کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟ سولہویں قسط

Posted on May 3, 2017








کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟
سولہویں قسط
تحریر:- حبیب جان لندن

بھارتی ایجنسیوں کے مطابق پاکستان کو نقصان پہچانے کیلئے پاکستان کے اندر سے ہی لوگ بآسانی ارازاں قیمت پر دستیاب ہوجاتے ہیں لہذا بھارت کو اب مزید سر دردی کرنے کی ضرورت نہیں۔ اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر بھارتی اس قدر اعتماد کے ساتھ یہ بات کس طرح کر سکتے ہیں کہ انہیں پاکستان کو نقصان پہنچانے کیلئے ان کے اندر سے ہی لوگ دستیاب ہونے لگے ہیں۔ اور اب یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی پچھلی دو دہائیوں سے بھارت ہمارے یہاں تخریبی کاروائیاں ہمارے ہی لوگوں سے دھڑلے سے کروا رہا ہے۔

بلوچستان ہو یا کراچی پشاور سے لیکر لاہور تک، گویا وزیرستان سے لے کر کراچی تک بھارت نے تخریبی کاروائیوں کیلئے ایک ایسا منظم نیٹ ورک تیار کیا ہوا تھا یا کیا ہوا ہے جس کو توڑنے کیلئے سول اور عسکری اداروں کے اعلی ترین سوجھ بوجھ رکھنے والے دماغوں کو نہ صرف ایک ٹیبل پر بیھٹا ہوگا بلکہ ایک دو سالہ نہیں کم از کم پچاس سالہ منصوبہ بندی کرنا ہوگی، بالکل انگریزوں کی طرح کہ اس دہشت گردی کے عفریت سے کس طرح نمٹا جائے۔ کیونکہ اب دشمن بھی واضح اور اس کے عزائم بھی ڈھکے چھپے نہیں اور افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے اپنے ہی لوگ دشمن کے آلہ کار بن کر اپنے ہی وطن کو نقصان پہنچانے میں لگے ہوئے ہیں۔

جس طرح ہم نے پہلے بھی کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہماری سول اور عسکری قیادتیں ماضی میں کی گئی غلطیوں کے ازالہ کرتے ہوئے کوئی ایسا ٹھوس لائحہ عمل مرتب کریں جس سے نہ صرف آنے والی نسلوں کو فوائد حاصل ہو بلکہ پاکستان کی سالمیت بھی مستحکم ہو۔ ہمیں اس حقیقت کا بھی ادراک ہونا چاہئیے کہ بندر کی گلاٹ اور کتے کی دُم کبھی سیدھی نہیں ہوسکتی لہذا جب تک دنیا آباد ہے بھارت سے پاکستان کے تنازعات کسی نہ کسی صورت جاری رہیں گے۔ آزادی کے وقت سے لے کر اب تک بھارتیوں نے پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا، کیونکہ وہ دن رات گائے کی پُوجا کرتے ہیں اور ہم رات دن کھانے میں لگے رہتے ہیں۔ لہذا ہم لاکھ مُحبت کے منتر پڑھتے رہیں وہ کبھی بھی ہمارے سجن نہیں ہو سکتے۔

اب ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ آخر ہمارے ایسے وہ کون لوگ ہے جن کو بھارتی ایجنسیاں بڑی آسانی سے اپنے دام میں پھانس لیتی ہیں۔ ذرا سے غور کرنے کے بعد نتیجہ نکلتا ہے کہ پشتون، بلوچ، پنجابی اور مہاجر کمیونٹی کے کچھ گمراہ لوگ بھارتی ایجنسیوں کیلئے کام کرتے نظر آتے ہیں اکثریت کے بیانات اور انٹرویوز “جے آئی ٹیز” یعنی جوائنٹ انویسٹیگشن ٹیم کے زریعے سامنے آتے رہتے ہیں۔ بلوچستان کا بلوچ اور کراچی کا اردو بولنے والا مہاجر احساس محرومی کا رونا روتے ہوئے بھارتیوں کے ہاتھوں استمعال ہوتا ہے تو دوسری طرف پنجاب اور پختون خواہ کے لوگ مذہبی لبادے اوڑھے ہندوؤں کے ہاتھوں استمعال ہو کر اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے خون سے ہاتھ رنگتے نظر آتے ہیں۔

پاکستان میں جاری دہشت گردی میں استمعال ہونے والے لوگ اور ان کے بیک گراؤنڈ کو جانے بغیر آپ کیسے دہشت گردآنہ کاروائیوں کو ختم کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے خلاف استمعال ہونے والے لوگ بھارت انتہائی چالاکی اور ہشیاری کے ساتھ استمعال کر رہا ہے۔ پنجابی اور پشتون کو وہ مذہبی معاملات میں اُلجھا کر تو بلوچ اور مہاجر کو حقوق کے نام پر راگ دے کر ہمارے خلاف جب چاہتا ہے استمعال کر لیتا ہے۔ اور ایسا جب ہی ممکن ہوتا ہے جس معاشرے میں وسائل کی تقسیم منصفانہ نہ ہو مال و دولت کسی ایک مخصوص طبقہ کے کنٹرول میں ہو۔ غریب دو وقت کی روٹی کیلئے مارا مارا پھرتا رہے علاج معالجہ کی سہولتیں تو دور زندگی میں ایک لمحہ کا بھی سکون میسر نہ ہو، دوسری طرف زندگی کم خوابوں اور عشرت کدوں میں گزر رہی ہو تو کوئی بھی چند۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔