الفاظ کا کھیل اور انسانیت کے خلاف میڈیا کا گھناؤنا کردار

Posted on November 4, 2017 Articles



انسانی زندگی میں امید کا بہت اہم کردار ہے اسی امید کی وجہ سے انسانی زندگی کا چراغ روشن رہتا ہے امید ہی انسان کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے اور اچھا صلہ ملنے کی امید انسان کو ہر میدان میں سر گرم عمل رکھتی ہے دین فطرت ہونے کے ناطے اسلام امید کو مستحسن نگاہ سے دیکھتا ہے اور مختلف امور میں بنی نوع انسان کو اجر عظیم کا امیدوار بناتا ہے اسلام انسان کو اعمال صالحہ کی تلقین کے زریعے جنت جیسی عظیم نعمت کا وعدہ دیتا ہے اپنے خالق کی قائم کی ہوئی حدوں کی رعایت کرنے والے اپنے خالق کی عظیم نعمات کے مستحق قرار پاتے ہیں اللہ رب العزت کی طرف سے انعام و اکرام کی امیدواری انسان کو تمام مشکلات برداشت کرنے کا حوصلہ دیتی ہے اسی لیے اپنے خالق کے قرب کے حصول کے لیے انسان تمام تر مصائب کا خندہ پیشانی سے سامنا کرتا ہے اور ایسا انسان اللہ تعالی کی مقرر کی ہوئی حدوں کی رعایت کے ذریعے اپنے مقصد و ہدف تک پہنچ جاتا ہے لیکن اس کے بر عکس جو انسان امید کا دامن چھوڑ دیتا ہے زندگی بھی اس کا ساتھ نہیں دیتی اور وہ بے مقصد زندگی کی نذر ہو جاتا ہے جو لوگ ہدف اور مشن کے لیے زندگی گزارتے ہیں ان کے لیے ناکامیاں کوئی معنی نہیں رکھتیں اس لیے ایسے لوگ اپنے ہدف سے مطلب رکھتے ہوئے اسی کے حصول کے لیے سر گرم عمل رہتے ہیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالی کا اصول ہے کہ وہ محنت کرنے والے ہر انسان کو اس کی محنت کا صلہ ضرور دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے ماں کے قدموں تلے جنت قرار دی ہے اس کی وجہ بھی اپنی اولاد کے لیے ماں کی جانثاری اور اس کی اپنی اولاد سے امید ہے اگر اسے اپنی اولادسے کوئی امید نہ ہوتی تو وہ اتنی صعوبتیں اور مشکلات برداشت کر کے اس کی پرورش نہ کرتی ماں کی محنت اور جانثاری کو دیکھتے ہوئے ہی اللہ تعالی نے اس کے قدموں میں جنت قرار دی ہے غرض امید کے انسانی زندگی پر گہرے اثرات ہیں یہ اثرات مثبت بھی ہو سکتے ہیں اور منفی بھی ان سطور میں مجھے امید کے چند منفی پہلوؤں کی نشان دہی کرنی ہے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر چیز کے اچھے اور برے پہلو ہوتے ہیں اسی طرح امید کے بھی بہت سارے برے پہلو ہیں ان میں سے سب سے اہم منفی اور برا پہلو دوسرے لوگوں سے امیدیں وابسطہ کرنا ہے
اسی طرح لوگوں کو جھوٹی امیدیں دلانا بھی امید کا غلط استعمال ہے راقم الحروف کو وکالت کے شعبہ میں تین دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے پریکٹس کے دوران میں نے امید کے حوالے سے جو نتیجہ نکالا ہے یہ ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں امید کی خرید و فروخت جاری ہے اور خرید و فروخت کا پاکستان میں غیر معمولی حد تک بازار گرم ہے عالمی سطح پر اس مذموم اور غیر مطلوب خرید و فروخت کی مثال عالمی استعمار ہے جو غریب ممالک کو ترقی اور اقتصادی خوشحالی کی امید دلا کر ان ممالک کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتا ہے استعمار امید وں کو خوبصورت الفاظ کا جامہ پہنا کر بیچتا ہے اور اس فروخت پر استعمار کاالفاط کے علاوہ کچھ بھی خرچ نہیں ہوتا جبکہ ان خوبصورت الفاظ کی ادائیگی کے عوض استعمار کو نفع ہی نفع ہوتا ہے اگر ہم وطن عزیز پاکستان کو دیکھیں تو پاکستان میں امیدوں کی خرید و فروخت کا کاروبار عروج پر ہے ہمارے ہاں قومی لیڈروں کی مثال فٹ پاتھ پر بیٹھے ان نجومیوں کی سی ہے جن کے پاس ہر مسئلے کا حل موجود ہوتا ہے جو ایک ہی عمل اور تعویز کے ذریعے ہر نام ممکن کام کو کرنے کا دعوی کرتے ہیں المیہ تو یہ ہے کہ نجومی ہوں یا سیاستدان ان کے امیدوں کی خرید و فروخت کا کاروبار کبھی بھی ٹھنڈا نہیں پڑتا سادہ لوح عوام گھسے پھٹے الفاظ کے سحر میں مبتلا ہو کر ان انسانیت دشمنوں کے فریب کا شکار ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے موجودہ حکومت کے سربراہ میاں نواز شریف کو ہی لے لیں جنہوں نے الیکشنز سے پہلے پاکستانی عوام کو امید دلائی کہ وہ اقتدار میں آتے ہی ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر کے امن و سلامتی کا گہوارہ بنا دیں گے اس پر پورے پاکستان میں شیر آیا شیر آیا کی صدائیں گونجنے لگیں لیکن جب شیر اقتدار میں آیا تو گیڈر سے بھی بدتر نکلا جو پاکستان کے محافظوں ،پولیس افسران ،علما،ڈاکٹرز،وکلا اور انتہائی قیمتی جانوں کے ضیاع پر ٹس سے مس نہیں ہوتا اور درندوں سے بدتر لوگوں سے خوف کھا کر ان سے مذاکرات کی بھیک مانگتا نظر آتا ہے اسی طرح عقل و دانش سے عاری عمران خان صاحب نے بھی امیدوں کو خوب بیچا اور آج انصاف جیسے نعروں کی صورت میں امیدوں کی فروخت کے ذریعے ایک صوبے کا اقتدار سنبھال چکے ہیں لیکن جن لوگوں نے عمران خان سے امیدیں وابسطہ کی تھیں وہ آج مایوسی کا شکار ہیں اس لیے کہ یہ نام نہاد قومی لیڈر بھی کبھی انسان دشمن طالبان کے پاکستان میں دفاتر کھولنے کی بات کرتا ہے تو کبھی ان درندوں کے فضائل پڑھتا نظر آتا ہے جب تک لوگ عالمی اور مقامی مداریوں کے جھوٹے وعدوں پر اعتبار کرتے رہیں گے تب تک امیدوں کی خرید وفروخت کا دھندہ جاری رہے گا اور مظلوم انسانوں کا پوری دنیا میں اسی طرح استحصال ہوتا رہے گا۔ اس وقت انسانی استحصال کے لئے سب سے بڑی ڈھال عالمی میڈیا ہے جو خوبصورت الفاظ کے ذریعے عالمی لٹیروں کو دنیا بھر کے مظلوموں پر مسلط کرنے کے لئے کوشاں ہے۔
اور اس حوالے سے بی بی سی کا کردار انتہائی بھیانک اور خوفناک ہے۔