ایران کی مرضی چلتی ہے۔ عراقی ملیشیا عراق میں، حزب اللہ لبنان میں اور شامی صدر حافظ الاسد خود ایرانی حلیف ہیں جن کے ذریعہ ایران ان تین عرب ممالک کے معاملات میں مستقل ایک ’پلیئر‘ ہے۔ پھر سعودی سرحد پر یمن میں حوثیوں کے ذریعہ یمنی معاملات میں بھی ایرانی دخل اندازی ہے۔ اس کے علاوہ حال میں قطر کے ساتھ سعودی تعلقات خراب ہونے کے بعد قطر نے ایران کے ساتھ نہ صرف سفارتی تعلقات قائم کر لیے ہیں بلکہ ایران و قطر کے تجارتی تعلقات بھی اب عروج پر ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایران کے بڑھتے اثرات سلفی سعودی عرب کے لیے ایک پریشان کن بات ہے۔ یہی سبب ہے کہ سعودی عرب کی سرحد پر یمن میں ایران کے بڑھتے اثرات کو روکنے کے لیے سعودی عرب نے عرب ممالک کے اتحاد کے ساتھ حوثیوں کے خلاف ایک جنگ چھیڑ رکھی ہے جس کو امریکی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔
شہزادہ سلمان 32 برس کے ایک کم عمر سعودی شہزادے ہیں جو اپنے والد بادشاہ سلمان کی وفات کے بعد سعودی عرب کے فرمانروا مقرر ہوں گے۔ آل سعود کی روایتوں کو توڑ کر اور گیارہ اہم شہزادوں اور سو سے زیادہ دولت مند تاجروں، عالموں اور سیاسی حریفوں کو جیل بھیج کر وہ اس مقام تک پہنچے ہیں۔ شہزادہ محمد جس تیزی اور جس کم عمری میں اس مقام تک پہنچے ہیں وہ نہ صرف ایک چونکا دینے والی بات ہے بلکہ ان کے فیصلوں نے پورے سعودی نظام میں ایک ہلچل بھی مچا دی ہے۔
شہزادہ سلمان نے سعودی نظام کی روایتوں کو توڑا ہے۔ مثلاً وہ اب نہ صرف بادشاہ کے بعد ’نمبر دو‘ ہیں بلکہ وہ بحیثیت وزیر دفاع سعودی فوج کے نگراں بھی ہیں۔ شہزادہ انٹرنل سیکورٹی انچارج بھی ہیں۔ یہ عہدہ انھوں نے شہزادہ نائف کو بطور انٹرنل سیکورٹی منسٹر برطرف کر کے حاصل کیا ہے۔ دراصل نائف کو پہلے کراؤن پرنس مقرر کیا گیا تھا۔ لیکن بادشاہ نے یکایک ان کو اس عہدے سے برطرف کر دیا اور خود اپنے بیٹے محمد کو کراؤن پرنس مقرر کر دیا۔ نائف کے بارے میں خبریں ہیں کہ وہ اب نظر بند ہیں۔ اس طرح انٹرنل سیکورٹی کا اہم عہدہ بھی محمد بن سلمان کے ہاتھوں میں آ گیا۔ پھر محمد نے حال ہی میں مرحوم بادشاہ عبداللہ کے بیٹے شہزادہ متعب کو برطرف کر کے نیشنل گارڈس کا کنٹرول بھی اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔ یعنی شہزادہ محمد بن سلمان کے ہاتھوں میں ملک کا سیکورٹی نظام پوری طرح آ چکا ہے۔ اب وہ جس کو چاہیں قید کریں اور جس کو چاہیں آزاد رکھیں۔ ظاہر ہے کہ جس سے خطرہ ہوگا وہ سلاخوں کے پیچھے اور جو ہاں میں ہاں ملائے گا وہ آزاد ہوگا۔ فی الحال سعودی عرب میں یہی ہو بھی رہا ہے۔
کسی بھی ملک میں چلتے ہوئے نظام کے استحکام کو جھنجھوڑ دیا جائے تو اس ملک میں فطری طور پر رد عمل بھی ہوتا ہے۔ سعودی عرب میں نظام ہر سطح پر ہل چکا ہے۔ خود شاہی خاندان یعنی آل سعود میں پھوٹ پڑ چکی ہے۔ پھر شہزادہ محمد کے یکایک بادشاہی کی کگار تک پہنچنے میں ملک کے اہم قبائلی لیڈروں سے کوئی رائے مشورہ نہیں کیا گیا ہے۔ اسی طرح سعودی نظام کا دوسرا اہم ستون یعنی سلفی علماء کے گروہ کی بھی اس رد و بدل میں کوئی کھلی رائے شامل نہیں ہے اور شہزادہ محمد کے مخالف علماء بھی نظر بند ہیں۔
لیکن شہزادہ سلمان نہ تو کسی کے بس میں ہیں اور نہ ہی اب ان کو کوئی بادشاہ بننے سے روک سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے سعودی دورے کے بعد امریکہ کی پوری حمایت محمد بن سلمان کو حاصل ہے۔ اب شہزادہ سلمان کو صرف خود سعودی عربیہ کے اندر اپنے حق میں رائے ہموار کرنی ہے۔ خاندانی جھگڑوں اور علماء کی مخالفت کے بعد سلمان کے پاس محض دو کارڈ بچے ہیں۔ اولاً عام سعودیوں میں ان کی مقبولیت اس قدر ہو جائے کہ کسی قسم کی خاندانی مخالفت ان کے آڑے نہ آ سکے۔ دوسرا، وہ عرب ممالک میں ایران کے بڑھتے قدم روک سکیں تاکہ وہ عالم عرب کے ایک قد آور لیڈر کی حیثیت سے سعودی عرب کے اندر اور باہر دونوں جگہ ایک اہم شخصیت بن کر ابھر سکتے ہیں۔
سعودی عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کے لیے وہ سعودی معاشرے کو ایک اور کھلا اور آزاد معاشرہ بنانے میں مصروف ہیں۔ مثلاً جلد ہی سعودی عورتوں کو ڈرائیونگ کی اجازت مل جائے گی اور عورتوں کو ملک کے کھیل اسٹیڈیم میں داخلے کی بھی اجازت ہوگی۔ اسی کے ساتھ شہزادہ محمد نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ملک میں ’لبرل اسلام‘ کے موافق ہیں۔ یعنی اس طرح عام سعودیوں کو علماء کی نگہبانی سے آزادی مل سکتی ہے۔ یعنی سعودی عرب کے اندر شہزادہ محمد ایک کھلے اور نسبتاً آزاد معاشرے کی داغ بیل رکھ کر عام سعودیوں میں اپنے لیے وفاداری کا جذبہ پیدا کر رہے ہیں تاکہ وہ بغیر کسی چیلنج کے بطور بادشاہ حکومت کر سکیں۔
عالم عرب میں اپنی حیثیت و قد کو بلند کرنے کے لیے انھوں نے ایران کے پر کترنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ان کی نگاہیں یمن اور لبنان پر ہیں۔ یمن کے خلاف سعودی فوج ہوائی حملوں میں مصروف ہے۔ لبنان میں سعد حریری سعودی حلیف ہیں۔ وہ کم و بیش اس وقت سعودی قید میں ہیں۔ حالانکہ خود حریری نے اتوار کے روز ایک ٹی وی پروگرام میں اس بات کا اعلان کیا کہ وہ ’’آزاد ہیں اور جلد ہی لبنان واپس لوٹیں گے۔‘‘ لیکن لبنان سمیت دنیا بھر میں کوئی اس بات کو ماننے پر تیار نہیں ہے کہ حریری اس قدر اپنی مرضی کے مالک ہیں۔
سعد حریری کے استعفیٰ کے ذریعہ شہزادہ سلمان لبنانی حکومت کا استحکام ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا خیال غالباً یہ تھا کہ اس طرح لبنان میں سیاسی بحران پیدا کر کے وہ ایران کے حلیف حزب اللہ کو حکومت سے باہر کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور اس طرح لبنان میں ایران کا اثر کم ہو جائے گا۔
لیکن سیاست ایک ایسا کھیل ہے جس کو اکثر شروع تو اپنی مرضی سے کیا جا سکتا ہے لیکن ختم اپنی مرضی سے نہیں کیا جا سکتا ہے۔ فی الحال لبنان میں سعد حریری کے خلاف نہ صرف ہمدردی کی لہر چل پڑی ہے بلکہ پورا لبنان ان کی ’رہائی‘ کی مانگ کر رہا ہے۔ بیروت اور دیگر شہر میں ہزارہا افراد ان کی رہائی کی حمایت میں ’میراتھن ریس‘ میں شریک ہو رہے ہیں اور اس مانگ کو حزب اللہ کی بھی حمایت حاصل ہے۔ یعنی لبنان میں سعودی عرب لبنانی عوام کا دشمن بنتا جا رہا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ لبنان میں شہزادہ محمد بن سلمان کا کھیل بگڑتا جا رہا ہے اور اس طرح شہزادہ سلمان کا پلان بھی بگڑتا جا رہا ہے۔
سعد حریری کا استعفیٰ اب ایک معمہ ہی نہیں بلکہ ایک پیچیدہ مسئلہ بھی بن گیا ہے جو اب مشرق وسطیٰ میں سعودی-ایران رسہ کشی کا محور بنتا جا رہا ہے۔ عالم عرب کی سیاست کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ لیکن حریری کی لبنان واپسی اب ضروری ہوگئی ہے جو سعودی عرب کے لیے ایک گھاٹے کا سودا ہو گا ۔