محمد بن سلمان کے اقدامات کے اثرات

Posted on November 14, 2017



موجودہ عالمی حالات میں اس وقت سعودی عرب میں آنے والی بڑی تبدیلیاں ہر فورم اور ہر جگہ موضوع بحث بنی ہوئی ہیں مکتب دیوبند سے منسلک لوگ بھی اس حوالے سے اپنی رائے پیش کرتے نظر آتے ہیں لیکن بعض اوقات اپنی رائے پیش کرتے وقت اعتدال کا دامن ہاتھ سے چھور دیتے ہیں اور شدت پسندانہ رائے اختیار کرتے نظر آتے ہیں ان حالات میں علمائے دیوبند کا فرض ہے کہ وہ ہر فورم پر عوام کو صحیح صورحال سے آگاہ رکھیں ورنہ قوم پہلے ہی چھوٹے موٹے اختلافات کی بنا پر مختلف گروہوں میں بٹی ہوئی ہے اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان کا ہر دیوبندی بلکہ ہر سچا مسلمان سعودی عرب میں خانہ خدا اور رسول اللہ کے روضہ اقدس کی موجودگی کی وجہ سے سعودی فرمانرواؤں کو ایک خاص تقدس دیتا ہے اس کا عملی مظاہرہ اپ تب دیکھتے ہیں جب سعودی عرب کا کوئی بھی اہم سیاسی یا مذہبی عہدے دار پاکستان تشریف لاتا ہے تو مسلمان ان پر جان تک چھڑکنے کے لئے تیار ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی کہیئے کہ سعودی حکمرانوں کو اس عقیدت کا یا تو علم نہیں اگر علم ہے تو وہ طاقت کے نشے میں یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ سادہ مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ کھیل رہے ہیں میرا ذاتی خیال ہے کہ موجودہ دنیا میں سب سے خوش قسمت لوگ ال سعود ہیں جن کو باری تعالی نے اپنے گھر اور اپنے حبیب کے روضہ کی رکھوالی سونپی ہے لیکن اس سعادت سے فیض یابی کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آپ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے شرمندگی کا باعث بن جائیں۔
آل سعودکی اسلام اور پاکستان کے خدمات سے کسی کو انکار نہیں ہے لیکن جب سے شاہ سلمان نے جذبہ پدری سے مجبور ہو کر سعودی امور کی باگ دوڑ اپنے بیٹے محمد کے ہاتھ میں دی ہے تب سے سعودی عرب خطرناک راستے پر چلنے کی کوشش کر رہا ہے کون نہیں جانتا کہ امریکہ نے جس بھی ملک کے ساتھ دوستی کی اس ملک کا بیڑا غرق کر دیا اس سے بڑھ کر یہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسا احمق شخص محمد بن سلمان کو اپنے اشاروں پر نچا رہا ہے سعودی عرب کے ماضی کے حکمرانوں نے امریکہ کے ساتھ تعلقات ضرور رکھے لیکن ان تعلقات میں وہ اس حد تک کبھی بھی نہیں گئے کہ سب کچھ اٹھا کر امریکہ کی جھولی میں ڈال دیا جائے اور اس کے اشاروں پر ناچا جائے ان حالات میں شاہ سلمان کو گیری سوچ و بچار کا مظاہر کرنا چاہئے اور ان کے بیٹے نے سعودی عرب کو جس راستے پر ڈال دیا اس راستے سے ہٹانے کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔
محمد بن سلمان کے گزشتہ چند دنوں کے اقدامات نے سعودی عرب کے دوستوں خاص طور پر دنیا بھر میں بسنے والے دیوبندیوں کو پریشانی اور حیرت سے دوچار کر دیا ہے ایک بڑی تعداد میں اپنے ہی خاندان کے لوگوں کو جھوٹے الزامات کے تحت قید میں ڈالنا کہاں کی عقلمندی ہے شاید محمد بن سلمان کو یہ معلوم نہیں ہے کہ جن لوگوں کو قید میں ڈالا گیا ہے ان لوگوں کی جڑیں سعودی معاشرے میں پیوستہ ہیں ان لوگوں کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگ چاہنے والے ہیں ان حالات میں خدانخواستہ سعودی عرب میں داخلی جنگ چھر سکتی ہے جو سب کچھ بہا کر لے جائے گی اور اس امر کے حصول کے لئے بی بی سی اردو جیسے مفاد پرست میڈیا نے واویلا مچانا شروع کر دیا ہے کہ جن شہزادوں کو پکڑا گیا ہے ان پر کوئی الزام ثابت نہیں کیا جا سکتا بلکہ ان کا پکڑا جانا آل سعود کے داخلی اختلافات کا شاخصانہ ہے یہ بیانیہ بی بی سی کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے جیسے ہی یہ بیانیہ رسوخ کر گیا سعودی عرب میں داخلی جنگ شروع کروا دی جائے گی اور ٹرمپ ایک طرف محمد بن سلمان تو دوسری طرف مخالفین کی مدد کر رہا ہو گا اور درمیان میں نقصان صرف اسلام اور مسلمانوں کا ہو گا لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ سعودی عرب نے بعض اقدامات سے جس خطرناک راستے کا انتخاب کیا ہے اس راستے کے نتائج پر غور کرتے ہوئے اسی رفتار سے اس راستے سے واپسی اختیار کرے تا کہ مسلمانوں اور اسلام کو نقصان پہنچانے کی دشمن کی سازشیں ناکام ہو سکیں۔