جناب خادم الحرمین مسلمانوں پر رحم کریں

Posted on July 9, 2017



ڈاکٹر سید وسیم اختر
ایم پی اے ۔جماعت اسلامی
برادر اسلامی ملک سعودی عرب کو پورے خطہ ارض میں یہ فوقیت حاصل ہے کہ یہاں حرمین شریفین واقع ہیں اسی طرح پوری دنیا کے مسلمانوں کی عقیدت کا مرکز ہیں جب کبھی بھی مکہ اور مدینہ کو خطرے کی بات ہوتی ہے تو ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ حرمین شریفین کے دفاع کے لئے کٹ مرے۔
موجودہ صدی میں گو کہ حرمین شریفین کو کسی سے بھی کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن اگر خطرہ ہے تو اپنوں سے ان لوگوں سے خطرہ ہے جنہوں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے حرمین شریفین کو ڈھال کے طورپر استعمال کرنا شروع کیا ہوا ہے جماعت اسلامی بہت سے اسلامی ممالک میں دین اسلام کی سربلندی اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے فعال ہے جب بھی خادم الحرمین شریفین نے جماعت سے حرمین کو خطرات سے آگاہ کیا تو جماعت نے پاکستان سمیت دوسرے اسلامی ممالک میں ناصرف بڑی بڑی ریلیوں کا انعقاد کیا بلکہ حرمین شریفین کی حفاظت کے پختہ عزم کا اعادہ کیا.
اور شاید یہی وجہ ہے کہ حرمین شریفین کے کسی بھی اندرونی یا بیرونی دشمن کو جرات نہیں ہوئی کہ وہ حرمین شریفین کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے اسی طرح ۲۰۱۴ میں جب یمنی حوثی فتنے نے سراٹھایا تو جماعت کے پاس سعودی عرب کےاہم ذمہ دار یہی خدشات لے کر آئے کہ حوثی باغی حرمین شریفین کی بے حرمتی کا منصوبہ بنائے بیٹھے ہیں۔
اس نازک موقع پر سعودی وفد کی قیادت کرنے والے امام کعبہ کو یقین دلایا گیا کہ پاکستان کا بچہ بچہ حرمین شریفین کے دفاع کے لئے کٹ مرنے پر تیار ہے اور دنیا نے دیکھا کہ جماعت نے پورے ملک میں ریلیوں اور جلسوں جلوسوں کے ذریعے خادم الحرمین کی حمایت کا اعلان کیا اسی طرح خادم الحرمین کی شخصیت کو جب جب خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو یہی جماعت اسلامی تھی جس نے خادم الحرمین کے دینی منصب کا خیال رکھتے ہوئے ان کا دفاع کیا۔
لیکن بدبختی کہیئے یا حالات کی ستم ظریفی ایک وقت وہ بھی آیا کہ جماعت کی تمام خدمات کو فراموش کرتے ہوِئے جماعت کے خلاف ہی ایک خاص فکر کے بعض سعودی لوگوں نے محاذ بنا لیا اسی طرح خادم الحرمین کے مقدس دینی منصب کے تقدس کو بھی پاؤں تلے روند دیا گیا
خادم الحرمین نے اسلامی ممالک کے اتحاد کا اعلان کیا تو جماعت نے سب سے پہلے پاکستان کے بہادر جنرل پرویز مشرف کی اس اتحاد کی سربراہی کی حمایت کی اور اپنا رسوخ استعمال کرتے ہوئے پاک آرمی اور حکومت پاکستان کو اس بات پر قائل کیا کہ وہ جنرل راحیل شریف کو ضرور سعودی عرب بھیجیں لیکن جیسا کہ پہلے ذکر کیا بعض لوگوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے یہ اتحاد ناصرف مسلمانوں لے لئے سود مند ثابت نہ ہوا بلکہ اس سے امریکہ جیسے عالمی دہشت گرد کو فائدہ پہنچا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سب سے پہلے سعودی عرب کا دورہ کیا تو اس دورے کے دوران حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے جماعت کے عام کارکن سے لے کر قیادت میں ایک بے چینی کی لہر دوڑ گئی لیکن پھر بھی جماعت کی طرف سے خاموشی اختیار کی گئی تاکہ حالات کو مزید بدتر ہونے سے بچایا جائے لیکن اس کے بعد امریکی شہہ پر قطر کے خلاف کاروائی کا آغاز ہوا تو جماعت کے وہ کارکن جو دل ہی دل میں جل رہے تھے انہوں نے زبان اعتراض آہستہ آہستہ کھولنا شروع کر دی حتی نوبت یہاں تک آ پہنچی اخوان المسلمین مصرنے باقاعدہ طور پر امیر جماعت سے مطالبہ شروع کر دیا کہ خادم الحرمین کو مصری ڈکٹیٹر کی حمایت سے باز رکھا جائے یا پھر جماعت اسلامی پاکستان خادم الحرمین کے اس اقدام کی مذمت کرے پہلے مطالبے کےلئے جماعت نے اپنا پورا رسوخ استعمال کیا لیکن کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں کی غیرت کو للکارا گیا تو محمد بن قاسم جیسے جوان اسلام کی تلوار بن گئے اس وقت مصری اخوانی مسلمانوں کا جن مسائل کا سامنا اس کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اخوان المسلمین کے رھنماؤں کی خواتین کو مصری ڈکٹیٹر کی فوج ریپ کا نشانہ بنا رہی ہے اس بے چارگی کے عالم میں مصری اخوانی مسلمانوں کی مایوسی کے بعد اگر نظر اٹھتی ہے تو وہ ترکی اور قطر سے ہوتی ہوئی سیدھی جماعت اسلامی پاکستان پر آ کر ٹک جاتی ہے آج دنیا سمٹ چکی ہے کسی بھی ظلم کو بری دیر تک چھپایا نہیں جا سکتا میری جماعت اسلامی کے ایک ادنی کارکن کی حیثیت سے خادم الحرمین شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے درخواست ہے کہ مصر کے حوالے سے اپنی پالیسی پر تجدید نظر کریں اسی طرح قطرکے ساتھ بھی ٹینشن کو جتنا جلدی ہو سکے پر امن مذاکرات کے ذریعے ختم کریں اسی میں مسلمانوں کی بھلائی ہے۔