اسلامی سربراہی کانفرنس کے اثرات

Posted on July 12, 2017



اسلامی سربراہی کانفرنس کے اثرات
ڈاکٹر سید وسیم اختر
ایم پی اے جماعت اسلامی
۲۱ مئی ۲۰۱۷ کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ۵۰ سے زائد اسلامی ممالک کی سرابراہی کانفرنس منعقد ہوئی اس کانفرنس کے میزبان خادم الحرمین شاہ سلمان بن عبد العزیز تھے اسی طرح اس کانفرنس میں امریکہ کو بھی خصوصی شرکت کی دعوت دی گئی اور امریکی نو منتخب صدر اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ خصوصی طور پر سعودی عرب آئے۔
اس کانفرنس میں امریکہ کی شرکت کے حوالے سے یہ کانفرنس پوری دنیا کی توجہ کا مرکزبن گئی اس لئے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسا اسلام دشمن مانا جانا والا شخص مسلمانوں اور اسلام کے سب سب سے بڑے روحانی مرکز کی طرف سفر کر رہا تھا عام مسلمان امریکی صدر کے دورے کو اپنی عقیدت کی نظر سے دیکھ رہا تھا کہ خادم الحرمین اور شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے اخلاق حسنہ سے اسلام کے بدترین دشمن کو بھی اتنا متاثر کر لیا ہے کہ یہ شخص اپنا سب سے پہلا رسمی سفر مسلمانوں کے سب سے اہم ملک کا کر رہا تھا۔
لیکن جیسے ہی امریکی صدد کا طیارہ سعودی فضاؤں میں نمودار ہوا اسلامی تہذیب اور سادہ مسلمانوں کی عقیدت کو خاک کرتے ہوئے آسمان کی وسعتوں میں گم کر دیا۔
سادہ مسلمانوں کے لئے ایک خاص تقدس رکھنے والے خادم الحرمین نے امریکی خاتون اول کا جس طرح استقبال کیا اس سے سادہ مسلمانوں کے جذبات دشمنی اور رنجش میں بدل گئے حتی اس حقیر نے بہت سے لوگوں کو ٹرمپ اور خادم الحرمین کے خلاف زبان کھولتے ہوئے دیکھا۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عام سادہ مسلمان کی عقیدت کی دیواریں جذبات کی بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہیں اسی لئے عام سا جھونکا بھی ان دیواروں کو گر اسکتا ہے اسی لئے اسلامی سربراہی کانفرنس میں کچھ مقامات پر اسلامی تہذیب کی مخالفت اور ٹرمپ کو غیر معمولی اہمیت دینے کے بعد پاکستان کے سادہ مسلمان کی سوچ میں ایک بڑا شگاف پڑا وہی سادہ مسلمان جو خادم الحرمین کی عظمت کے گیت گاتا تھا اس کانفرنس کے انعقاد کے بعد ٹرمپ سمیت خادم الحرمین کو بھی گالی دیتا پایا گیا۔
جماعت اسلامی کے عام کارکنوں کو بھی اسی سے ملتی جلتی صورتحال کا سامنا رہا لیکن جماعت اسلامی پاکستان کے غیر معمولی اور فقید المثال نظم و ضبط کی بدولت خادم الحرمین کے خلاف تشکیل پاتے ایک خاص بیانیہ کا راستہ روک دیا گیا اس حوالے سے جماعت اسلامی پاکستان کے تمام رہنما خراج تحسین کے مستحق ہیں۔
لیکن اس کانفرنس کے اعلامیے کے بعد یہ امید پیدا ہوئی کہ سب ممالک مل کر دہشت گردی کے خلاف لڑیں گے جیساکہ آپ سب جانتے ہیں کہ اسلامی ممالک میں انتشار کے ذمہ ار بعض ممالک کے علاوہ تقریبا تمام بڑے اسلامی ممالک اس کانفرنس میں شریک تھے لیکن اعلامیے میں جس طرح ایران کا ذکر کیا گیا یہ بھی شاید ایک سوچی سمجھی سازش تھی اس لئے کہ ایران کو اس اہم کانفرنس میں غیر ضروری اہمیت دے کر اس کو ہیرو بنایا گیا۔
اور شاید ٹرمپ کا اصل ہدف بھی یہی ہو کانفرنس کے بعد امید تو یہی کی جا رہی تھی کہ سب اسلامی ممالک ایران کے خلاف لڑیں گے اور اس کو اسلامی ممالک بالخصوص خلیجی ممالک میں کے امور میں ٹانگ اڑانے سے باز رکھیں گے لیکن نتیجہ اس کے بالکل برعکس نکلا اور کانفرنس کے انعقاد کے تھوڑے عرصے کے بعد ہی مسلمان ممالک میں آپس میں الھجنے لگے۔
اور بڑی تیزی کے ساتھ قطر اور سعودی عرب کے درمیان دوریاں بڑھنے لگیں اسی طرح امریکی ایما پرخادم الحرمین نے مصری ڈکٹیر کو مصر میں مسلمانوں کے جان و مال سے کھیلنے کا کھلا ٹاسک دے دیا اس وقت اخوان المسلمین مصرکے کارکن جن مشکلات کا شکار ہیں اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے اس ساری صورتحال میں جماعت اسلامی پاکستان کا کارکن خادم الحرمین کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھاتا نظر آ رہا ہے اور اس وقت سعودی عرب کے خلاف ایک خاموش فضا تیزی سے سب کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔
اس لئے آج ضرورت اس امر کی ہے کہ خادم الحرمین جناب شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ان کے فرزند ارجمند ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بصیرت سے کام لیتے ہوئے مصری مسلمانوں پر جاری مظالم کو رکوا کر اپنے خلاف بڑھتی ہوئی مخالفت کی فضا کو کم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ خادم الحرمین ہی پورے عالم اسلام کے روحانی پیشوا ہیں اور روحانی پیشوا کو دنیا کے کسی بھی کونے میں مسلمانوں پر جاری مظالم پر ہرگز خاموش نہیں رہنا چاہیئے۔