Parachinar Aur Lahore Mein Phir Dehshatgardi

Posted on April 7, 2017








Dated: April 7, 2017
Parachinar Aur Lahore Mein Phir Dehshatgardi
By: Syed Anwer Mahmood
پارا چناراور لاہور میں پھر دہشتگردی
تحریر: سید انور محمود

سال 2014 میں حکومت اور طالبان دہشتگردوں کے نام نہاد مذاکرات ہورہے تھے، حکومت اور طالبان کی طرف سےجو لوگ مذاکرات کرنے والوں میں شامل تھے، ان میں سے ایک دو کو چھوڑ کر باقی سب دراصل دہشتگردوں کے سہولت کار تھے۔ان مذاکرات کے ساتھ ساتھ دہشتگردی مسلسل جاری تھی، مذاکرات کے باوجود 29 جنوری سے 15 جون 2014 تک دہشتگردی کے 20 واقعات میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 195 افراد جاں بحق ہوئے۔15 جون 2014 کو افواج پاکستان نے اپنے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف کی قیادت میں طالبان دہشتگردوں کے خلاف آپریشن’’ضرب عضب‘‘ کا آغاز کیا۔ یکم جنوری 2016 کو جنرل راحیل شریف نے پوری قوم کو یہ یقین دلایا کہ ’’2016 دہشتگردی کا آخری سال ہوگا‘‘،افسوس ایسا نہ ہوا اور دہشتگردوں کی طرف سے اب بھی دہشتگردی ہورہی ہے۔لیکن اس بات کو سارئے پاکستانی عوام تسلیم کرتے ہیں کہ ’’آپریشن ضرب عضب‘‘ کے بعد دہشتگردی میں بہت حد تک کمی ہوئی ہے۔گلوبل ٹیرارزم انڈیکس ہرسال دہشتگردی سے متاثرہ ملکوں اور اس کی زد میں آ کر ہلاک ہونے والوں کے اعدادوشمار مرتب کرتا ہے۔ نومبر 2014 کو گلوبل ٹیرارزم انڈیکس کی جانب سے شائع کی گئی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پاکستان دہشتگردی سے متاثرہ ملکوں میں تیسرے نمبر پر ہے۔اس سال جنوری7120 کو گلوبل ٹیررازم انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق ’’پاکستان دہشتگردی سے متاثرہ ہونےملکوں میں اب چوتھے نمبر ہے۔2015 کی نسبت 2016 میں دہشتگردی کے واقعات 29 فیصد تک کم ہوئے ہیں۔انسائٹ سیکیورٹیز ریسرچ پیپر کے مطابق2016 میں دہشتگردی کے واقعات 11 سال کی کم سطح پر رہے جبکہ 85 فیصد واقعات فاٹا، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں پیش آئے۔2009 میں دہشتگردی کے 2586 واقعات ہوئے تھے جبکہ2016 میں کمی کے بعددہشتگردی کے 441 واقعات ہوئے ہیں‘‘۔

انتیس نومبر 2016 کو جنرل راحیل شریف ریٹائرڈہوگئے اور ان کی جگہ جنرل قمرجاویدباجوہ پاک فوج کے نئے سربراہ بن گئے۔ نئے سال 2017 کے پہلے ماہ میں کرم ایجنسی کے صدر مقام پارا چنار میں 21 جنوری کی صبح 8بجکر 50 منٹ پر ایک زوردار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں 25افراد جاں بحق اور 65افراد زخمی ہوگئے ۔ فروری2017 میں پے در پے نو یا دس دہشتگردی کے واقعات ہوئے، ان دہشتگردیوں کے نتیجے میں 200 سے زیادہ بے گناہ افراد مارئے گئے جبکہ 400 سے زیادہ زخمی ہوئے ۔ 16 فروری کو سہون شریف میں لال شہباز قلندر کے مزار پر خود کش دھماکہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے اگلے 48 گھنٹے میں ملک کے مختلف حصوں میں آپریشن کرتے ہوئے سو سے زائد دہشتگردوں کو ہلاک کردیا تھا ، لیکن پاکستانی سکیورٹی فورسزکی کارروائیوں کے بعد یہ اندیشہ بھی تھا کہ دہشتگرد مزید خونریز حملے کرنے کی کوششیں کریں گے۔ 21 فروری 2017 کو فوج کی جانب سے آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ کی جگہ ایک اور ملک گیرآپریشن’’ردالفساد‘‘ کے نام سے شروع کیا گیا ہے جس میں بری بحری فضائی افواج اور قانون نافذ کرنیوالے تمام ادارے شامل ہیں۔ نئے آپریشن ’’ردالفساد‘‘ کے بارئے میں کہا گیا ہےکہ اس کے زریعے دہشتگردوں کے سہولت کاروں کا صفایا کیا جائے گا، ملک بھرسے غیرقانونی اسلحے اور گولہ بارود کا خاتمہ بھی اس آپریشن کے زریعے کیا جایگا۔ نیشنل ایکشن پلان پرعمل درآمدآپریشن’’ردالفساد‘‘ کا بنیادی مقصد ہے۔

گلوبل ٹیررازم انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان چوتھے نمبر سے تیسرئے نمبر پر ضرور آیا ہے لیکن ٹوٹی کمر والے دہشتگرد اب بھی دہشتگردی میں مصروف ہیں، یہ وہ سانپ ہیں کہ جب تک ان کا اوران کے سہولت کاروں کا سر نہیں کچلاجاتا یہ ہمیں ڈستے رہینگے۔ پارا چنارکے عوام جنوری 2017 کے بعد اس سال میں دوسری بار ایک مرتبہ پھر 31 مارچ کو دہشتگردی کے شکار ہوئے۔ حملہ آوروں نے دھماکے سے پہلے شہر کے مرکزی بازار سے کچھ فاصلے پر پھاٹک پرموجود لیویز اہلکاروں پر فائرنگ بھی کی اور اس کے بعد مرکزی امام بارگاہ کے دروازے پربارود سے بھری گاڑی سے حملہ کیا جبکہ لوگوں کی بڑی تعداد بازار میں خریدو فروخت میں مصروف تھی ۔دہشتگردی کے اس واقعہ میں 24 افراد جاں بحق اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ 13 فروری کے بعد 5 اپریل کو لاہور بھی دوسری مرتبہ دہشتگردی کا شکار ہوا، مردم شماری کے کام پر مامور اہلکار ایک وین میں سوار تھے کہ ایک نو عمر لڑکے نے پیدل چلتے ہوئے گاڑی کے قریب آکر خود کو دھماکے سے اڑا لیا، دھماکے سے چار سیکورٹی اہلکاروں سمیت 6افراد جاح بحق اور19 افراد زخمی ہوئے۔ خودکش بمبار کا ہدف مخصوص تھا، حدف مردم شماری کی وین تھی جس کے آس پاس آنے جانیوالوں کا رش نہیں تھا ورنہ نقصان زیادہ بھی ہوسکتا تھا۔ ملک میں تقریباً 19سال بعد مردم شماری ہو رہی ہے اور اسے محفوظ بنانے کیلئے بڑی تعداد میں فوج بھی تعینات ہے دہشتگردوں نے ایک طرف فوج کو نشانہ بنایا تو دوسری طرف مردم شماری کو ناکام بنانے کیلئے خوف و ہراس کی فضا پیدا کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ کالعدم تنظیم جماعت الاحرار نے دونوں واقعات کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

پاکستان کو دہشتگردی کا ہدف بنائے رکھنا کون چاہا رہا ہے اور ان کے کیا مقاصد ہیں ؟ جواب بہت آسان ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردیوں کا ذمہ دار بھارت ہے اور اس بات کوساری دنیا جانتی ہے۔ موجودہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے تو الیکشن ہی پاکستان مخالف نعرئے لگاکر جیتا تھا، اور ابھی حال ہی میں پانچ ریاستوں کے انتخابات بھی بی جے پی نے پاکستان مخالف نعرئے لگاکر ہی اپنی انتخابی مہم چلائی تھی، جس کا سب سے بڑا ثبوت بھارت کے بڑی آبادی والے صوبے یوپی میں اس کی کامیابی ہے۔نریندر مودی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد گذشتہ تین سالوں میں مسلسل پاکستان مخالف پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ مودی پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے اور اس کے نتیجے میں پاکستان کے روشن مستقبل سے خائف ہے،جس کا ثبوت یہ ہے کہ پچھلے کئی ہفتوں سے پاکستان کو دہشتگردی کی جس نئی لہر کا سامنا ہے، اس کی متعدد کارروائیوں کی ذمہ داری بھارت سے کنٹرول کیے جانے اور افغانستان میں محفوظ ٹھکانے رکھنے والی دہشتگرد کالعدم تنظیم جماعت الاحرار نے قبول کی ہے۔

گذشتہ ستر سال سے بھارت کی ہر حکومت کا مقصد پاکستان کو غیرمستحکم کرنا رہا ہے اور اس کے لیےوہ ہرحربہ استعمال کرنے کے لیے کوشاں رہی ہیں۔ معتبر ذرائع سے یہ اطلاعات بھی منظر عام پر آچکی ہیں کہ سی پیک کو ناکام بنانے کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسی کے لیے اس قدر خطیر مالی وسائل مختص کردیے گئے ہیں جو بنگلہ دیش کے قیام کے بھارتی منصوبے کے لیے مختص کیے گئے وسائل سے بھی زیادہ ہیں۔ سی پیک کے تناظر میں پاکستان کی علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کو پوری دنیا تسلیم کررہی ہے اور بھارت کی تنگ نظر قیادت کے پاکستان مخالف عزائم کی ناکامی صاف ظاہر ہورہی ہے۔ سوئیڈن کے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ ’’بھارت سرکار چین پاکستان اکنامک کوریڈور(سی پیک) کے ذریعے پاکستان کی معیشت مستحکم ہونے کے روشن امکانات پرفکرمند اور خوفزدہ ہے‘‘۔ان حالات میں پاکستانی قوم کا عظیم تر قومی مقاصد کے لیے متحد اور یکسو رہنا بہت ضروری ہے اور اس کی ذمہ داری حکومت ہی نہیں بلکہ ملک کی پوری سیاسی، عوامی اور مذہبی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔