کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟ چودہویں قسط

Posted on April 16, 2017



کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟
چودہویں قسط
تحریر:- حبیب جان لندن

افغان جہاد کے نتائج نے جہاں سویت یونین کو تقسیم در تقسیم کردیا وہی عالمی دنیا بھی عدم توازن کا شکار ہوگئ۔ امریکہ واحد تھانیدار بن بیٹھا۔ یورپ نے اپنے تئی ہاتھ پاؤں مار کر جرمنی کی سربراہی میں یورپی یونین بلاک تشکیل دے کر سنگل کرنسی یورو زون میں داخل ہوگئے، جبکہ اس کے برعکس ہماری اشرافیہ آنے والے کل سے غافل صرف اور صرف اپنی خر مستیوں میں ہی مشغول رہی۔ دنیا کے منصوبہ ساز دس اور پچاس سالہ منصوبوں کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے بلیو پرنٹ چھاپ رہے تھے جبکہ ہم ڈالرز، ریال، درہم اور گندم کی امداد پر زندگی کے شب و روز گزارنے کے عادی ہوتے جارہے تھے۔

عربک، ازبک، تاجک سمیت پاکستانی افغانی مُجاہدین دونوں طرف باالخصوص افغانستان میں غازیوں والی شان و شوکت کی زندگی شروع کرنے کے بعد اب پاکستان میں قدم جمانا چاہتے تھے۔ پہاڑوں کے بعد پشاور اسلام آباد لاہور اور معاشی حب کراچی میں رہائشیں اختیار کی جانے لگیں۔ آپس میں رشتہ داریاں قائم ہونے لگیں۔ معصوم پھول کھلنے لگے آہستہ آہستہ پاکستان دنیا کا سب سے بڑا جہادی ٹرانزٹ مُلک بن گیا۔ جس طرح ہم نے پہلے لکھا کہ سویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد امریکہ نے افغانستان سے جلد نکل جانے میں عافیت جانتے ہوئے پاکستان کو دلدل میں دھکیل دیا۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اگر اس وقت پاکستان میں آمریت کی جگہ مستحکم جمہوریت ہوتی تو یوں امریکہ ہمیں بے یارو مددگار چھوڑ کر نہ بھاگتا۔ پاکستان کے ساتھ اسلامی ممالک کی تنظیم آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹری کا بھی کوئی ایسا تعاون نظر نہیں آتا جس سے پاکستان کو باالواسطہ یا بلا واسطہ فائدہ ہوا ہو۔ اس وقت کے آمر نے صرف اسی بات پر اکتفا کیا کہ بین الاقوامی طاقتیں اور اسلامی ممالک ان سے پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے مطالبہ پر زور نہ دیں اور ان کی شہنشاہیت برقرار رہے۔

مونچھوں کو تاؤ دینے کے علاوہ ہندوستان سے کرکٹ ڈپلومیسی اور کشمیر کے نام پر دکانداری سجانے کے ساتھ ساتھ پاکستانی معاشرے کو ایک ایسی دلدل میں دھکیل دیا گیا جس کا خمیازہ قوم آج تک بھگت رہی ہیں۔ اگر اس وقت جنرل ضیاء کی آمرانہ پالیسیوں کو مذہبی جماعتیں بھٹو دشمنی میں من و عن تسلیم نہ کرتی تو یقینا آج کا پاکستان قدرے مختلف ہوتا۔ عمل سے خالی دکھاوے کی اسلامی محبت اور اور اخوت کے درس نے اُلٹا سماج کو ایک دوسرے کے خُون کا پیاسا کردیا۔ ضیاءالحق اور مذہبی اکابرین اسلام کو اپنے اپنے فوائد اور مقاصد کیلئے استمعال کرتے رہے، شیر و شکر رہنے والے لوگ جنت کی جستجو اور حوروں کی تلاش میں ایسے سرگرداں ہوئے کہ اللہ کی زمین پر قتل و غارت گری کا بازار گرم کردیا۔

اس بات سے شاید ہی کسی کو اختلاف ہو کہ آج پاکستان میں جاری دہشت گردی کی بنیادی وجوہات میں جنرل ضیاءالحق کی وہ پالیسیاں تھیں جو بغیر کسی مشاورت اور سوچے سمجھے بغیر پاکستان پر مسلط کردی گئیں۔ افغان جہاد سے لے کر مجاہدین کی بحالی اسلامی نظام کے نفاز سے لے کر سیاسی و مذہبی پارٹیوں کی آبیاری تک وہ وہ غلطیاں و کوتاہیاں کی گئیں جس کا تزکرہ کرتے ہوئے بھی دل لرز جاتا ہے۔ آج کے حکمران اور منصوبہ ساز جو ماضی میں جنرل ضیاءالحق کے ساتھ روحانی انسیت رکھتے تھے کئی بار اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ ایک آمر کی حمایت کرنا ان کی بڑی حماقت تھی۔ لیکن افسوس آج تک وہ اپنی کی گئیں حماقتوں کا ازالہ کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔

آج پاکستان دشمنوں میں گھرا ہوا ہے، کل کے دوست پڑوسی اسلامی ممالک بھی آج دشمنی میں بہت آگے نکل گئے ہیں سرحدیں غیر محفوظ تو ازلی دشمن بھارت سازشوں میں مصروف ایسے میں کل کے ایک آمر ضیاءالحق کی پالیسیوں کا بھیانک تجربہ رکھنے والے ہمارے آج کے حکمران نیک نیتی اور خلوص سے اگر پاکستان کو سر و سبز و خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں تو ان حکمرانوں کو مصلحتوں اور کدورتوں سے بالا تر ہو کر صرف اور صرف ایسی پالیسیاں تشکیل دینا ہوگی جو نہ صرف آنے والی ۱۰۰ سال کی نسلوں کی ضرورتوں کو پورا کرے اور پاکستان کو دنیا کی تمام اقوام کے ساتھ عزت و احترام کے ساتھ کھڑا ہونے معاونت فراہم کرے۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔ آئندہ قسطوں میں دہشت گردی کے خاتمہ کا حل کیسے ممکن ہے پڑھیں۔۔۔۔