Jagoo

Posted on November 15, 2017



لمحہ لمحہ باخبر ہونے کا دعویٰ کرنے والا،
عالمی و پاکستانی میڈیا،
کتے، بلی کی امریکا یا کسی اور ملک میں ہلاکت پر بریکنگ نیوز چلانے والا،
بھارتی سپراسٹار یا کسی اور ملک کے اسٹار کی شادی، طلاق، منگنی، موت سمیت انکے گھر میں بچہ پیدا ہونے پر قوم کے کئی گھنٹے ضائع کرنے والا میڈیا
*کیا فرزند رسول اللہ (ص) کے چہلم (اربعین ) کے موقع پرانکے مزار کی جانب 4 کروڑ سے زائد افراد کا نجف تا کربلا تاریخی اورمنفرد پیدل واک پرخاموش کیوں؟*
انتہائی افسوس کا مقام ہے،
یہ تعصب نہیں ہے تو کیا ہے؟ کہیں کسی ملک میں ایک شہر سے دوسرے شہر سو 100 افراد پیدل سفر کریں تو یہ شیطانی میڈیا اسکی بھرپور کوریج کرتا ہے. اس ایونٹ کے ایک ایک پہلو سے آگاہ کرتا ہے اس پر لائیو تبصرے اور تجزیئے پیش کئے جاتے ہیں
لیکن
عشق امام حسین علیہ السلام میں پیدل نجف سے کربلا تک سفر کرنے والے کروڑوں افراد کی اس دنیا کے سب سے بڑے اجتماع کی ایک خبر بھی عالمی و پاکستانی میڈیا پر دیکھنے کو نہیں ملتی۔

*اسکی وجہ کیا ہے؟*

کہیں یہ بات تو نہیں کہ دنیا اور باالخصوص پاکستانیوں پر حقیقت آشکار نہ ہونے لگ جائے
*اور*
نہ ہی یہ غلام اور بکاؤ میڈیا *لبیک یا حسین* علیہ السلام
اور
*لبیک یا رسول اللہ* صل اللہ علیہ والہ وسلم کی صداؤں کو عوام تک پہنچاتا ہے.
کیا ہم یہ سمجھنے میں حق بجانب نہیں کہ شاید میڈیا نے امام حسین علیہ السلام کو ایک فرقہ تک محدود کر دیا ہے.
لیکن حسین (ع) تو انسانیت کے امام ہیں.
اگر یہ میڈیا خبر کی تلاش میں ہے تو کیا یہ خبر نہیں کہ نجف سے کربلا کی جانب پا پیادہ سفر کرنے والے صرف شیعہ مسلمان نہیں بلکہ کئی ہزار اہلسنت برادران بھی اس سفر عشق میں شریک ہیں.
یہی نہیں بلکہ ہندو، سکھ ،عیسائی اور کئی اور مذاہب کے ماننے والے انسانیت کے امام کی قبر مطہر پرجانے کے لئے پاپیادہ نجف سے کربلا تک سفر کر رہے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ سفر اس اعتبار سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اس کے شرکاء دنیا کے گوشے گوشے سے تشریف لاتے ہیں، امریکہ، یورپ، آسٹریلیا، برصغیر، افریقہ سے نیازمندگان اپنا ہدیہء عقیدت پیش کرنے کیلئے اس سفر میں شریک ہوتے ہیں۔

کیا یہ خبر نہیں کہ نجف سے کربلا تک کے اس لمبے سفر میں کوئی شخص بھوکا پیاسا نہیں رہتا.
عراقی عوام اپنی مدد آپ کے تحت ان زائرین کے لئے کھانے پینے کا اہتمام کرتے ہیں، عارضی ہسپتال قائم کیے جاتے ہیں.
آرام گاہیں بنائی جاتی ہیں.
*بریکنگ نیوز* تو یہ ہے کہ یہ سب فی سبیل اللہ ہوتا ہے، کسی بھی قسم کی خدمت کے عوض ایک روپیہ بھی ان زائرین سے وصول نہیں کیا جاتا،
*موجودہ دنیا میں خدمت اورعقیدت کا یہ عظیم الشان اجتماع عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب کیوں نہیں ہو سکا؟*
اس بلیک آؤٹ کی وجوہات کیا ہیں، کیوں یہ بائیکاٹ کیا جا رہا ہے؟
ہمارا یہ عقیدہ ہے اور عالمی میڈیا کے ردعمل سے ظاہر بھی ہے کہ آج بھی حسینیت سربلند و سرفراز ہے اور یزیدیت آج بھی حیسنیت سے خوفزدہ اورلرزہ براندام ہے، آج بھی یزید کے روحانی فرزند حسینیت کے تفاخرات سے کانپ رہے ہیں کہ اگر حسینی تظاہرات دنیا پرظاہرہوئے توا نکے چہرے بے نقاب ہوجائیں گے، وہ پہچانے جائیں گے، حسینیت کی عظمت قلب انسانیت کو فتح کرلے گی، آج بھی انہیں حسینیت کے ہاتھوں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے،
وہ حسینیت اور حق کا سامنا کرنے سے گھبرا رہے ہیں،
وہ لاکھ چھپیں، لاکھ حیلے بہانے کریں لیکن حق نے آشکار ہونا ہے، شکست کو انکا مقدربننا ہے.

*عالمی میڈیا کیلئے یہ خبر نہیں کیوں؟*

وجوہات بہت ساری ہیں ایک بنیادی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ خبر عالمی سرمایہ دارانہ میڈیا کے لئے شدید خطرنا ک خبر ہے، کیونکہ اس سفر میں سرمایہ داری کی اعلانیہ خلاف ورزی کی جارہی ہے، جو سرمایہ دارانہ نظام پیسوں کو جمع کرنے کی تلقین کرتا ہے کیا اسکا میڈیا اس خبر کو نشر کرے گا کہ عشق کی انتہا میں عراق و دنیا بھر کے عزادار بغیر کسی غرض کے پانی کی طرح پیسہ بہارہے ہیں، مفت کھانا پینا، رہنا اور عوام کی خدمت کی جارہی ہے۔ المختصر یہ کہ اربعین پر نجف سے کربلا کے دوران عزاداروں کا یہ سفر عالمی سرمایہ دارانہ نظامِ کفر کے لئے شدید خطرہ کی گھنٹی ہے جو تمام نظاموں کی نفی اور ہدف حسینی (ع) کی جانب کروڑوں افراد میں تحرک پیدا کررہی ہےاور ہدف حسینی (ع) ہر یزیدی نظام کی نابودی
اورالہی نظام کی سربلندی کا نام ہے۔

*عشق و تجارت کا فرق صاف ظاھر ھے!!*

• دونوں جگہ مسلمانوں کو مہمان بنا کر بلایا گیا!

• ایک جگہ ڈالروں اور ریالوں کے حصول کیلئے خدمت کی جاتی ھے۔

• دوسری جگہ مفت و فی سبیل اللہ خدمت کا جذبہ موجزن ھے!

• ایام حج کے نزدیک آتے ہی اشیائے خورد و نوش میں بلا کا اضافہ دیکھنے میں آتا ھے.

• کربلا میں ایام اربعین آتے ہی عطاء، بخشش، ھدیہ، فی سبیل اللہ دینے کے مناظر جلوہ افروز ہوتے ہیں!

• سعودیہ میں ایک ریال کی پانی کی بوتل ۵ ریال میں فروخت کر کے مال میں اضافہ کیا جاتا ھے!

• سعودیہ میں یا حاجی رُح رُح (حاجی چلو آگے نکلو) کی آوازیں آتی ہیں!

• کربلا میں خوش آمدید، اھلاً و سھلاً و مرحبا اور ویلکم کی دلنشین آوازیں کانوں سے ٹکراتی ہیں!

• ایک جگہ 2 ملین زائر اور دوسری جگہ 40 ملین زائر!

• سعودی عرب میں موسم حج کو تجارت کیلئے استعمال کیا جاتا ھے!

• کربلا میں دوسروں کو اپنے پاس سے دینے اور عطا کر کے عشق کی داستان رقم کی جاتی ھے۔

• سعودی عرب کی جدید شاہراہوں اور سرنگوں میں لوگ مر جاتے ھیں۔

• کربلا کی چھوٹی اور عام سی شاھراھوں میں لاکھوں لوگ با آسانی قدم اٹھاتے ھیں!

• ایک جگہ کچرے اٹھانے والی مشینوں اور ٹرکوں میں حاجیوں کی لاشوں کو ڈالا جاتا ھے۔

• کربلا میں زائرین امام کے قدموں کو چوما جاتا ھے!

• سعودی شہزادے اپنے شاھی کانوائے کے ھمراہ اپنی جدید گاڑیوں میں سفر کر کے مناسک حج ادا کرتے ھیں!
• کربلا میں عاشقان ابا عبد اللہ الحسین (ع) 80 کلو میٹر کا فاصلہ پائے پیادہ طے کرتے ھیں!

*ھے نا فرق کی بات!*

اسی کعبے کے احترام کیلئے ہی تو امام حسین (ع) نے قیام کیا تھا