امریکی سوچ

Posted on August 26, 2017



رات گئے پینٹاگون میں میٹنگ جاری تھی، امریکہ کے اتحادی نیٹوممالک کے وفود،امریکی سی آئی اے کے سربراہ، امریکی فوج کے سربراہ، آئی بی اور دیگر پالیسی ساز اس خفیہ میٹنگ کا حصہ تھے۔سامنے بڑی اسکرین پرپروجیکٹ کے زریعے امریکی فوج کے سربراہ افغانستان اور پاکستان کا نقشہ کھولے بیٹھے تھے۔ ایک لمبی سی چھٹری انکے ہاتھ میں تھی۔ اور وہ افغانی اور قبائلی علاقہ جات کی نشاندھی کررہےتھے۔ ٹرمپ بارباراس بات پے زور دے رہے تھے کہ ہمیں یاتو افغانستان سےنکل جانا چاہئے۔یاپاکستان تک اس جنگ کو پھیلادینا چاہئے۔ لیکن اگر ہم نکلتے ہیں تو ہم امریکی عوام کو کیا بتائیں گے کہ ہم فتخ یاب ہوئے یا شکست ہمارا مقدرٹھہری۔ پاکستان پر حملےکی صورت میں نہ جانے اورکتنی دہایاں وہاں سے نکلنےمیں لگ جائیں۔اور اگر وہاں بھی شکست مقدر ٹھہری تو کیاہوگا۔ شکست کا خود ہی سوچ کر اس نے دم سادھ لیا۔ کہ اگر ایسا کیاتوپالیسی سازوں کی عوام کے سامنے درگت بنے گی اور اگر فتح بتائی تو اس کو ثابت کرنا پڑے گا۔اب کام دونوں مشکل تھے اور ٹرمپ عجیب مخمصے کا شکار تھے،کنفیوژن اور بے چینی بڑھتی جارہی تھی، اچانک ایک صاحب اٹھے اور بڑے اعتماد سے کہنے لگے کہ امریکہ کے پاس بچ نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے۔اور وہ ہے پاکستان۔ اگر پاکستان کی طرف صحیح معنی میں دوستی کا ہاتھ بڑھایاجائے اور اسے خیراتی ادارے سے بڑھ کے ایک اچھے دوست اور اتحادی کے طور پےلیا جائے تووہ امریکہ کو شکست سے دوچار ہونے سے بچا سکتاہے۔کسی نے سوال داغا وہ کیسے تو انہوں نے تفصیل بتاناشروع کی کہ ہم نے آج تک پاکستان کی طاقت کا اندازہ نہیں لگایا۔ اس ملک میں کو ئی روحانی طاقت ہے جواسے آج تک بچائے پھرتی ہے۔پاکستان کی ۷۰سالہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پہلے تو اس کا وجود خطہ ارض پر نہیں تھا۔ اس کا وجود ممکن ہو اتو بھارت نے اسے ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ یہاں پے درپے حکومتیں تبدیل ہوئیں۔ مارشل لا لگے۔لیکن یہ اپنے پاوں پے کھٹرا رہا۔ پاکستان اپنے وجود سے اب تک مختلف عالمی معاہدوں میں شامل بھی رہااور پراکسی وارز کا بھی حصہ رہا۔ اس کے اپنے حکمرانوں نے اس ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اس کی عوام روزانہ اربوں روپے کی کرپشن کرتی ہے۔ یہاں غریب اور امیر کے لیے الگ الگ قانون ہیں۔ قانون کی حکمرانی برائے نام ہے ،یہ ملک پچھلے تقریبا ۲۰ سال سے حالت جنگ میں ہے۔اور یہ اس جنگ کا شکارہے جس کا اسے ہم نے شکار کیاہے۔اس کی جنگ اصل میں اس کی نہیں تھی اور یہ اس کے اپنے حکمرانوں ہی کی نااہلی تھی کہ انہوں نے ایک ایسے نیریٹو کو اپنایاجسے امریکہ یاکوئی ترقی یافتہ ملک اپنانے کاسوچ بھی نہیں سکتا۔ آپ خود بتائیں کیا انتہا پسندی بھی کوئی سامنے کھٹرادشمن ہے جس کے خلاف بندوق تانی جاسکتی ہے۔یہ توسوچ کا نام ہے اور اس کے خلاف واحد ہتھیار ماڈرنزم ہے۔ جس کو اپنانے میں ایک لمبا عرصہ درکارہوتاہے۔ گولن نے ترقی فتح کرنے کے لیے ۳۰ سال پہلے سکولوں کا نظام متعارف کروایااور اپنے مطابق ایک قوم تیار کی۔برطانیہ نے برصغیر پاک وہند میں مشنری سکولوں کے زریعے ڈاکٹر،وکیل اور استاد تیارکیے جنہوں نے ذہیں سازی کی اور پھرحکمرانی کی۔ لیکن یہاں پاکستانی قوم اور حکمرانوں کو جب ہم نے ڈالر دئیے تو انہوں نے حقائق سے آنکھیں بند کرلیں اور ہمارے اشاروں پے چلناشروع کر دیا۔ انتہاپسندی کے نام پے ہزاروں جانیں ضائع ہو گئیں۔ امریکہ اس ملک کی سرحدیں عبور کر کے حملے کرتارہالیکن وہاں کے حکمران خاموش رہے۔ اگر اس وقت ہم پاکستان کو ساتھ نہ ملاتے تو ہم کبھی بھی افغانستان کی سرزمین پے قدم نہیں رکھ سکتے تھے۔ یہ پاکستان ہی تھا جس نے نہ صرف ہوائی اڈے دیے بلکہ وہاں کے زمینی حقائق سے بھی ہمیں آگاہ رکھا۔ کانگرس سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بولے کہ اگر پاکستان اتنا ہی اہم ہے تو ہم یہ جنگ اب تک جیت کیوں نہیں گئے کیا اس کا زمہ دار بھی پاکستان ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ اس کا زمہ دار پاکستان نہیں بلکہ امریکہ خود ہے۔ امریکہ نے ڈالروں کے عوض ہمیشہ پاکستان کو حقارت کی نظرسے دیکھاہے۔ ہم نے اس جنگ کو دہشت گردوں سے نکال کے مسلمانوں تک پھیلا دی ہے۔ عوام میں مختلف بحثوں کے زریعے ایک ایسی سوچ کوہم نے جنم دیا جس میں مسلمان ہونا شاید جرم ڈھرنے لگا۔ ہمارے ائیرپورٹس پرمسلمانوں بالخصوص پاکستانیوں کی چیکنگ سخت کردی گئی۔ حتی کہ پاکستانی وزرا کو بھی نہ بخشا گیا۔ہم نے پاکستان کی نسبت بھارت کو ترجیح دینا شروع کردی۔ اوباما اپنے آٹھ سالوں میں پاکستان کا ایک دورہ بھی نہ کیا۔بش چند گھنٹوں کے لیے کرکٹ کھیلنے پاکستان گئے۔ ہم نے نیوکلیئر معاہدے بھارت کے ساتھ کیے۔تجارت بھارت کےساتھ کی، افغانی حکومت کو پاکستان کے خلاف بولنے دیا۔ ہمارے اس رویے نے پاکستانی قوم اور حکمرانوں کی سوچ کو بدلا اورانہوں نے افغانستان میں ہماری مدد کرنا بند کردی۔ صرف پاکستان کے اندر آپریشنز کیے۔جس سے امریکہ کی جنگ طول پکٹر گئی۔ اوراس طول ہوتی جنگ کو اب بھی ختم کیا جا سکتا ہے اگر امریکہ اس کہانی میں اپنی دوستی بھارت کی بجائے پاکستان سے کرلے۔پاکستان سے نیوکلیئرمعاہدہ کیاجائے۔اس کے ساتھ تجارتی سطح پے مراسم بڑھائے جائیں اور ٹرمپ انتظامیہ خصوصی طور پرپاکستان کی ترقی پر توجہ دے تو وہ ہمیں اس جنگ سےباآسانی فتح کے ساتھ نکال سکتاہے۔اس کی بات ختم ہوئی تو سی آئی اے کے ایک صاحب بولے کہ زمینی حقایق توبالکل ایسے ہی ہیں۔ لیکن پاکستان کو بھی اپنی پالیسیوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ہمارا بھی تواس جنگ میں ٹریلین ڈالر کا نقصان ہواہے۔ جس پے ٹرمپ کی جان میں جان آئی اور اس نے فوج کے سربراہ کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا تو اس نے کہاکہ پاکستان سے دوستی امریکہ کے مفاد میں ہو سکتی ہےلیکن ہمیں یہ جنگ اپنے بل بوتے ہرجیتننی ہوگی۔ پاکستان سےراہ ورسم اختیار کرنے کی صورت میں بھارت ناراض ہوجائے گااور بھارت کے ساتھ ساتھ اسرائیل بھی پالیسی تبدیل کرے گا۔ہماری پاکستان سے دوستی کی صورت میں بھارت پاکستان سے ہچکچائے گااور بارڈر پر ٹینشن کم ہو جانے کی صورت میں ہمارے اسلحے کی فروخت متاثر ہوگی۔ اس ایک فرینڈشپ سے سارا ورلڈآرڈر بدل جائے گا۔ جو کہ آئندہ آنے والے وقتوں میں امریکہ کےاپنے مفاد میں نہیں ہوگا۔کیونکہ پاکستان کسی صورت ایک اچھی اکنامک مارکیٹ نہیں ہے۔ ٹرمپ اس ساری گفتگو کو بڑے غور سے سن رہاتھا۔ اچانک اس کےزہیں میں ایک سوال ابھراجوکہ پچھلی ساری باتوں سے خوفناک تھا۔ کہ کیا امریکہ اس جنگ کو پاکستان تک پھیلا سکتاہے۔فوجی کمانڈر نے تو فورا ہاں میں سر ہلا دیااور دلیل بھی دی کہ امریکہ کےپاس ایسا کرنے کا جوازبھی موجودہے۔کہ پاکستان نے ان دہشت گردوں کو پناہ دی ہوئی ہے جوکہ امریکہ کے مفادمیں نہیں ہیں۔ لہذاامریکہ ان دہشت گردوں کو نشانہ بنا سکتاہے۔ اور ایبٹ آباد طرز کے آپریشن کیے جاسکتے ہیں۔اس کے لیے ہمیں آپ کی اجازت درکار ہوگی۔ ٹرمپ فٹ سے میز پر مکامارتے ہوئے بولے ہاں ہاں ڈو اٹ،ڈو اٹ۔ وہ ایسا کہتے ہوئے دیگر لوگوں کی طرف داد بھری نظروں سے دیکھنے لگا۔ اتنے میں ایک صاحب بولے کہ پاکستان کااس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔ ٹرمپ کرسی پر پہلو بدلتے ہوئے کہنے لگا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہم انہیں اس کا کئی گناذیادہ معاوضہ امداد کی شکل میں دے چکے ہیں۔ ہمیں امریکہ کا مفاد عزیز ہے۔اور اس مفاد کے آگے پاکستانیوں کی قربانیاں کوئی معنی نہیں رکھتی۔ ٹرمپ کی اس بات پر ہال میں ایک بار پھر خاموشی برپاہوگئی۔سب کی نظریں سامنے کھٹرے فوجی سربراہ کی جانب مبذول ہوگئیں۔ اس نے نقسشے کوسکرول کر کے مزید بڑاکردیا۔اب نقشے پر پانچ ملک تھے۔پاکستان،افغانستان،بھارت،چین اور ایران۔فوجی سربراہ نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہاکہ پاکستان کو اگر کسی ملک سے خطرہ ہوسکتاہے تو وہ ہے چایئنہ۔کہ اگر وہ پاکستان کا دشمن بن جائے اور وہ ہمارا دوست بن جائے تو ہم پاکستان کو قابو کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔اس کے علاوہ ہمارے پاس یہ آپشن نہیں ہے کہ ہم افغانستان میں بیٹھ کے پاکستان پے افغانستان طرز کا حملہ کرسکیں۔اس نےیہ کہااورپھراپنی ہی بات کو یہ کہ کے رد کردیاکہ پاکستان اور چائینہ اچھے دوست ہیں۔ایران پاکستان کی طاقت سے بخوبی آگاہ ہے۔وہ پاکستان کے لیے کبھی خطرہ نہیں بن سکتا۔ امریکی فوج کے سربراہ ہونے کے ناطے میرا یہ ماننا ہے کہ پاکستان کی سلامتی کو کہیں سے خطرہ ہوتواس ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز ایک پیج پے آجاتے ہیں اور پھروہ ایک نئی طاقت بن کے ابھرتے ہیں۔فوجی سربراہ کی اس تھیری کو ٹرمپ کسی صورت سننے کو تیارنہیں تھے۔اس لیے اس نے اپنی نظریں آخرمیں سی آئی اے چیف کی طرف کرلیں۔ ۔سب اس کی رائے کو اہمیت دے رہے تھے کیوں کہ ان کے پاس ذیادہ انفارمیشن ہوتی ہے۔ سی آئی اے چیف نے کہاکہ اگر بھارت اپنااثررسوخ افغانستان میں بڑھادے۔اور وہ وہاں بیٹھ کے نہ صرف پاکستان کے اندربلکہ بلوچستان میں بھی علیحدگی پسندوں کی تحریکوں کو ہوادے انہیں فنڈنگ دے اور ایل او سی پے جھڑپوں کے زریعے پاکستان کا دھیان تقسیم رکھے۔ دوسری طرف افغان حکومت پاکستان پر چڑھائی برقرار رکھے اور ہم بھی ڈو مورکا مطالبہ کرتے رہیں۔ تھوڑی بہت امداد بھی دیتے رہیں تو پاکستان دباو کا شکار رہے گا۔لیکن ان ساری باتوں کو کرنے سے پہلے ہمیں ان کے ان پہلووں پر بھی غور کرنا ہو گا جو آج بھی پاکستان کے کریڈٹ پےجاتے ہیں۔پہلایہ کہ پاکستان کی فوج انتہائی پروفیشنل بن چکی ہے۔ چایئنہ پاکستان میں اقتصادی راہداری بنارہاہے۔اس کے زریعے وہ اپنی اکانومی کو بوسٹ کرے گا۔ ادھر اس نے پاکستان میں پراجیکٹ شروع کیے ہیں تو دوسری طرف پاکستان کااعتماد حاصل کرنے کے لیے بھارت سےبارڈرپے چھیڑخانی بھی کررہاہے۔ جس سے نہ صرف ان کے اتحاد کا میسج جارہاہے بلکہ دنیاپے یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ وہ اس ون بیلٹ ون روڈ کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیارہیں۔ٹرمپ بولا اگر یہ اتناہی اہم ہے توہمیں اسےروکنے کی ہرممکن کوشش کرنی ہوگی۔ پاکستان کا امن خراب کرکے چائینہ کو وہاں سے بھگایاجاسکتاہے۔ سی آئی اے چیف بولے ہم اپنی پوری صلاحتیں اس منصوبے کو ناکام بنانے میں صرف کررہے ہیں۔بلیک واٹر،موساد اور نان سٹیٹ ایکٹرز کو متحرک کیاجارہاہے لیکن وہان کا انٹیلی جنس نیٹ ورک اور انفارمیشن شیئرنگ انتہائی مضبوط ہو چکی ہے۔ اب معاملات خراب کرناپہلے کی طرح آسان نہیں رہا۔وہاں کی عوام اپنے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے اورہمیں ایک بات ہر کبھی غور بھی نہیں کرنا چاہیے کہ امریکہ کبھی پاکستان سے براہ راست جنگ کرپائے گا۔ یہ کبھی بھی امریکہ کےمفادمیں نہیں۔ اگر فرض بھی کرلیں کہ امریکہ افغانستان کے زریعے پاکستان پرحملہ کربھی دیتاہے توپھرہمیں سوویت یونین کاحشر کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔امریکہ نے وہ جنگ براہ راست نہیں لڑی تھی بلکہ پاکستان نے وہ جنگ لڑی تھی۔اور نہ صرف سوویت یونین ٹوٹ گیاتھابلکہ اسے بمشکل گدھوں پے لاشیں اٹھاکے بھاگنے کا موقع دیاگیاتھا ۔ پاکستان اس حوالے سے انتہائی خطرناک ملک ہے۔ہمیں ان کی طاقت کا نہ صرف اندازہ ہونا چاہیے بلکہ اس کا اعتراف بھی ہوناچاہیے۔ پاکستان پرحملے کی صورت میں پاکستان میں موجود تمام گروپس نہ صرف اکٹھے ہوجائیں گے بلکہ افغانی بھی ان کا ساتھ دیں گے۔ کیونکہ افغانستان میں تو ہماری پوزیشن پہلے ہی انتہائی کمزورہے۔ اور وہ چاہتے ہیں کہ ہم یہاں سے چلے جائیں۔اس لیے اس غلطی کی صورت میں نقصان صرف اور صرف امریکہ کاہوگا۔ اور میں یہاں ایک اور بات جرات کرکے کہناچاہتاہوں کہ شائد پاکستان ہمیں اپنے فوجیوں کی لاشیں بھی نہ اٹھانے دے۔ابھی سی آئی چیف کی بات ختم ہی ہوئی تھی کہ ٹرمپ بولے کہ پھرتو اس کا حل وہی ایک روائتی طریقہ ہے کہ تھوڑی تھوڑی امداد تھوڑا تھوڑا ڈومور کا مطالبہ اور کبھی کبھی پاکستانی قربانیوں کا اعتراف۔ اس سے حالات بھی نارمل رہیں گے۔پاکستانیوں پرہمارا دبدبہ بھی برقرار رہے گا۔اور شائد وہ ہمیں امریکہ سے بچ نکلنے میں مددگاربھی ہوجائے۔سب نے بلند آوازمیں قہقہ لگایااور اجلاس برخواست ہوگیا۔