اندرون لاہور انارکلی اور دیگر بازاروں میں پارکنگ اور ٹریفک جام

Posted on November 11, 2017



اردو بازار کبیر سٹریٹ، انار کلی روڈ، ایبک روڈ مایو ہاسپٹل روڈ، کچہری روڈ، میکلوڈ روڈ، سرکلر روڈ اور اندرون لاہور کی قریب کی دیگر سڑکوں پر ٹریفک جام کی یہ صورتحال کہ 10 سے 15 منٹ کا راستہ موٹر سائیکل پر 2 سے 3 گھنٹہ کا امتحان بن گیا۔ یہ ٹریفک جام کسی وی آئی پی کے اعزاز میں نہیں بلکہ ان سڑکوں پر روز کا معمول ہے۔ روزانہ کے ٹریفک جام کی ایک بڑی وجہ مذکورہ سڑکوں پر ٹریفک سے زیادہ پارکنگ کی صورت میں سمجھ آئی۔
صرف انار کلی روڈ پر پارکنگ کی یہ صرتحال نظر آئی کہ کشادہ سڑک پر بھی پارکنگ کو چھوڑ کر صرف ایک رکشہ گزرنے کا ہی راستہ بچتا ہے۔ اور اسی بچے کچے راستے سے دو رویہ ٹریفک نے گزرنا ہوتا ہے۔ ایسی ہی کچھ سورتحال سرکلر روڈ پر بھی نظر آئی۔ اردو بازار کا ذکر کروں تو پارکنگ کے علاوہ لوڈر گھوڑا گاڑی اور لوڈر رکشے بچا کچا راستہ بھی روک لیتے ہیں جس کے سبب ناصرف عوام ذہنی اذیت کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وقت اور فیول بھی فضول ضائع ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ اندرون لاہور کی مذکورہ تمام سڑکیں حلقہ NA120 میں شامل ہیں جہاں سے پہلے وزیر اعظم نواز شریف اور بعد میں اہلیہ نواز شریف محترمہ کلثوم نواز صاحبہ منتخب ہوئیں۔
وزیر اعلیٰ پنچاب شہباز شریف صاحب نے گزشتہ دنوں موٹر سائیکل ایمبولنسیں متعارف کروائیں جو انسانیت کی خدمت کے لئے یقیناََ کارآمد ہونگی لیکن سوال یہ ہے کہ اندروں لاہور کی مذکورہ سڑکوں پر جہاں دو رویہ ٹریفک کو محض ایک رکشہ گزرنے کا راستہ میسر ہو وہاں ان موٹر سائیکل ایمبولنسوں کا بھی کسی ایمرجنسی کی صورت میں فوری میسر ہونا ممکن نہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اس تمام پارکنگ کا آخر کیا حل کیا جائے۔ تو اصل حل تلاش کرنا تو ارباب اختیار کے ہاتھ میں ہے لیکن رائے ہے کہ اگر اردو بازار، انار کلی بازار اور اسی طرح شاہ عالمی بازار اور دیگر مارکیٹوں کے لئے الگ الگ پارکنگ پلازے بناکر بازار کی سڑکوں اور گلیوں میں پارکنگ ممنوع کر دی جائے تو کشادہ سڑکیں پھر سے ٹریفک کی بلا رکاوٹ آمد و رفت کے لئے استعمال ہو سکیں گی۔