سب گاڈ فادر دیکھ رہے ہوں گے’

Posted on April 23, 2017








سوشلستان میں پاناما کا ڈراپ سین اپنے آخری دموں پر ہے اور اب اس کے سیکوئیل کی تیاریاں ہیں۔ دخترِ اول کے زیرِ انتظام ’کی بورڈ جنگجو‘ اور پی ٹی آئی اے کے مختلف رہنماؤں کے سوشل میڈیائی جتھے سب صف آرا ہور ہے ہیں اور فیصلے کے بعد کی بے یقینی اور ہڑبونگ سے باہر آنے کی کوششیں زور و شور سے جاری ہیں۔ جیسے یہ سارا معرکہ ٹوئٹر اور فیس بُک پر بذریعہ وٹس ایپ ہی تو لڑا جائے گا۔ مگر ہم آج بات کریں گے گاڈ فادر کی اور اس سے بالکل مراد سپریم کورٹ کے فیصلے میں ذکر کیے جانے والے جملے کی ہے۔

‘سارے پٹواری گاڈ فادر دیکھ رہے ہوں گے’

سپریم کورٹ کے فیصلے کا آغاز مشہور ناول نگار ماریو پوزو کے شہرہ آفاق ناول ‘گاڈ فادر’ کی ایک لائن سے کیا ہے جس پر بعد میں شہرہ آفاق فلم بھی بنائی گئی تھی۔

وہ جملہ ہے کہ ‘ہر خزانے کے پیچھے ایک جرم ہوتا ہے’ اور اس پر شریف خاندان کے مخالفیں ہی نہیں بہت سے دوسرے بھی سوشل میڈیا پر تبصرے کر رہے ہیں۔

مائیکل کوگلمین نے تو یہ لکھا کہ ‘اگر گاڈ فادر کی لائن آپ کو 530 صفحات کے فیصلے کو پڑھنے پر آمادہ نہیں کرتی تو پھر کیا کرے گا؟’

صغیر مرزا نے لکھا ‘میں آج ہی گاڈ فادر ڈھونڈوں گا، یقیناً دلچسپ ہو گا کیونکہ اس کی مماثلت ہمارے شاہی خاندان سے بہت زیادہ ہے۔
زیر صدیقی کے مطابق ‘گاڈ فادر کا جملہ 530 صفحات کی کہانی بیان کرتا ہے۔ یہ ایک سطر فیصلہ ہے۔’

انزل شاہ نے تو یہ تک مطالبہ کر دیا کہ ‘اس ناول کو آئینِ پاکستان کا حصہ بنا دیا جائے۔
مگر سب اس بات سے متفق نہیں جیسا کہ معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر نے جیو نیوز کے ایک پروگرام میں کہا کہ ‘گاڈ فادر کے ساتھ مشابہت دینی۔ تو ایک تعصب خودبخود نظر آتا ہے۔ اور میں سمجھتی ہوں کہ ایک بہت اچھے جج ہیں ان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ آپ اپنا فیصلہ لکھتے جو بھی ہے برا بھلا۔ اُس کو نا اہل قرار دیتے۔ مگر اپنا تعصب اتنا ابھار کر باہر نکالنا میں نہیں سمجھتی کہ یہ ایک جج کو ذیب دیتا ہے۔’

عاصمہ نے آخر میں کہا کہ ‘میں امید کرتی ہوں کہ اگلا فیصلہ جو ہو گا وہ چارلی ولسن سے شروع ہو گا۔’

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے مذکورہ جج صاحب نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کے فیصلے میں اپنے اضافی نوٹ کا آغاز خلیل جبران کی شاعری سے کیا تھا۔