کیا خادم الحرمین نواز شریف کو بچا لیں گے!

Posted on July 18, 2017



ڈاکٹر سید وسیم اختر
ایم پی اے جماعت اسلامی
ان دنوں پاکستان کا سیاسی درجہ حرارت اپنی آخری حدوں کو چھو رہا ہے قوم کے بچوں سے لے کر بڑوں تک اسی طرح میڈیا سمیت ہر فورم پر پانامہ اور جے آئی ٹی کی رپورٹ زیر بحث ہے۔
جماعت اسلامی پاکستان کو یہ امیتاز حاصل ہے کہ اس جماعت نے نہ کبھی کرپشن کی حمایت کی ہے اور نہ ہی کبھی کرپشن سے اپنے ہاتھ آلودہ کیئے ہیں سابق صد رآصف زرداری کی کرپشن ہو یا موجودہ وزیر اعظم نواز شریف کی کرپشن جماعت اسلامی نے ہمیشہ کرپٹ عناصرکے خلاف آواز اٹھا کر ان کے خلاف قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے جب گزشتہ سال پانامہ لیکس میں نواز شریف فیملی کی کرپشن کے حوالے سے رپورٹس سامنے آئیں تو جماعت اسلامی نے سب سے پہلے آواز اٹھاتے ہوئے نواز شریف سے استعفی کا مطالبہ کیا لیکن جب جماعت نے دیکھا کہ نواز شریف کے پیچھے بہت سی طاقتیں کھڑی ہیں جن کامقصد نواز شریف کو بچانا ہے تو جماعت اسلامی نےعدالت عالیہ جانے کا فیصلہ کیا اس وقت جب میں یہ الفاط قلم بند کر رہا ہوں پانامہ کیس میں کافی پیش رفت ہو چکی ہے اور جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد ایک سماعت بھی ہو چکی ہے کل دوبارہ اس کیس کی سماعت کی جائے گی فیصلہ کیا آتا ہے اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہے اس لئے کہ نواز شریف کو بچانے کے لئے اس وقت ایسی شخصیات ہاتھ پیر مار رہی ہیں جن کی درخواست یا حکم کو پاکستان کی فوج اوراسی طرح عدلیہ ماننے سے انکار کی جرات کر ہی نہیں سکتی وہی لوگ جنہوں نے ایک دور میں نواز شریف کو سابق ڈکٹیڑ جنرل پرویز مشرف کے چنگل سے چھڑوایا تھا آج ایک بار پھر کوشاں ہیں کہ نواز شریف کو پانامہ کے طوفان سے بچا لیں آج پاکستان میں حالات ایسے بن چکے ہیں کہ پاکستان کا بچہ بچہ نواز شریف فیملی کی کرپشن کے قصوں سے آگاہ ہو چکا ہے جے آئی ٹی کی رپورٹ نے نواز شریف اور ان کے خاندان کی لوٹ مار کو پوری قوم کے سامنے رکھ دیا ہے ان حالات میں عدلیہ کا فیصلہ یقینا نواز شریف کے خلاف ہے لیکن کچھ حقایق ایسے ہیں کن سے نظر چرانا زمینی حقائق سے چشم پوشی کرنا ہے پاکستانی فوج اور عدلیہ پاکستان کے مضبوط ادارے ہیں جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد خادم الحرمین شاہ سلمان عبد العزیز تین رکنی خصوصی وفد کئی مرتبہ خفیہ طور پر فوج کی مقتدر شخصیات اور اسی طرح پانامہ کیس کے ججوں سے مل چکا ہے متعدد ملاقاتوں میں فوج سے درخواست کی گئی ہے کہ نواز شریف پر ہاتھ ہولا رکھا جائے اور ناصرف انہیں نا اہلی سے بچایا جائے بلکہ اگلے انتخابات میں بھی انہی کی حکومت لانے کے لئے مدد کی جائے اسی سلسلہ میںّ عزت مآب خادم الحرمین شاہ عبد العزیز کا خصوصی وفد امیر جماعت سراج الحق صاحب سے بھی ملاقات کر چکا ہے جس میں وفد کے انتہائی معزز ارکان نے امیر جماعت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں نواز شریف کو ناہلی سے بچانے اور ان کی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا دینے کے لئے کوششیں کی جائیں جس پر امیر جماعت نے انتہائی احترام کے ساتھ سعودی وفد کو زمینی حقایْ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت نواز شریف کی گری ہوئ ساکھ کو سہارا دینا درحقیقت اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے لیکن وفد کے ارکان مطمئن نہیں ہو سکے اور بار بار امیر جماعت سے مطالبہ کرتے رہے کہ نواز شریف کی حمایت کے لئے کوئی قدم اٹھائیں جس پر امیر جماعت محترم سراج الحق صاحب کو وفد کے ارکان کو لمبی چوڑی بریفنگ دینا پڑی اور بتانا پڑا کہ جماعت اسلامی اس وقت نواز شریف کے خلاف عدالت میں کیس لڑ رہی ہے اور جماعت اس حوالےسے خادم الحرمین کا حکم ماننے سے قاصر ہے سعوعدی وفد کا نواز شریف کی حمایت کے لئے اصرار بڑھتا دیکھ کر جماعت اسلامی کے امیر نے جرات مندانہ موقف اپنانے ہوئے کہا کہ آپ لوگ میرا پیغام خادم الحرمین تک پہنچا دیں کہ ہم پاکستان کے حالات کو آپ سے بہتر سمجھتے ہیں اس لئے ہمیں کام کرنے دیں اور اسی طرح پاکستان کے داخلی معاملات میں دخل اندازی سے گریز اختیار کریں۔
جماعت اسلامی کے امیر کے دو ٹوک موقف سے یقینا اس وقت جماعت کو مشکلات کا سامنا ہے لیکن یہ وقت بتائے گا کہ امیر جماعت کا یہ موقف سو فیصد درست تھا۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ نواز شریف کو بچانا فوج کے بس میں بھی نہیں رہا لیکن اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ نواز شریف کے حق میں آتا ہے تو ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہم سعودی عرب کی ایک کالونی ہیں جہاں خادم الحرمین کے احکامات پر عمل ہوتا ہے اور ہم کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے میں آزاد نہیں ہیں۔
حقیقت کیا ہے کچھ ہی دنوں میں معلوم ہو جائے گی۔تب تک انتظار کرتے ہیں