سول بالادستی

Posted on August 9, 2017



بنام میاں نوازشریف
سول بالادستی کا نعرہ تو ہم بڑے شوق سے لگاتے ہیں لیکن سویلینز والی عادتوں سے محروم ہمارے حکمران آج بھی ڈکٹیٹر کی گود میں بیٹھ کے خوش ہوتے ہیں۔حالات کو بگاڑنے اور اس پر پھر ڈٹ جانے کا فن سویلینزکا طرہ امتیاز رہاہے۔ میاں صاحب نے ایک بار پھراقتدار سے الگ ہوتے ہی سول بالادستی کا نعرہ بلند کیاہے۔ اقتدار میں رہتے ہوئے خود انہوں نے کئی بارسول بالادستی پر کمپرومائز کیا۔ راحیل شریف صاحب نے کئی ایسے فیصلے کیے جن کی اطلاع بعدمیں پرائم منسٹر ہاوس تک پہنچائی گئی۔ آپریشن ضرب عضب اس کی مثال ہے۔ میاں صاحب کا بیان کہ وہ یہ جانتے ہیں کہ ان کی نااہلی کافیصلہ پہلے ہو چکاتھا۔ خاصا تشویش ناک ہے۔اس سے واضح پیغام ملتاہے کہ وہ اداروں پر اعتماد کرنے کو تیارنہیں۔ اوراپنی نااہلی کو کسی سازش کا حصہ قراردے رہے ہیں۔اگرلب ولہجہ یہی رہاتو صورتحال کا خمیازہ بہرحال میاں صاحب کو ہی بگھتناپڑے گا۔ ایک خمیازہ تو وہ بھگت چکے ہیں۔ٹرائل کےپہلے حصے میں انہیں اقتدار سے الگ کیاگیاہے۔کہانی کی اصل پکچرابھی باقی ہے۔یہ تو صرف ٹریلرتھا۔اگرلب ولہجہ یہی رہا توبات بڑھ جائے گی۔میاں صاحب ان حقائق کو سمجھ چکے ہیں،کہ اگر وہ فوج کو ڈان لیکس کے معاملے پر ٹوئیٹ واپسی کا نہ کہتے تو آج جے آئی ٹی کے نتائج بھی مختلف ہوتے۔اور سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی اس کے برعکس ہوتا۔ لیکن میاں صاحب کا سول بالادستی کا جنون انہیں اس حد تک لے گیاتھا۔ فوج بہرحال ایک پروفیشنل ادارہ ہے اور اس میں یہ آواز بڑےزور سے بلند کی جاتی ہے کہ وہ اس ادارے کی عزت اور تکریم پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ بہت سے لوگوں کا خیال یہ تھا کہ میاں صاحب پر آن کی آن میں اس طرح کچھ نہیں ہونے لگا۔ دلیل یہ تھی کہ انہوں نے چند مخصوص پوزیشنز پر اپنے رشتے داروں کو بٹھا دیا ہے۔لیکن پھر رشتے داریاں بھی کام نہ آئیں۔اور میاں صاحب کو اقتدار سے الگ ہوناپڑا۔اقتدار کے اس کھیل سے میاں صاحب نے الگ ہوتے ہی سخت لائن اختیارکی ہے۔ آرمی چیف صاحب کا بیان کہ وہ آئین کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں ایک واضح پیغام ہے۔اصل میں تو آرمی چیف صاحب کو بیان دینے کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن ظاہر ہے وہ بھی اس حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ اردگرد سے اٹھنے والی آوازوں سے پیغام کس کو دیا جارہاہے۔ ایسے حالات میں جب میاں صاحب کو اقتدار کی کرسی سے الگ کردیاگیاہے اب وہ کھل کے سیاست کرنےکے موڈ میں نظرآرہے ہیں۔ اور جب سیاسی پنڈتوں کو میدان میں اتارا جاتاہے تو وہ کھل کے اپنے فن کا مظاہرکرتے ہیں۔ میاں صاحب پے آج بھی الزام لگتاہے کہ وہ چھانگامانگا کی سیاست کے ماہر ہیں۔ وہ اس حقیقت کو بھی بخوبی جانتے ہیں کہ اس ملک کی مسندِاقتدار پرجس تیزی سے وہ بیٹھے تھے اتنی رفتارکی نظیر آج تک پاکستانی سیاست میں نہیں ملتی۔ جن قوتوں نے ان کا ساتھ دیا تھا وہ آج ذیادہ آب وتاب سے موجود ہیں۔ ان کا اقتدار پہلے بھی تھا اورآج بھی ہے۔ وہ ایک حد تک سیاستدانوں کے نخرے اٹھاتے ہیں۔ حد سے بڑھنے والوں کو نا پسنددیدہ لوگوں کی فہرست میں ڈال دیا جاتاہے۔ نوازشریف صاحب بھی تازہ تازہ اس فہرست میں دوبارہ ڈال دیے گئے ہیں۔ لیکن ان کے نکلنے کا راستہ بڑاواضح اور شاندار ہے۔تجربہ انسان کا سب سے بڑا استاد ہوتا ہے۔ تجربے سے بات واضح ہے کہ جب جب میاں نوازشریف صاحب فوج سے محاذ آرائی کی طرف پیش قدمی کی ان کے بھائی میاں شہبازشریف صاحب اور ان کے رفیق چوہدری نثارنے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا۔چوہدری صاحب کو میاں صاحب سے ایک گلہ جو ہمیشہ رہاوہ میاں صاحب کا اتنے بڑے اور سینسٹو معاملات میں ان سے مشورہ نہ کرنے کا ہے۔ایک گلہ جو آج بھی چوہدری نثار صاحب کونہیں بھولتاوہ مشرف صاحب کی بطورآرمی چیف تبدیلی کا تھا۔ وہ اور شہبازشریف صاحب وزیراعظم ہاوس میں موجودتھے لیکن انہیں اس فیصلے سے بے خبررکھاگیا۔بعد میں نوازشریف صاحب سے انہوں نے پوچھا کہ آپ نے ہمیں اطلاع کیوں نہیں دی۔تو میاں صاحب نے کہاکہ آپ کو بتادیتا تو آپ مجھے ایسا کرنے سے منع کردیتے۔ اچھے مشوروں پے عمل نہ کرکے ان کی کشتی ہمیشہ سیاسی گرداب میں پھنسی رہی۔ چوہدری نثار اور میاں شہبازشریف صاحب کی اسٹیبلشمنٹ سے اچھی یاداللہ ہے۔ فوج کے ساتھ معاملات طے کرنا ان دونوں کے ہی زمے ہے۔ جس کی وجہ سے میاں صاحب کو وہ اکثرکسی نتیجے پے پہنچنے میں مددگارثابت ہوتے ہیں۔ میاں صاحب کے موجودہ رویے سے بعض حلقے اب بھی ناخوش ہیں۔ لیکن اب جب کہ ان کو اقتتدار سے الگ کردیاگیاہے تو حالات کادرست ہونااور خاص کر صلح ہونا بہت ضروری ہے۔ اوریہ صلح ایک صورت میں ممکن ہے کہ محاذآرائی کی سیاست سے گریز کرتے ہوئے ایسے لوگوں کو آگے لایاجائے جو اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ان میں شہبازشریف سرفہرست ہیں۔ میاں صاحب نے پہلے پہل یہ فیصلہ کیاتھا کہ شہبازشریف کو وزیراعظم بنایاجائے گا۔ان کی انانوسمنٹ کےساتھ ہی کچھ حلقے اس اعلان سے مطمعن تھے کہ اب حالات بہتری کی طرف چلے جائیں گے۔ باخبرزرائع سے خبرآئی ہےکہ میاں شہبازشریف کو وفاق کا حصہ بنانا میاں صاحب کے لیے سود مند ثابت ہوگا۔ جہاں وہ اسٹیبلشمنٹ کے دل دادہ ہیں۔ تووہیں لوگ ان کی پرفارمنس سے بھی مطمعن ہیں۔ انہیں وفاق کا حصہ بنانے سے جہاں میاں ںوازشریف صاحب کو فائدہ پہنچے گا وہیں پر پارٹی بھی تقسیم سے بچ جائے گی۔یہی راستہ بچاہے میاں صاحب کو عزت سے رخصت کرنے کا۔ورنہ میاں صاحب کا لب ولہجہ اگر یہی رہاتو پھر اس کا نقصان جوآج بظاہر صرف میاں صاحب کو ہواہے وہ اپنی ریفلیکشن دیکھائے گا۔اوراس کے اثرات پارٹی تک بھی پہنچیں گے۔ اور پھر وہ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے گی۔ لہذا خود کو پنجاب کی فکر سے آزاد ہوکے سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگر وفاق سلامت رہاتو پنجاب بھی سلامت ہے۔ پہلے وفاق کی خیر منائیں پینجاب تو پہلے بھی حمزہ صاحب دیکھ رہے ہیں۔ اب بھی رانا ثنااللہ کو کرسی پے بیٹھا کے حمزہ صاحب کام کرتے رہیں گے ۔نہ جانے کیوں میاں صاحب کو یہ خوف لاحق ہوگیاکہ اگروہ پنجاب سے چلے گئے تو پنجاب ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ چھوٹے میاں صاحب کو یہ خوف بھی لاحق ہےکہ وہ الیکشن میں ہاربھی سکتے ہیں۔ انہیں اس بات پے مطمعن ہونے کی ضرورت ہے کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ اپنے قریب سمجھتی ہے۔بقول مشرف صاحب انہیں وفاق میں ہوناچاہیے۔ بڑے میاں صاحب کو اگر اب اپنے کیسز بھی کلئیر کروانے ہیں اور بچوں کی ساکھ بھی بحال کرنی ہے اور پارٹی کو بھی متحد اور منظم رکھناہے تو چھوٹے میاں صاحب کو وزارت عظمی سوپنی ہو گی۔ اس کے رزلٹ بہرحال مثبت آئیں گے۔آزمایش شرط ہے۔

کہ ان کی نااہلی فرضی تھی اور اس کا ریوویو کرنے سے عدالت ان پر لگی کم از کم تاحیات نااہلی کی تلوار ہٹا لے گی۔