امریکہ سعودی عرب کو گائے کے طور پر استعمال کر رہا ہے

Posted on May 28, 2017



ایران کے مذہبی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے علاقائی حریف سعودی عرب کے خلاف ایک مرتبہ پھر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کو ’کافر‘ امریکہ ’دودھ دینے والی ایک گائے‘ کی طرح استعمال کر رہا ہے۔

سنیچر کو اسلامی مہینے رمضان کے آغاز کے موقعے پر ایک تقریب میں ان کا کہنا تھا ک ’بظاہر یہ لوگ قرآن پر یقین رکھتے ہیں مگر عملی طور ہر یہ قرآن کی تعلیمات کے خلاف کام کرتے ہیں۔

’وہ کفار کے قریبی دوست ہیں اور دشمن کو وہ پیسے دے رہے ہیں جنھیں اپنے لوگوں کی بہتری کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
مریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کے بارے میں انھوں نے مزید کہا کہ ’مگر حقیقت میں ان کے درمیان کوئی قربت نہیں۔ جیسا امریکہ کہہ چکا ہے وہ صرف انھیں دودھ دینے والی گائے کی طرح صرف پیسوں کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحیثیت صدر اپنے پہلے غیر ملکی دورے کا آغاز سعودی عرب کے ساتھ ساڑھے تین سو ارب ڈالر کے معاہدوں سے کیا تھا۔
ان معاہدوں میں ایک سو پچاس ارب ڈالر کا اسلحے سے متعلق معاہدہ بھی شامل ہے جو کہ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکہ کی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی معاہدہ ہے۔

ایران اور سعودی عرب دونوں ممالک کے درمیان شدید تناؤ ہے اور علاقائی سطح پر دونوں ایک دوسرے کے خلاف متعدد محاذوں پر ملوث ہیں جن میں شام اور یمن شامل ہیں۔

ادھر صدر ٹرمپ کے دورے کے دوران امریکی وزیرِ خارجہ ٹِلرسن نے ریاض میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی معاہدوں کا مقصد ایران کے ضرررساں اثرورسوخ کا مقابلہ کرنا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ دفاعی سازو سامان اور سروسز سے سعودی عرب اور پورے خلیجی خطے کو طویل مدت تک سکیورٹی کی مد میں معاونت ملے گی۔