کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟ پندرہویں قسط

Posted on April 24, 2017



کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟
پندرہویں قسط
تحریر:- حبیب جان لندن

آپ جیسا کہ پچھلی چودہ اقساط میں مختصرا جائزہ پڑھ چکے ہیں۔ کوشش کی گئی ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے چُھپے محرکات کو تلاش کر کے ان کا حل نکالا جائے۔ اس وقت دنیا دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں، امریکہ برطانیہ سمیت یورپ اور مشرق وسطی سب ہی اپنی اپنی جگہ دہشت گردی کے عفریت سے نبروآزما ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان گزشتہ کئی عشروں سے دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار رہا ہے۔ اور اس پر ستم ظرفی یہ ہے کہ امریکہ برطانیہ سمیت دنیا کے دیگر ممالک پاکستان سے ہمدردی کرنے کے بجائے پاکستان ہی کو دہشت گردی کا محرک گردانتے ہیں۔

اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کی سول حکومت اور فوجی اسٹبلشمنٹ کو حقائق کا ادراک کرتے ہوئے پاکستان کے مسائل کو سامنے رکھ کر دنیائے عالم اور باالخصوص امریکہ اور برطانیہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالکر دہشت گردی کے خاتمہ پر بات کرنا ہوگی۔ اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ دنیا اور پاکستان میں وقتا فوقتا ہونے والی دہشت گردآنہ کاروائیوں کے پیچھے مذہبی رجحانات رکھنے والے وہ نوجوان ہیں جو اسلام کے نام پر مبلغوں کی منفی اور جارحانہ تبلیغ سے متاثر ہو کر نہ صرف اپنی زندگی بلکہ کئی دیگر معصوم زندگیوں کو بھی ختم کرنے کے درپے نظر آتے ہیں۔

یہ وہی اسلامی مبلغ ہے جن کو ماضی میں بقول سابق امریکن سیکریٹری خارجہ ہیلری کلنٹن کے ہم نے سویت یونین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور گرم پانی پر قبضہ کو روکنے کیلئے “طالبان” اور “داعش” جیسی تنظیمیں تشکیل دی اور اس کام کیلئے ہم امریکنوں نے پاکستان کا انتخاب کیا۔ اسی طرح کے دعوے اکثر امریکن “سی آئی اے” اور دیگر تھنک ٹینک بھی کرتے نظر آتے ہیں کہ طالبان اور داعش کے پیچھے امریکن ڈاکٹرائن تھیوری تھیں۔ یہ تمام دعوے اور حقائق آج بھی سوشل میڈیا کی بہت ساری ویب سائٹس پر موجود ہے صرف گوگل پر سرچ کرنے کی ضرورت ہے۔

ہم نے پچھلی قسطوں میں جو تمہید باندھی تھی کہ اس وقت کے آمر جنرل ضیاءالحق کو اپنے اقتدار کو تحفظ دینے کیلئے امریکن تھیوری میں تحفظ نظر آیا اور یوں قائد اعظم کا پاکستان ایک آمر نے ایسی پرائی جنگ میں دھکیل دیا جس کا کوئی اختتام نہ تھا۔ اقتدار کے تحفظ کی گارنٹی کے ملنے بعد جنرل ضیاءالحق نے اپنے کور کمانڈرز کو ڈسپلین کے نام پر تو دوسری طرف پاکستان کے عوام کو سخت مارشل لائی قوانین کے خوف میں جکڑ کر مذہبی جماعتوں کے ساتھ مل کر اسلام کے نام پر مجاہدین پیدا کرنے کی فیکٹریوں کی بنیادیں رکھ دیں جو رات دن امریکہ کیلئے بطور ایندھن استمعال ہوتے تھے۔

یہاں یہ ایک بات کرنا ضروری ہے کہ اس وقت کی مذہبی جماعتوں کے سربراہان کو جنرل ضیاء اور امریکن گٹھ جوڑ کا علم تھا یا نہیں کہ یہ افغان جہاد پاکستان کی سالمیت اور اسلام کی سربلندی کیلئے تھا یا صرف اور صرف امریکہ کا دنیا کی واحد سپر پاور بننے کا خواب تھا۔ دیگر صورت آج بھی اعلی عدالتوں کے زریعے جنرل ضیاء اور اس وقت کی مذہبی قیادتوں کے تعلقات اور مفادات کی تحقیقات کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ پاکستانی قوم آج بھی مُلک میں جاری دہشت گردی میں مذہبی جماعتوں کے کردار کو مشکوک نگاہوں سے دیکھتی ہیں۔

اس بات میں قطعا دو رائے نہیں کہ آج کل ہونے والی دہشت گردآنہ کاروائیوں کے پیچھے پاکستان کے کئی ایک دشمن اور باالخصوص بھارت کا ہاتھ نظر آتا ہے اور بقول نریندر مودی کے سیکوریٹی ایڈوائزر اجیت دیول اور سابق بھارتی آرمی چیف سنگھ کے ہمیں اب اپنے لوگ پاکستان بھیجنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اب ہمیں تخریبی کاروائیوں کیلئے پاکستان میں ہی لوگ باآسانی دستیاب ہوجاتے ہیں۔ مطلب یہ کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی نرسریوں میں پیدا ہونے والے خودکش بمبار کوئی بھی پاکستان دشمن کرائے پر حاصل کر کے اپنے مذموم مقاصد کیلئے استمعال کر سکتا ہے۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔