کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہیں؟؟؟ انیسویں قسط۔ تحریر۔ حبیب جان لندن

Posted on October 6, 2017



کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟
انیسویں قسط
تحریر:- حبیب جان لندن

جس تیز رفتاری سے دنیا کے حالات تبدیل ہورہے ہیں۔ پاکستان کی چین سے بڑھتی ہوئی رفاقتیں اب روس سے بھی دوستی کا رنگ دکھا رہی ہیں۔ ایک یقینی خیال ہے کہ دیر سویر پاکستان چائنہ اور روس ہم خیال ہو کر آنے والے دنوں میں امریکہ کے مقابل کھڑے ہوں گے۔ جب یہ سطور لکھی جارہی ہے اس وقت سعودی فرمان رواں بھی روس کے دورے پر تشریف لے جا چکے ہیں۔ یاد رہے امریکی حلیف سعودی تین دہائیوں کے بعد کسی بادشاہ کا یہ روس کا دورہ ہے۔ بہرحال ان تمام صورتحال کے بعد پاکستان کی اندرونی اور بیرونی سیاست انتہائی توجہ طلب ہوگئی ہے اور یہاں اس بات کو لکھنے میں کوئی عار محسوس نہیں کہ ہمارے آج کے حکمراں ان تمام معاملات سے نبروآزما ہونے میں یکسر نابلد نظر آتے ہیں۔

اس میں کوئی شک و شبہ نہیں گزشتہ چند سالوں سے فوجی اسٹبلشمنٹ نے ماضی سے بہت کچھ سیکھتے ہوئے سویلین معاملات سے کافی حد تک کنارہ کشی اختیار رکھی ہوئی ہیں۔ سابق جرنیل راحیل شریف نے جہاں پاک چائنا اکنامک کورآیڈر کے منصوبہ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ روس کے ساتھ ماضی کی تلخیوں کو دفن کرتے ہوئے ایک نئے باب کا آغاز کیا تھا وہ قابل ستائش ہے۔ حالانکہ ان میں کچھ کام سویلین حکومت کے کرنے کے تھے لیکن یہ بھی المیہ تھا کہ ایک جمہوری حکومت چار سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود ایک قابل وزیر خارجہ کی تعیناتی نہیں کر سکی تھی۔ اسی طرح حکمران طبقہ چائنہ کے ساتھ معاملات کرتے ہوئے آج بھی مُلکی مفادات کی جگہ اپنے ذاتی کاروباری مفادات کا تحفظ کرتا نظر آتا ہے۔ ماضی میں زرداری صاحب ٹپی اور ڈاکٹر عاصم کو تو میاں صاحب حمزہ اور میاں منشاء کو چائنہ یاترا پر لے جاتے رہے ہیں۔

آتے ہیں اب دہشت گردی کے خاتمہ کی طرف جب حکمران طبقہ اور اشرافیہ کے اللے تللے عروج پر ہو سرکاری وفود کے قافلے رشتہ داروں اور دوستوں سے بھرے پڑے ہو تجارتی معاہدے خاندانوں کی خوشحالی سے مشروط ہو انصاف حکمرانوں اور امیر کے گھروں کی لونڈی بن جائے امیر امیر تر غریب خود کشیوں پر مجبور تو معاشرے عدم توازن کا شکار ہوکر دہشت گردی کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔ جہاں افغان جنگ کے بعد لاوارث چھوڑے گئے ہزاروں مجاہدین کی اکثریت پاکستان کے دشمنوں کے ہاتھوں آلہ کار بن گئیں وہی حکومتی عدم توجہئی کے سبب معاشرے کے دیگر افراد بھی دہشت گرد قوتوں کے ہاتھوں استمعال ہونے کیلئے راہیں تلاش کرنے لگے۔

پاکستان میں جاری حالیہ دہشت گردی کا جہاں امریکہ ذمہ دار ہے وہی کافی حد تک ہمارے منصوبہ ساز بھی برابر کے شریک جُرم ہیں ہم نے پچھلی قسطوں میں تحریر کیا تھا کہ ہوسکتا ہے اس وقت کی حکومت اور اسٹبلشمنٹ نے سویت یونین کے خلاف امریکہ کا ساتھ دستیاب صورتحال کے تناظر میں دیا ہو۔ لیکن بعد کی صورتحال کا تجزیہ کئے بغیر وطن عزیز کو تین دہائیوں تک ایک ایسی آگ میں دھکیل دینا قطعا غیر مناسب فیصلے تھے۔ اب جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد ہمارے زعماء امریکہ سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے لگے ہیں جو ایک خوش آئند آغاز ہے۔ وقت آگیا ہے ہماری اسٹبلشمنٹ اور سول حکومت یک جان یک قالب ہوکر امریکہ بہادر کو بتائے کہ آج جو دینا کی واحد سپر پاور ہونے کا جو گھمنڈ امریکہ کو ہے وہ صرف اور صرف پاکستان کی مدد اور تعاون کے بغیر ممکن نہ تھا۔

امریکہ کو صاف صاف اور واشگاف الفاظ میں بتا دیا جائے کہ افغان جنگ سراسر امریکہ کی جنگ تھی اور امریکہ نے عیاری اور چالاکی کے ساتھ پاکستان استمعال کیا۔ اس سلسلے میں سابق سیکریٹری اسٹیٹ ہیلری کلنٹن اور دیگر امریکن سفارتکاروں کے اعترافی بیانات کو جواز بنایا جا سکتا ہے۔ اور بتایا جائے آج دنیا میں جہاں جہاں بھی دہشت گردی ہورہی ہیں وہ سب کیا دھرا امریکہ کا ہے۔ کیونکہ امریکہ نے ہی جنت کے نام پر تمام دنیا سے مجاہدین بھرتی کر کے افغان جنگ میں بھیجے تھے۔ اور آج وہی مجاہدین یا شہداء کی اولادیں جوان ہو کر امریکہ کی غلط بیانی اور دھوکہ دہی کا بدلہ دنیا سے لے رہیں ہے۔ (جاری ہے)۔۔۔۔۔