جعلی ہیرو اور حقیقی ہیرو

Posted on April 6, 2017








برصغیر کی تقسیم کے فوری بعد پاکستانی حکومت نے تاریخ سے قیام پاکستان کا جواز تلاش کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔ اور تشکیل پاکستان کو نظریاتی بنیاد فراہم کرنے کے لیے پیشہ ور تاریخ دانوں سے مدد طلب کی گئی۔

آئی ایچ قریشی، معین الحق اور ایس ایم اکرام وہ تاریخ دان تھے جنہوں نے عہد وسطیٰ کی تاریخ میں سے دو قومی نظریے کی بنیادیں ڈھونڈیں۔ شہنشاہ اکبر کی مذہبی ترامیم کے خلاف احمد سرہندی (1624) کی مزاحمت کو انہوں نے اسلام کے دفاع کے طور پر پیش کیا اور اسی بنیاد پر انہیں دو قومی نظریے کی بنیادی رکھنےوالا قرار دے ڈالا۔

لکھاریوں کے ایک اور گروہ نے محمد بن قاسم کو سندھ کا فاتح اور پاکستان کی بنیاد رکھنے والا قرار دیا۔ محمد بن قاسم کا نام بھلایا جاچکا تھا لیکن 1924ء میں ابھرنے والے مذہبی تفرقے کے نتیجے میں انہیں ہیرو کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔ اپنی زندگی میں محمد بن قاسم کو بہت سے مصائب کا سامنا رہا۔ انہیں عہدے سے ہٹا کر قید کیا گیا اور شہر واسط میں قید کردیا گیا، جہاں ان کی خودکشی یا طبعی موت واقع ہوئی۔ اس امر پر پردہ ڈالا گیا۔

تاریخ کو مسخ کرنے اور اس کی غلط تشریح کا عمل یہاں نہیں رکا۔ کچھ عرصہ قبل ڈاکٹر صفدر محمود نے ایک اردو اخبار میں اچھوتا خیال پیش کیا۔ ان کے خیال میں بادشاہ بننے کے بعد معیزالدین کا لقب اختیار کرنے والے شہاب الدین غوری (1202 تا 1206) نے دراصل پاکستان کے قیام کی بنیاد رکھی۔

غیر پیشہ ور تاریخ دانوں کا مسئلہ یہ کہ وہ حقیقی ماخذ کی زبان مثلاً فارسی، عربی اور ترکی سے واقف نہیں ہوتے اور نہ ہی انہیں پتا ہوتا ہے کہ تحریر کی تشریخ کیسے کی جائے۔ وہ تحقیق کے جدید طریقہ کار یا تاریخ کے بارے میں جدید نظریات سے ناواقف ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ واقعات میں اغلاط، غلط تشریح اور حقائق کو مسخ کرنے کی صورت میں نکلتا ہے۔

محمد غوری کے حملے کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر صفدر محمود نے یہ حقیقت نظرانداز کردی کہ غوری سے قبل غزنی کے محمود (971ء تا 1030) نے پنجاب پر قبضہ کرکے اسے اپنی سلطنت میں شامل کیا تھا۔ اس دور میں لاہور نے ایک اہم مرکز کی حیثیت اختیار کرلی جہاں ادیب، علما اور صوفی آباد ہوا کرتے تھے۔

جب غزنوی کی سلطنت کو زوال آیا تو اس کے آخری حکمران نے لاہور میں پناہ لی۔ محمد غوری نے 1186ء میں لاہور پر قبضہ کیا اور غزنوی حکمران خسرو ملک کو مار ڈالا۔ اس لیے پاکستان کے پنجاب میں غزنی کے محمود سب سے پہلے حاکم بنے۔

محمد غوری کو 1191ء میں پہلی جنگ ترائن میں شکست ہوئی اور بال بال بچے۔ 1192ء میں انہوں نے پرتھوی راج کو شکست دی جس سے انہیں دہلی فتح کرنے کا موقع مل گیا۔ جب 1206ء میں محمد غوری کو قتل کی گیا تو اس کے جانشینوں میں جنگ چھڑ گئی جس سے سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا۔

ان کے ایک غلام بختیار خلجی نے بنگال پر حملہ کیا، نالندا یونیورسٹی کو آگ لگا دی اور طلبا اور اساتذہ کا قتل عام کیا۔

صفدر محمود کا یہ دعویٰ درست نہیں کہ قطب الدین ایبک (1206 تا 1210) نے پورے ہندوستان میں اسلامی ریاست قائم کی۔ اس ترک سلطان نے کبھی شریعت نافذ نہیں کی بلکہ اس دور کی مطابق اپنی پالیسی تشکیل۔ صفدر محمود نے محمد غوری نے کو ایسے حملہ آور کے طور پر پیش کیا جس نے پرتھوی راج کی سلطنت سے ایک حصہ طلب کیا تھا۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک حملہ آور کو کسی دوسرے کی زمین لینے کا حق کیسے حاصل ہے۔

ہمیں حملہ آوروں کی نوعیت اور کردار کے بارے میں اپنے خیالات کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ حملے ہمیشہ کسی ‘اخلاقی’ جواز کے بغیر لالچ اور حرص، یا اوروں کی زمین اور دولت پر قبضے کے لیے ہوتے ہیں۔ محمد بن قاسم، غزنی کے محمود اور محمد غوری کے حملوں پر فخر کرنا ہمارا وتیرا بن چکا ہے لیکن وقتاً فوقتاً ہمارے ملک کو لوٹنے والے دیگر حملہ آور ہمیں کھٹکتے ہیں۔ دراصل یہ تمام حملہ آور قتل عام کرتے تھے اور انہیں تاریخ کا مجرم سمجھنا چاہیے۔ ہم محمد بن قاسم کو اس لیے ہیرو سمجھتے ہیں کیونکہ اس کی وجہ سے سندھ میں اسلام پھیلا۔ چارلس نیپئر نے 1843ء میں سندھ پر حملہ کیا اور اسے دور جدید سے روشناس کرایا لیکن سندھیوں نے مسیحیت اختیار نہیں کی۔ اس لیے اسے ایک حملہ آور ہی سمجھا جاتا ہے اور وہ محمد بن قاسم کی طرح ہیرو نہیں بن سکا۔

تاریخ کو مسخ کرنے کی وجہ سے پاکستان کو بہت سے مصائب کا سامنا رہا ہے۔ ہماری نصابی کتب ہمارے طلبہ کو سچ نہیں بتاتیں اور ان سے حقائق چھپاتی ہیں۔ ایسے پیشہ ور تاریخ دانوں کی ضرورت ہے جو تاریخ نویس کا اسلوب بدلیں اور اسے محض ہندو مسلم تنازع کے طور پر پیش نہ کریں۔ سیاسی تنازعات میں مذہب کو داخل کرنے کی ضرورت قطعاً نہیں۔ تاریخ کو حقائق پر مبنی ہونا چاہیے اور اس سے حاصل ہونے والے اسباق کو سیاسی، سماجی اور معاشی شعور کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ غلطیوں کو تسلیم کرتے ہوئے شرمندہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ تصحیح اسی صورت ہوسکتی ہے اگر غلطیوں کو تسلیم کرلیا جائے۔