کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟ تیرہویں قسط

Posted on April 9, 2017



کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟
تیرہویں قسط
تحریر:- حبیب جان لندن

محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد حقیقتا پاکستان سیاسی قیادت کے معاملات پر بانجھ ہوگیا۔ یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیں کہ آج کا پاکستان سیاسی وجدان سے محروم جس کی نہ کوئی خارجہ اور نہ ہی داخلہ پالیسی ہے۔ جتنا روتے ہیں اپنا ہی دامن بگھوتے ہیں۔ جنرل مشرف کے ۲۰۰۸ کے الیکشن میں کنگ پارٹی تمام تر کوششوں کے باوجود اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکی۔ جنرل مشرف کو ۱۰۰ بار منتخب کرانے والے اپنی نشست بھی نہ بچا سکے۔ شہید بینظیر بھٹو کی پارٹی سادہ اکثریت حاصل کر کے مرکز میں جلوہ افروز ہوگئی۔ عام خیال پیدا ہو چلا تھا کہ میشاق جمہوریت کے بعد پاکستان کی دونوں بڑی سیاسی پارٹیاں بشمول دیگر مذہبی اور علاقائی پارٹیاں ماضی میں کی گئی غلطیوں سے اجتناب کرتے ہوئے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے انقلابی اقدامات کریں گیں۔

عام خیال تھا شہیدوں کی پارٹی اپنے “روٹی کپڑا اور مکان” کے نعرے کو حقیقت کا رنگ دیکر مزدور کسان طالب علم کی زندگی میں سبز انقلاب برپا کردے گی لیکن صد افسوس اس کے برعکس کرپٹ اور لالچی لوگوں نے سوائے اپنی ذات سے آگے نہیں دیکھا، تمام آئینی ترامیم اور صدارتی آرڈینینس صرف پارلیمان یا ان کے خاندان کی زندگیوں میں تبدیلی لانے کیلئے لائے گئے۔ مفاہمت کے نام نہاد گُرو نے جوڑ توڑ کر کے جنرل مشرف کو اقتدار سے باہر کر کے جو احسان قوم پر کیا تو دوسری طرف سود سمیت منافع حاصل کرتے ہوئے اپنی ذات کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے امیر ترین لوگوں کی فہرست میں شامل کروا لیا۔

اگر وسائل کی تقسیم منصفانہ نہ ہو ایک طبقہ امیر سے امیر تر ہوتا جائے اور دوسرا طبقہ عزت نفس کے تحفظ کیلئے جدوجھد کر رہا ہو، بھوک و افلاس کے ڈیرے ہو علاج معالجہ کی سہولتیں ناپید ہوجائے زندہ رہنے کیلئے کم ظرفوں کے آگے جُھکنا پڑے تو ایسے میں دو ہی راستے رہ جاتے ہیں مارو یا مر جاؤ۔ کچھ اسی طرح کی صورتحال پاکستان میں حکمرانوں نے اشرافیہ کے ساتھ مل کر پیدا کردی ہے۔ ایک طرف حکمران طبقہ اشرافیہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے تمام وسائل پر قابض جبکہ عوام خودکشیاں کرنے پر مجبور۔ آج پاکستان میں عام آدمی کا یقین سیاستدانوں سے بالکل اُٹھ گیا ہے عوامی جلسوں میں جب تک بریانی اور قورمہ نہ ہو لوگ آتے ہی نہیں حالانکہ یہئی عوامی جلسے ہوتے تھے جہاں بندے پہ بندہ چڑھا ہوا ہوتا تھا نہ کوئی سوشل میڈیا تھا نہ ہی زور زبردستی تھی۔

پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ عام انسان کے اندر پائی جانے والی محرومی بھی ہے اسی بناء بھارتی حکمراں بڑے اعتماد اور گھمنڈ کے ساتھ یہ کہتے اور دعوے کرتے نظر آتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کروانے کیلئے ہمیں وہی سے کرائے پر لوگ مل جاتے ہیں لہذا اب بھارت کو زیادہ سر دردی کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس وقت پاکستان میں دہشت گرد کاروائیوں میں مصروف دو طرح کے گروپ ہندوستان کے ہاتھوں استمعال ہورہے ہیں۔ ایک تو وہ جو افغان جہاد کے سر خیل جو سویت یونین کو دُھول چٹوانے کے بعد ہیرو سے زیرو بنے تو دوسرے وہ لوگ جو بلوچستان اور کراچی میں حقوق نہ ملنے کا شکوہ کرتے ہوئے بھارتی ایجنسیوں کے آلہ کار بن گئے۔

اب آتے ہیں اصل مدعے کی طرف کہ آیا واقعی پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟ ہم نے اپنی پچھلی بارہ قسطوں میں مختصرا جو احاطہ کیا ہے اس سے یہ بات سمجھنا قطعا مشکل نہیں کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے پیچھے ہمارے حکمرانوں اور اشرافیہ کی انتظامی نااہلیوں اور مال و زر کی ہوس نے بڑا اہم کردار ادا کیا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک حکمرانی کرنے کا حق زیادہ تر اشرافیہ کے پاس رہا ۴ اپریل ۱۹۷۹ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد جنرل ضیاءالحق کی اسلام کے نام پر من مانیاں اور امریکہ سے یاریاں ہماری قومی یگانت اور یکجہتی کو ایسا دھچکہ لگا گئی ہے جس کی تلافی اب تک ممکن نہیں ہوسکی ہے۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔۔