اور تاریخ رقم ہو گئی

Posted on July 29, 2017



ڈاکٹر سید وسیم اختر
ایم پی اے جماعت اسلامی
۲۸جولائی ۲۰۱۷ کو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اس لئے کہ اس دن پاکستان کی عدلیہ نے وہ تاریخ رقم کی جس کی پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں مثال نہیں ملتی میں نے اپنے گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ عدالت سو فیصد نواز شریف کے خلاف فیصلہ دے گی اس لئے کہ عدالت کے پاس نا قابل تردید ثبوت موجود ہیں لیکن میں نے اپنے کالم “کیا خادم الحرمین نواز شریف کو بچا پائیں گے”میں کچھ خدشات کا اظہار کیا تھا کہ سعودی عرب کی مقتدر شخصیات نواز شریف کو اقتدار میں دیکھنا چاہتی ہیں اس لئے جب یمن جنگ میں سعودی عرب میں پاکستان سے مدد مانگی تو فوج کے دباؤ پر یمن جنگ کے حوالے سے غیر جانبدار رہنے کی پالیسی پر عمل کیا گیا اور اس مقصد کے حصول کے لئے پاکستان کے سب سے بڑے ادارے پارلیمنٹ کا ادارہ استعمال کیا گیا۔
گو کہ پاکستان نے پارلیمنٹ کے موقف کے مطابق رسمی طور پر یہ اعلان کر دیا کہ پاکستان یمن کی جنگ سے لا تعلق رہے گا لیکن حققیت میں اس جنگ سے لا تعلق رہنا میاں نواز شریف اور پاکستان کے لئے غیر ممکن تھا اس لئے کہ ہمارے سعودی بھائی باربار پاکستان آ کر بتا رہے تھے کہ انہیں یمنی حوثیوں سے خطرات لاحق ہیں اسی طرح سعودی عرب کی طرف سے یہ موقف بھی اپنایا جاتا رہا کہ حوثی باغی خانہ کعبہ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔اس لئے فوج کا رسمی طور پر یمن جنگ میں شرکت کرنا کسی بھی صورت ممکن نہیں تھا لیکن اندرون خانہ میاں نواز شریف نے سعوی عرب کی غیر معمولی مدد کی اور بہت سے ریٹائرڈ فوجی افسران اور جوانوں کو عمرہ کے بہانے سعوی عبر بھیجا گیا جنہوں نے سعودی عرب کو یمنی حوثیوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ذاتی تعلق کی بنا پر نواز شریف نے سعودی عرب کی افرادی قوت کے حوالے سے مدد جاری رکھی یہی وجہ تھی کہ جب پانامہ کیس میں نواز شریف صاحب کو نااہلی کے خطرات لاحق ہوئے تو انہوں نے مدد کے لئے خادم الحرمین کی طرف دیکھا جنہوں نے یقین دہانی کروائی کہ میاں صاحب کو بچانے کے لئے بھرپور مدد کی جائے گی اسی مقصد کے حصول کے لئے سعودی عرب سے تین مقتدر شخصیات نے پاکستان میں مختلف لوگوں سے ملاقاتیں بھی کیں جس کے بعد میرا یہ خدشہ بجا تھا شاید جناب خادم الحرمین میاں نواز شریف کو بچانے میں کامیاب ہو جائیں.
لیکن گزشتہ روز جب پانامہ کیس کا گیر جانبدارانہ اور تاریخی فیصلہ آیا تو میرا یہ خدشہ غلط ثابت ہوا اور جس طرح میں نے عرض کیا تھا کہ عدالت نواز شریف کو ناہل کر دے گی اسی طرح پانچ فاضل ججوں نے میاں صاحب کو نا اہل کر دیا میرے معتبر اور مؤثق ذرایع کے مطابق خادم الحرمین کے وعدے کے باوجود نواز شریف کو بچانے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی.
البتہ میاں صاحب کو پختہ وعدے کے ذریعے یہ یقین ضرور دلایا گیا کہ سعودی عرب آپ کی بھرپور مدد کرے گا یہی وجہ ہے کہ میں نواز شریف کل تک انتہائی مطمئن تھے اور انہیں یقین تھا کہ فیصلہ ان کے حق میں آئے گا۔لیکن وقت نے ایک بار پھر ان کا ساتھ نہ دیا اور خوش آمدیوں کے غلط مشورے ان کو لے ڈوبے جہاں تک سعودی عرب کی طرف سے میاں صاحب کی مدد کو سنجیدہ نہ لینے کا تعلق ہے اس حوالے سے میرے ذرائع کہتے ہیں کہ جب خادم الحرمین کا خصوصی وف پاکستان نواز شریف کو بچانے کا مشن لے کر آیا تو فوج کی طرف سے انہیں یقین دلایا گیا کہ پاکستانی فوج ہر محاذ پر سعودی عرب کی حمایت جاری رکھے گی اسی طرح اس حوالے سے جنرل باجوہ کا خصوصی پیغام بھی خادم الحرمین تک پہنچایا گیا نواز شریف کے حوالے سے فوج نے کہا کہ اس وقت معاملہ عدالت میں ہے.
عدالت جو بھی فیصلہ کرے گی فوج کو قبول ہو گا اس لئے فوج عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں ہے لیکن اگر خادم الحرمین کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ یمن میں ان کی مدد نہیں کی جائے گی تو اس حوالے سے ہم نواز شریف سے بھی زیادہ مد کرنے کے لئے تیار ہیں عام طور پر فوجی معاملات کو خفیہ رکھا جاتا ہے لیکن اس کے باجود خبریں لیک ہو جاتی ہیں یمن جنگ میں پاکستان کی مدد کی بھنک پیپلز پارٹی کو پڑ گئی جس کے بعد پانامہ فیصلہ سے صرف ایک دن پہلے پی پی کے سینیڑ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ یمن سے بہت سے پاکستانیوں کی لاشیں ا رہی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان یمن میں اپنے لوگ بھیج رہا ہے۔
جماعت اسلامی کو فوج کی اس پالسیی سے کوئی اختلاف نہیں ہے اس لئے کہ ہمارا شروع سے ہی موقف رہا ہے کہ ہم حرمین کی حفاظت کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں لیکن جماعت اسلامی اس چیز کی مخالف ہے کہ حرمین کی حفاطت کی آڑ میں کسی اور کی حفاطت کی جائے اس لئے ہم وطن عزیز کی فوج کی طرف سے حرمین کی حفاظت کے اقدام اسی طرح نواز شریف کے حوالے سے غیر جانبدار رہنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
نواز شریف کی رعونت اور تیس سالہ بادشاہت کا خاتمہ یقینا پاکستانی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل ہے پاکستانی عدلیہ نے جس طرح ایک مجرم اور قوم کا پیسہ لوٹنے والے کے خلاف فیصلہ دیا یقینا صد تحسین کا مستحق ہے۔