سعودی عرب کے تیل کی تاریخ میں امریکی کردار

Posted on May 21, 2017



مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بطور صدر اپنے پہلے دورے کے لیے سعودی عرب کا انتخاب کیا ہے جہاں وہ عرب اسلامک امیریکن اجلاس میں شرکت کریں گے۔

صدر ٹرمپ کو حال ہی میں چھ مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے امریکہ آنے پر سفری پابندیاں لگانے کی کوششوں کی وجہ سے اسلام مخالف کہا جا رہا تھا، وہ اپنا اولین دورہ کسی مسلم ملک کا کر رہے ہیں۔
امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات سات دہائیوں پر محیط ہیں۔ اس 70 سالہ اتحاد کی سب سے اہم بات تیل کے بدلے سکیورٹی کی فراہمی رہی ہے۔ تاہم اس عرصے میں دونوں ممالک کے روابط میں اتار چڑھاؤ آیا۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ایک مختصر نظر مندرجہ ذیل ہے۔
سعودی عرب نے اپنی پہلی تیل مراعات کے حوالے سے معاہدہ 1933 میں امریکی کمپنی سٹینڈرڈ آیل کمپنی کے ساتھ کیا۔ پانچ سال بعد سعودی عرب کے مشرقی علاقے دمام سے تیل کے ذخائر برآمد ہوئے۔ سنہ 1944 میں عریبیئن امیریکن آئل کمپنی (ارامکو) قائم کی گئی جو 1952 تک نیو یارک میں واقع رہی۔ سعودی حکومت نے 1980 میں اس کمپنی کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا۔
مریکہ اور سعودی عرب کے سٹریٹجک روابط ماڈرن سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز السعود کے زمانے سے ہیں جب وہ امریکی صدر فینکلن روزوولٹ سے 1945 میں امریکی بحری جنگی جہاز یو ایس ایس کوئنسی پر ملے۔ سوئز کنال میں ہونے والی اس ملاقات میں دو اہم امور پر بات ہوئی۔ ایک فلسطین میں یہودی ملک کا قیام اور دوسرا سعودی امریکی معاہدہ جس کے تحت امریکہ سعودی عرب کو سکیورٹی فراہم کرے گا اور بدلے میں سعودی تیل تک امریکہ کو رسائی دی جائے گی
1 میں عراق کے صدر صدام حسین نے کویت پر حملہ کیا تو کویت سے عراقی فوج کو نکالنے کے لیے امریکہ نے سعودی عرب فوج بھیجی۔ چند سخت موقف رکھنے والی سعودی مذہبی شخصیات نے سعودی عرب میں امریکی فوج کی تعیناتی کی مذمت کی۔ امریکی فوج کا سعودی عرب سے انخلا 2003 میں ہوا جب عراقی صدر صدام حسین کا تختہ الٹ دیا گیا۔ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان انسادا دہشت گردی کے حوالے سے روابط مزید مضبوط ہوئے اور سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق سعودی عرب امریکہ سے سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والا ملک بن گیا۔
1979 میں سوویت یونین افغانستان میں داخل ہوا جس کا مقابلہ کرنے کے لیے مجاہدین کی فوج تیار کی گئی۔ اس فوج کی تیاری میں امریکہ کا ساتھ دیا سعودی عرب اور پاکستان نے۔ اس فوج میں ہزاروں سُنی جنگجو شریک ہوئے بشمول اسامہ بن لادن جو بعد میں القاعدہ کے سربراہ بھی بنے۔۔
1991 میں عراق کے صدر صدام حسین نے کویت پر حملہ کیا تو کویت سے عراقی فوج کو نکالنے کے لیے امریکہ نے سعودی عرب فوج بھیجی۔ چند سخت موقف رکھنے والی سعودی مذہبی شخصیات نے سعودی عرب میں امریکی فوج کی تعیناتی کی مذمت کی۔ امریکی فوج کا سعودی عرب سے انخلا 2003 میں ہوا جب عراقی صدر صدام حسین کا تختہ الٹ دیا گیا۔ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان انسادا دہشت گردی کے حوالے سے روابط مزید مضبوط ہوئے اور سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق سعودی عرب امریکہ سے سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والا ملک بن گیا۔
امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات 11 ستمبر 2001 میں امریکہ پر حملے کے بعد خراب ہوئے جن میں تین ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ جن 19 ہائی جیکروں نے جہاز ہائی جیک کیے تھے ان میں سے 15 کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔
2015 میں امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنے پر سعودی عرب کو ایساں ہوا کہ اس کو دھتکارا گیا ہے۔ سعودی عرب نے دیگر تیل سے مالا مال سُنی عرب ملکوں کے ساتھ مل کر جارحانہ خارجہ پالیسی اپنائی۔ اس پالیسی کے نتیجے میں اس نے بحرین میں جمہوریت کے حق میں ہونے والے مظاہروں کو کچلنے کے لیے فوج بھیجی، مصر میں عبدالفتح السیسی کی جانب سے حکومت الٹنے کی حمایت کی، اور یمن میں جاری خانہ جنگی میں اپنی فوج کو اتارا۔
ستمبر 2016 میں امریکی کانگریس نے ایک بل منظور کیا جس کے تحت ستمبر 11 کے حملوں میں ملوث ہونے پر سعودی عرب پر امریکی شہری مقدمہ دائر کر سکتے ہیں۔ اس بل کو رکوانے کے لیے وائٹ ہاؤس اور سعودی عرب نے بے حد کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ سعودی عرب نے یہاں تک کہا کہ اگر یہ بل منظور کیا گیا تو سعودی عرب امریکہ میں اپنی سرمایہ کاری ختم کر دے گا۔