سعودی امریکہ کٹھ جوڑ اور امت مسلمہ

Posted on July 1, 2017



ان دنوں سوشل میڈیا مجاہدین خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان اور ان کے خاندان سے کافی نالاں ہیں اور شاہ سلمان سمیت آل سعود کو صلواتیں سنانے اور لکھنے میں مصروف ہیں جبکہ آل سعود کے تمام تر اسلام اور مسلمان مخالف اقدامات کے باوجود ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اب تک نا صرف ال سعود کے غیر انسانی بلکہ شیطانی اقدامات کی حمایت کے لئے کوشاں ہے اور آل سعود کے اسلامی تہذیب کا سر عام مذاق اڑانے اور اسلام کو نقصان پہنچانے کے باوجود حق نمک ادا کرتے ہوئے مسلسل نا ال سعود کو اسلام اور مسلمانوں کا نمایندہ ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
آل سعود بڑے دھڑلے سے ایک طرف ٹرمپ جیسے اسلام اور مسلمانوں کے بدترین دشمن کے لئے دولت کی تجوریاں کھول رہے ہیں تو دوسری طرف قطر اور ایران کے مسلمانوں کے لئے زمین تنگ کر نے کے در پے ہیں آل سعود کی تاریخ گواہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے ہر وہ کام کیا جو اسلام اور قرآن کے احکامات کے صریحا مخالف تھا کون نہیں جانتا کہ اس وقت تک دنیا میں جتنے بھی دہشت گرد پکڑے گئے ہیں ان کا تعلق کسی نہ کسی حوالے سے آل سعود سے ملتا ہے۔
لیکن اسلامی دنیا کی رہبری کے دعوے دار آل سعود مسلمانوں کو یہ بتانے کے لئے ہرگز تیار نہیں کہ حضور والا جو خطیر اور غیر معمولی رقم آپ اپنے دوست اور عزیر حضرت ٹرمپ کی جھولی میں ڈال رہے ہیں یہ پیسہ کس کا ہے؟
اگر یہ پیسہ آپ کا ہے تو یقینا آپ کو حق پہنچتا ہے کہ آپ جس کو مرضی چاہیں دیں لیکن اگر یہ پیسہ دو مقدس مقامات کے انتظامات کی مد میں اکھٹا کیا گیا ہے تو پھر مکہ اور مدینہ آپ کے باپ کی جاگیر نہیں بلکہ ان دونوں مقدس مقامات پر دنیا بھر کے مسلمانوں کا حق ہے۔
اس وقت آل سعود کی حالت اس طوائف جیسی ہو چکی ہے جس کو پیسے دے کر کوئی بھی اپنے ساتھ لے کر جا سکتا ہے امریکی میڈیا بھی غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بار بار ٹرمپ جیسے بدترین اور فاسد شخص کے اقدامات کی کھلے عام مذمت اور مخالفت کر رہا ہے جبکہ آل سعود ایک طوائف کی مانند بانہیں کھول کر ٹرمپ کا استقبال کر رہے ہیں۔
اور اب خادم الحرمین شریفین کے دعوے دار اس حد کو عبور کر چکے ہیں جہاں سے بدنامی کی حدیں شروع ہوتی ہیں قطر کے لوگ مسلمان ہیں حتی آل سعود کے ہم مسلک ہیں لیکن کچھ قطری جوان اہل اقتدار نے فلسطین کی آزادی کے لئے جنگ لڑنے والے حماس کے مجاہدین کی حمایت کی تو آل سعود تلوار سونت کر قطر کے سر آ کھڑے ہوئے اور قطر کا ناطقہ بند کر دیا آج قطر کے عوام جن مشکلات کا شکار ہیں اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے اس لئے کہ ایک طرف قطر کو سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک کی طرف سے پابندیوں کا سامنا ہے تو دوسری طرف امریکہ بہادر بھی آل سعود کے ساتھ کھڑا نظر آ رہا ہے جس کے نتیجے میں قطر میں غذائی بحران شروع ہو گیا ہے۔
کچھ اسلامی ممالک نے آل سعود سے سفارش کی کہ قطری مسلمان ہیں ان پر ہاتھ ہولا رکھیں تو جواب میں آل سعود کی طرف سے جو مطالبات سامنے آئے ان کو سامنے رکھتے ہوئے آل سعود کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ”یہ مسلمان ہیں جن کو دیکھ کر شرمائیں یہود”مطالبہ کیا گیا کہ قطر حماس کے مجاہدین کی حمایت بند کرے اسی طرح آل سعود کے احکامات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی مرتب کرنے اسی طرح الجزیرہ ٹی وی کو بند کیا جائے۔
ستم دیکھئے کہ ال سعود کے نمک پر پلنے والے پراکسی وار مجاہدین آل سعود کے ان مطالبات کی بھی حمایت کے لئے نت نئے دلائل لانے کے لئِے کوشاں ہیں لیکن کم از کم تمام مکاتب فکر کے لوگ اس بات سے تو واقف ہوں چکے ہیں کہ آل سعود کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ان لوگوں کو اگر کسی چیز سے سروکار ہے تو وہ ہے اقتدار اور اس کی حفاظت کے لئے وہ کچھ بھی کرنے کے لئے تیار ہیں ٹرمپ کے لئے دولت کی بارش اور قطر کا ناطقہ بند کرنا اس کی مثال ہے۔
شاعر نے شاید انہی لوگوں کے بارے میں ہی کہا تھا
ہم طالبِ شہرت ہیں، ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا
شہرت کی جگہ اقتدار پڑھا جائے تو یہ شعر آل سعود کے حسب حال ہے۔