شہید بھٹو نظریات آج بھی زندہ ہیں۔

Posted on April 2, 2017



شہید بھٹو کے نظریات آج بھی زندہ ہیں۔
انتالیسویں برسی۔
تحریر:- حبیب جان لندن.

آج نہ جانے دل و دماغ کیوں یکجا نہیں ہو پار ہے ہیں۔ یقین جانئیے اس لائن کا آغاز کرنے کیلئے کم از کم گھنٹہ لگا ہے تب کہیں جا کر تحریر کی شروعات ہوسکی۔ اللہ غریق رحمت کرے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو جو سونے کا نوالہ لے کر پیدا ہوئے اور وطن کی محبت میں تختہ دار پر جُھول گئے۔ بھٹو شہید نے ٹیپو سلطان کے اس قول کو حقیقت کا رنگ دیا کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے کئی درجہ بہتر ہے۔ آج ذوالفقار علی بھٹو شہید کو ہم سے بچھڑے 38 سال کا عرصہ گزر گیا۔ لیکن ان کی کہی ہوئی پیشنگوئیاں آج بھی حرف بہ حرف درست ثابت ہورہی ہیں۔ آپ کی نظر ہمیشہ خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر رہتی تھی۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو نے بھری عدالت میں کہا تھا جو کچھ آج تم لوگ میرے ساتھ کرنے جارہے ہو، کل اس پر ہمالیہ بھی روئے گا۔ وقت نے ثابت کیا کہ شہید بھٹو کا عدالتی قتل پاکستان کی استحکامت کے خلاف گہری سازش تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید کی خدادا صلاحیتیں دیوار کے پیچھے ہونے والی سازشوں کو قبل از وقت بھانپ لیا کرتی تھی۔ آپ نے سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد ایک شکستہ ریاست کے اندر وہ خود اعتمادی پیدا کی جو چند ماہ کے اندر اندر دنیا کی سپر پاور کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے کے قابل ہوگئی۔ آپ نے فقط دو تین سالوں کے اندر پاکستان کی دفاعی لائن کو ناقابل تسخیر بنادیا۔ واہ فیکٹری سے لے کر ٹیکسلا ہیوی انڈسٹری سمیت کراچی شپ یارڈ جیسے اداروں کی بنیاد رکھی جس کے سبب آج کا پاکستان نہ صرف اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ مشرق وسطی سمیت دیگر ممالک کو جدید اسلحہ برآمد کر رہا ہے۔

شہید بھٹو آج کل کے حکمرانوں کی طرح جوش خطابت میں بلند و بانگ دعوے کر کے اپنا تماشہ نہیں بنواتے تھے۔ آپ نے کہا “گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے” اور دنیا نے دیکھا شہید بھٹو پھانسی کے پھندے پر جُھول گئے لیکن قوم کو ایک ایسا اعتماد دے گئے جس کے سبب آج مودی جیسا قصائی اور دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ بھی پاکستان سے معاملات کرنے سے پہلے ہزار بار سوچتا ہے۔ شہید بھٹو نے کراچی تا خیبر علمی درسگاہیں کالجز، یونیورسٹیاں، میڈیکل کالجیں، انجینئیرنگ یونیورسٹیاں، ہسپتالوں کے جال بچھا دئیے تو دوسری طرف زرعی سبز انقلاب برپا کرتے ہوئے کسانوں کی زندگیاں بدل دی بنجر زمینیں سونا اُگلنے لگیں۔ تو کارخانے دن رات مصروف ہوگئے۔ دو لخت ہونے والا پاکستان شیر و شکر ہو ایک نئے جزبہ کے ساتھ ترقی کی منازلیں طے کرنے لگا۔

ذوالفقار علی بھٹو شہید کی دور اندیشی اور تیز رفتاری نے جہاں پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کردیا وہی اسلامی ممالک بھی شیعہ سنی کی نفرتوں سے بالا تر ہو کر شہید بھٹو کی قیادت میں یک جان ہوگئے تھے۔ پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس میں اسلامی سربراہان مملکت کا لاہور میں جمع ہونا اس بات کا روشن آغاز تھا۔ آپ نے تیل اور گیس کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے دنیا کو مشرق وسطی کی اجارہ داری کو تسلیم کروایا تھا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے اور اسلامی ممالک کے سربراہان وقت کے ساتھ ساتھ سامراجی قوتوں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے اپنے ہی پیڑوں پر کلہاڑیاں مارتے رہے۔ آج جو الیکٹریک گاڑیاں سڑکوں پر دوڑتی نظر آرہی ہے یہ شہید بھٹو کی دھمکیوں کا نتیجہ ہے کیونکہ دنیا جانتی تھی بغیر تیل کے گاڑیاں لوہے کا کباڑ ہوں گی لہذا توانائی کا کوئی نعم البدل تلاش کرنا دنیا کی مجبوری تھی۔

ذوالفقار علی بھٹو شہید اگر چند سال مذید اقتدار میں رہ جاتے تو نہ صرف پاکستان بلکہ اسلامی ممالک کا اتحاد عالمی طاقتوں کیلئے مستقل سر درد بن جاتا لہذا اسی سبب شہید بھٹو کو راستہ سے ہٹانے کیلئے گھر کے اندر ہی سازشوں کے جال بچھائے گئے۔ ایک طرف ہندو بنیا تو دوسری طرف سامراجی قوتیں ڈالروں کی بوریاں بھر بھر کے نہ صرف پاکستان بلکہ اسلامی ممالک میں پھیل گئی۔ میں یہاں پاکستان کے موجودہ الیکٹرانک میڈیا کے میزبانوں سے درخواست کروں گا کہ نوجوان نسل اور عقل سے عاری کرپشن زدہ حکمرانوں کی تربیت کیلئے ضروری ہے کہ ہر سال اپریل کے پہلے ہفتہ کے دو تین دن شہید بھٹو کی سیاست اور زندگی پر سیر حاصل پروگرام کئے جائیں تاکہ عظیم لیڈر کی عظیم قربانیوں سے قوم کو آگاہی ہو۔

ذوالفقار علی بھٹو شہید ایک مدبر اور عالمی سطح کے سیاستدان تھے۔ آج جو ہم “CPEC” کا شور سنتے ہیں اور ہمارے حکمران بار بار گیم چینجر گیم چینجر کا راگ الاپ کر تمام کریڈٹ اپنے کھاتے میں ڈالتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ شہید بھٹو نے پاک چائنا دوستی کی ایک ایسی لازوال بنیاد رکھ گئے تھے جس کا پھل آج پاکستان کھانے کے قابل ہوا ہے۔ آپ نے شاہراہ قراقرم کی بنیاد رکھ کر آج کے “CPEC” کا آغاز کر دیا تھا۔ اگر پاکستان میں بار بار کے مارشل لاء نہ آتے تو ہم تیس سال پہلے ایشین سپر پاور بن جاتے۔ اسی طرح شہید بھٹو نے “RCD” ہائی وے جو پاک ایران ترکی کے ساتھ ساتھ یورپ سے تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے بھر پور کام کیا، لیکن افسوس بھٹو شہید کے بعد آنے والی کسی بھی حکومت نے “پاک ایران ترکی” شاہراہ پر توجہ نہیں دی۔

آج جو لوگ ذوالفقار علی بھٹو شہید کے بغض میں مغلظات بکتے نہیں تھکتے دراصل یہ وہی لوگ ہے جو کل سامراج اور ہندو بنئیے کی پاکستان دشمنی میں بھٹو شہید کو راستے سے ہٹانے کیلئے ان کے آلہ کار تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کے ساتھ ساتھ تیسری دنیا کے غیر متنازعہ لیڈر تھے۔ بھٹو شہید کی سفارتی بصیرت ہی تھی کہ اس وقت سعودی فرماں رواں اور ایران کے شہنشاہ آپس میں کندھے سے کندھا ملائے کھڑے تھے۔ جہاں چین کے لوگ جیوے جیوے پاکستان کے گیت گایا کرتے تھے وہی دنیا کی دوسری بڑی سپر پاور سویت یونین ہندوستان کی مخالفت کے باوجود پاکستان کے معاشی حب کراچی میں ایشیا کا سب سے بڑا اسٹیل مل لگانے کیلئے تیار تھی۔

ذوالفقار علی بھٹو شہید نے پاکستان کے مزدوروں کسانوں طالب علموں سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی ترقی کیلئے انقلابی اقدامات کئے۔ عام آدمی کو پاسپورٹ تک رسائی دی گئی اس سے قبل پاسپورٹ نامی کتاب پر صرف ۲۲ خاندانوں کا کنٹرول تھا۔ پاکستان کے طول و عرض سے مزدوروں اور ہنر مندروں کے قافلہ مشرق وسطی اور یورپ گئے جس کی بدولت غریبوں کی ٹپکتی چھتیں پکی عمارتوں میں تبدیل ہوگئی۔ سیاسی شعور ایسا دیا کہ سیاست امیروں وڈیروں اور سرمایہ داروں کے ڈرائنگ روم سے نکل کر کھیت کھلیانوں اور میدانوں میں آگئی۔آج بھی بھٹو کے نظریات اور افکار زندہ ہیں جس کے سبب بھٹو مخالفین آج بھی سکون کی نیند نہیں سو پاتے۔

پاکستان میں آج بھی سیاست کا محور یا تو بھٹو حمایت یا بھٹو مخالفت کے گرد ہی گھومتا ہے۔ یہئی وجہ ہے ایک بار پھر آصف علی زرداری اپنی چالاکیوں اور مفاہمتی سیاست کو خیر باد کہہ کر شہید بھٹو ڈاکٹرائن کا سہارا لے کر دوبارہ اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کوئی معصوم غریب ہاری مزدور طالب علم تو بھٹو بن سکتا ہے لیکن کسی زرداری کیلئے بھٹو بننا سو من لوہے کے چنے چبانے کے برابر ہے۔ آج کی پیپلز پارٹی زرداری مفاہمت فارمولہ پر سب سے یاری کا نعرہ تو ضرور لگاتی ہے لیکن ان کی یاری صرف اقتدار حاصل کرنے کیلئے من پسند لوگوں کے ساتھ ہے۔ زرداری نظریہ بھٹو شہید کے نظریات اور افکار کی ضد ہے۔ بھٹو کے دشمن بھی شہید پر کرپشن کا الزام نہیں لگا سکے۔ اللہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی مغفرت فرمائے اور پاکستان کو دشمنوں سے محفوظ رکھے۔ آمین