جماعت اسلامی اور اخوان المسلیمن کا ساتھ

Posted on July 25, 2017



ڈاکٹر سید وسیم اختر
ایم پی اے جماعت اسلامی
دنیا میں جب اسلامی تحریکوں کی تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں سر فہرست جماعت اسلامی ہو گی اس لئِے کہ جماعت اسلامی نے اپنے افکار کے ذریعے دنیا بھر کے مسلمانوں میں شعور بیدار کیا۔
اور دنیا بھر میں اسلامی تحریکوں کے قیام کے لئے اہم کردار ادا کیا ان تحریکوں میں سے سرفہرست تحریک مصر کی اخوان المسلمین ہے گو کہ اخوان المسلمین کی بنیاد جماعت اسلامی سے پہلے رکھی جا چکی تھی لیکن جماعت اسلامی نے جس تیزی کے ساتھ عالمی سطح پر اپنا تشخص بنایا اس کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہےکہ جماعت اسلامی نے شروع دن سے ہی اخوان کی رھنمائی کی اگر جماعت اسلامی کے بانی اخوان المسلمین کی رھبری نہ کرتے تو اخوان کب کی ختم ہو چکی ہوتی لیکن علامہ مودودی کی بصیرت تھی کہ جنہون نے اخوان المسلمین کو مصر میں پہلے سے زیاہ فعال کیا اخوان المسلمین کے بانی حسن البنا کی علامہ مودودی کے ساتھ غیر معمولی عقیدت تاریخ کا حصہ ہے۔
جب اخوان کے سربراہ اور بانی سید حسن البنا کو پھانسی دی گئی توپاکستان میں اس پھانسی کے خلاف علامہ مودودی نے ہی آواز اٹھائی سید حسن بنا کی شہادت سے اسلام دشمن طاقتیں سمجھ رہی تھیں کہ اخوان المسلمین ختم ہو جائے گی لیکن دنیا نے دیکھا کہ سید حسن بنا کے سرخ خون کی بدولت اخوان پہلے سے بھی زیادہ نکھر کر سامنے آئی اخوان السملمین اپنے آغاز سے ہی اسلام دشمن طاقتوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی تھی یہی وجہ ہے کہ اخوان المسلمین نے بے شمار جانوں کا نذرانہ پیش کیا اسی طرح پوری دنیا میں دہشت گردی کی حمایت کرنے والے امریکہ بہادر کو تو اخوان المسلمین ایک آنکھ بھی نہیں بھاتی تھی۔
یہی وجہ ہے کہ جب عرب دنیا میں بیداری کی ایک لہر اٹھی تو اخوان المسلمین کے اقتدار میں آنے کے چانس کافی حد تک بڑھ گئے لیکن یہ صورت حال امریکہ بہادر کے لئے ناقابل برداشت تھی اس لئے کہ امریکہ کی کوشش ہے کہ پوری دنیا میں قائم اسلامی حکومتوں کو کمزور کرکے اسلامی نظام حکومت کو نافذ ہونے سے روکا جائے اسی لئے جب عوامی احتجاج کے نتیجے میں حسنی مبارک جیسا ڈکٹیٹر تخت اقتدار سے اترا تو ملک کی باگ دوڑ اخوان المسلمین کے ہاتھ آئی لیکن امریکہ نے بعض مسلمانوں کے اندورونی دشمنوں کو ساتھ ملا کر اخوان المسلمین کی حکومت کا تختہ الٹ دیا ۔
اور ایک بدترین ڈکٹیٹر کو ایک بار پھر مظلوم مصری مسلمانوں کے سروں پر مسلط کر دیا اس موقع پر اخوان کے سربراہ اپنے بیانات میں کہتے رہے کہ انہیں امریکی ایما پر اقتدار سے علیحدہ کیا گیا ہے لیکن امریکی حکومت بڑی ڈھٹائی سے اس بات کی تردید کرتی رہی کہ اس نے اخوان المسلمین کی حکومت گرانے کے لئے جنزل سیسی کی حمایت کی ہے لیکن اس کے بعد روایتی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ نے تسلیم بھی کر لیا کہ اس نے مصری ڈکٹیٹر کے ذریعے اخوان کی حکومت گرائی۔
یہ ساری سورتحال دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے تشویش کا باعث ہونی چاہئے تھی لیکن دنیا کے کسی بھی کونے سے امریکہ کے خلاف آواز نہ اٹھی البتہ ان حالات میں جماعت اسلامی نے اخوان المسلمین کی ہر محاذ پر مدد کی اور پاکستان میں امریکہ کے خلاف مظاہروں کی قیادت کی مصری حالات کے تناظر میں خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز کا کردار شروع میں قابل تحسین تھا لیکن جب شام میں موجودہ دنیا کے سب سے بڑے ڈکٹیٹر بشار الاسد کی حکومت کا خآتمہ نہ ہوا تو یہ درحقیقت سعودی عرب کی بہت بڑی شکست تھی اس لئے کہ بہت سے اہل سنت اپوزیشن گروہوں کی شام میں سعودی عرب حمایت کر رہا تھآ لیکن اس کے باوجود شامی فوج نے بڑی تعداد میں اہل سنت کی ایک بڑی تعداد کو شہید کر دیا اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ شام میں خادم الحرمین نے اہل سنت مسلمانوں کو تنہا نہیں چھوڑا اور ان کی ہر ممکن مدد کی شام کےء حوالےسے جماعت اسلامی پاکستان نے ہمشیہ خادم الحرمین کی پالیسی کو سراہا ہے لیکن جناب خادم الحرمین کی امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ قربت کے حوالے سے جماعت کو بہت سے تحفظات تھے۔
اس لئے کہ سعودی عرب اور امریکہ کی دوستی کے بعد جس طرح مصری ڈکٹیٹر کو کھلی چھوٹ دی گئی اس کی مثال نہیں ملتی اور اسی طرح آج جتنے مظالم اخوان المسلمین کے کارکنوں پر ہو رہے ہیں اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئے۔پہلے کی طرح مشکل کی اس گھڑی میں بھی جماعت اسلامی اخوان المسلمین کے ساتھ کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی پہلے مرحلے میں ہماری کوشش ہے کہ ہم جناب خادم الحرمین کو یہ باور کروائیں کہ وہ جس طرح شام میں اہل سنت کی مدد کر رہے ہیں اسی طرح مصر میں اخوان کی مدد کریں کہ یہی وقت کا تقاضہ ہے اگر جماعت اس کاوش میں کامیاب نہ ہو سکی اس کے پاس اخوان کے مطالبات تسلیم کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا اور اس حوالے سے اخوان کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ جماعت سمیت نیا بھر کے مسلمان مملکت سعودیہ کے غلط اقدامات کی مذمت کریں تا کہ مصر میں مشکلات کے شکار مسلمانوں کی طرف جناب خادم الحرمین کی توجہ دلائی جا سکے۔