ٹیکسٹائل انڈسٹری کی تباہی اور سرمایہ داروں کی بدنیتی

Posted on April 1, 2017



ٹیکسٹائل انڈسٹری کی تباہی اور سرمایہ داروں کی بدنیتی
میاں صاحب کو بطور تاجر لیڈر پسند کرنے والے میرے ایک ناکام کاروباری دوست جو کاروبار میں منہ کی کھا کر پاکستان سے سرمایہ خوار بن کر واپس بیرون ملک سیٹل ہو چکے ہیں، کل فرما رہے تھے کہ تم لوگ اِدھر اُدھر کے غیر اہم مسلوں پر بات کرتے ہو مگر آبادی جو اصل مسلہ ہے اس پر بات نہیں کرتے اور وہ پاگل عمران خان ہسپتال بنائے جا رہا ہے، جبکہ ہمارا تو اصل مسلہ ہی زیادہ آبادی ہے۔ یقیناً آبادی کا مسلہ بہت اہم اشو ہے اور اس پر زیادہ سے زیادہ بات ہونی چاہیے۔ حالات کے مارے اس سیدھے سادھے دوست کی اس بات پر افسوس تو کیا کرتا مگر کوئی آدھا گھنٹہ اپنی ہنسی کنٹرول کرتے لگ گیا۔
در اصل اس نے یہ بات میرے اس ذاتی تجربے کے جواب میں کہی جس میں نے اسے بتایا کہ تھوڑے دن پہلے جو میں ٹی شرٹس ڈیزائن کر کے بیچنا چاہ رہا تھا وہ ارادہ لہور میں موجود پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لوگوں سے ملنے کے بعد ترک کر دیا ہے۔ اسے بتایا کہ تین مختلف اور بڑے یونٹس پر اپنے ڈیزائن لے کر گیا مگر تینوں نے ڈیزائن کاپی کرنے کے بعد ہفتہ دو ہفتے لٹکایا اور پھر کوئی جواب نہ دیا۔ ان میں سے ایک بٹ صاحب تو ایسے فرشتہ صفت انسان تھے کہ شروع میں کہنے لگے ویسے تو ہم کم از کم بیس پچیس پیس بنا کر دے دیتے ہیں مگر کوئی بات نہیں، تعداد کی بات نہیں، آپ دوست کے ریفرنس سے آئے ہیں، آپ بھی فی ڈیزائن بیس پچیس پیس بنوا لیجیے، یہ آپ کو یہ تھوڑے مہنگے تو پڑیں گے، مگر ہم بنا دیں گے۔ میں جو پہلے ہی اس نئے اور نامکمل تجربے سے نا اُمید ہوئے بیٹھا تھا، تنگ آ کر پوچھا کتنے میں بن جائیں گی بھائی؟ میرے ڈیزائنز کو غور سے دیکھتے ہوئے بولے کہ آپکے چودہ میں سے دو ڈیزائنز میں سات آٹھ رنگ استعمال ہوئے ہیں، لہذا ایک ٹی شرٹ پرنٹنگ سٹچنگ اور کپڑے سمیت آپکو تقریباً ساڑھے پانچ سے ساڑھے چھ سو تک کاسٹ کرے گی۔ میں نے من ہی من سوچا کہ پاکستان کے بعض ٹاپ برانڈز بھی سیل میں اپنی ٹی شرٹس ساڑھے تین سو میں دکانوں پر بیچ رہے ہوتے ہیں، اور یہ فیکٹری میں اتنا ریٹ بتا رہے ہیں۔ لیکن پھر سوچا کہ کوئی بات نہیں، میری کوانٹٹی کم ہے اور جانتا ہوں کہ کم تعداد پر اخراجات بڑھ جاتے ہیں، لہذا کوئی بات نہیں۔ سو انھیں بولا کہ کوئی مسلہ نہیں آپ ایک بار بنا کر تو دیجیے میں ڈیزائنز کاپی کراتے تنگ آ چکا ہوں۔ بولے ٹھیک ہے آپ اپنے ڈیزائنز کی اصل فائلز میرے لیپ ٹاپ میں کاپی کر دیجیے اور ہفتے بعد پتہ کر لیجیے گا۔ اسکے ساتھ ہی میں نے انھیں کہا کہ میں اپنی ڈیزائنڈ ٹی شرٹس اپنے نام کیساتھ پرنٹ کرنا چاہتا ہوں یعنی اپنا برانڈ نیم بنانا چاہتا ہوں، سو مجھے لیبل پرنٹ کرنے والے کسی بندے کا نمبر بھی دے دیجیے کہ، جیسے ہی آپ لوگ ٹی شرٹس تیار کریں میں آپکو لیبل بھی ساتھ ہی مہیا کردوں تاکہ سارا کام ایک ہی وقت میں ہو سکے۔ انھوں نے اپنے جاننے والے کا فون نمبر دیا اور کہا کہ اس سے میرے ریفرنس سے بات کر لیجیے گا۔ میں نے ڈیزائنز انکے لیپ ٹاپ میں کاپی کیے اور فیکٹری سے نکلتے کے ساتھ ہی لیبل بنانے والے صاحب سے رابطہ کیا۔ انھیں بٹ صاحب کا حوالہ دیا اور کہا کہ مجھے تھوڑے سے لیبلز بنوانے ہیں۔ وہ بولے تھوڑے سے مطلب کتنے فٹ؟ میں نے کہا مجھے فٹوں کا تو پتہ نہیں مگر یہ ہے کہ تجرباتی طور پر کچھ سوچ رہا ہوں، لہذا آپ کم سے کم جتنے بھی بنا سکتے ہیں بنا دیجیے۔ پہلے انھوں نے کم از کم حد چودہ ہزار بتائی اور پھر پانچ ہزار تک کے لیبلز بنانے پر تیار ہو گئے، اور بولے کہ لیبلز کا ڈیزائن مجھے واٹس ایپ کر دیجیے۔ میں نے گھر پہنچتے ہیں انھیں ڈیزائن واٹس ایپ کیے۔ اور بے چینی سے اپنی ڈیزائنڈ ٹی شرٹس کو آنکھوں کے سامنے دیکھنے کا انتظار کرنے لگا۔ ہفتہ گزر گیا، فون کیا مگر فون اٹینڈ نہ ہوا۔ سوچا کوئی مسلہ ہوگا اتنی بڑی مل والے ہیں، میرے چھوٹے سے کام کے لیے تو نہیں بیٹھے۔ سو شروع میں ہچکچاتے ہوئے مسلسل دو ہفتے تک دن میں ایک دو مرتبہ کوشش کرتا رہا مگر فون اٹینڈ نہ ہوا، پھر آخر تنگ آ کر سوچا کہ یہ حضرت بھی شاید پہلے والوں کی طرح ٹرخا ہی رہے ہیں، سو دفع کرو، کہاں کوئی اتنی چھوٹی کوانٹٹی کو لفٹ کرواتا ہے؟ ابھی اس بے فکری اور مایوسی کو دو ایک روز ہی گزرے تھے اور لیبل والے کا فون آ گیا کہ، جناب آپکے لیبل تیار ہو چکے ہیں، پیمنٹ پہنچا کر لیبل لے جائیے۔
اب یہ بات میرے لیے کچھ پریشانی اور کچھ ہمت کا سامان لیے ہوئے تھی کہ میرے نام کے لیبلز تو بن چکے مگر اب میں انھیں لگاوں کہاں؟ سو ہمت کر کے بٹ صاحب کو دوبارہ فون کرنے شروع کیے اور پھر ایک دو دن کی مسلسل کوشش کے بعد انھوں نے آخر فون اٹینڈ کر لیا۔ میں نے بغیر کسی ناراضگی کا اظہار کیے ان سے پوچھا بھائی میری شرٹس کا کیا ہوا؟ پہلے تو انہوں نے معذرت کی کہ میں کچھ دنوں سے اپنے بھائی کے کسی کام میں مصروف رہا اور آپکا فون نہ سن سکا اور پھر بولے کسی وقت فیکٹری آ جائیے۔ مجھے لیبلز والے کے فون بار بار آ رہے تھے، تو کہا کہ آپ بتائیے ابھی آ جاوں؟ تو بولے نہیں ابھی تو میں دو ایک دن مصروف ہوں آپ تین چار دن بعد آئیے گا۔ خیر چوتھے دن فون کر کے انکے پاس فیکٹری پہنچا تو، بولے کہ، یار میں سوچتا ہوں پہلے آپکے ڈیزائنز کا ایک ایک سیمپل نکال لیا جائے تو بہتر ہوگا۔ میں خوش ہو گیا اور کہا کہ اچھا ہے اسطرح مجھے کوانٹٹی بڑھانے میں بھی آسانی ہوگی، جو ٹی شرٹ دیکھنے میں زیادہ اچھی لگی میں اسکی کوانٹٹی بڑھا لوں گا۔ وہ بولے ٹھیک ہے تو پھر آپ ہفتے تک پتہ کر لیجیے گا۔ پھر ہفتے بعد فون کیا تو، پہلے تو دو دن تک فون اٹینڈ نہ ہوا مگر جب تیسرے دن رات کے نو بجے دوبارہ نمبر ملایا، تو بولے میں فیکٹری میں ہی بیٹھا ہوں، آپ آ جائیے، ابھی آپکے سامنے پروف نکال لیں گے۔ میں غصے، ہزیمت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات لیے اپنے بڑے بیٹے کے ہمراہ رات کے وقت انکے پاس جلدی جلدی فیکٹری پہنچا۔ اچھے طریقے سے ملے اور بولے یار آپ چہرے سے اچھے پڑھے لکھے اور شریف انسان لگتے ہیں، چھوڑیں یہ ٹی شرٹوں والا آئڈیا، اب تو ہر تھڑے باز یہی کام کر رہا ہے، آپ لیڈیز سوٹس کے لیے لان کیوں ڈیزائن نہیں کرتے؟ اس میں مارجن بھی اچھا ہے اور کام بھی صاف ستھرا ہے، بولے میرے پاس کالج میں سو ڈیزائنرز ہیں اور سبھی آجکل لان کے پرنٹ ڈیزائن کر رہے ہیں، آپ اچھے ڈیزائنر ہیں آپ بھی لان ڈیزائن کریں، یہ آپکے ڈیزائنز والی شرٹس آپکو بہت مہنگی پڑیں گی۔ میں نے استفسار کرتے ہوئے کہا، آپ نے بتایا تو تھا کہ ساڑھے پانچ سو سے ساڑھے چھ سو تک پڑیں گی؟ بولے نہیں یہ ایک شرٹ آپکو تقریباً چودہ پندرہ سو روپے کی کاسٹ کرے گی۔ میں حیرت سے بٹ صاحب کا منہ تکتے ہوئے بولا جی وہ تو ٹھیک ہے اور مجھے لیڈیز گارمنٹس کی طرف آنا بھی ہے، مگر وہ غیرب آدمی کے لیبلز کا کیا کروں؟ وہ فون پر فون کیے جا رہا ہے؟ بولے اس سے کتنے لیبلز بنوائے؟ میں نے بتایا زیادہ نہیں، مگر پانچ مختلف سائز کی شرٹس کے لیے تقریباً بیس بیس لیبلز ہونگے جو اس نے پانچ ہزار میں بنائے ہیں۔ بولے وہ تو اسنے بہت مہنگے بنائے ہیں، یہ تو زیادہ سے زیادہ ہزار روپے میں بننے چاہیے تھے، چلیں میں اس سے بات کرتا ہوں کہ آپکو تنگ نہ کرے، مگر کیا آپ نے اس سے اس قیمت پر ایگری کیا تھا؟ میں نے بتایا جی بس کام ہو نہں رہا تھا، تو اسی لیے مہنگے ریٹ پر بھی تنگ آ کر مان لیا تھا، مگر اب وہ فون کر رہا ہے، اور میں سوچتا ہوں کہ ٹی شرٹس بن ہی جائیں تو بہتر ہے، کیونکہ پیسے تو اسکے بنتے ہیں۔ میں نے پھر وہی بات دہرائی کہ وہ فون کر رہا ہے آپ ٹی شرٹس ہی بنا دیں۔ تو بولے اسکا فون بلاک کر دیں۔ اسکے بعد میں وہاں سے اٹھ کر آ گیا اور راستے میں میرا بیٹا مجھے کہہ رہا تھا، بابا یہ کیسے لوگ ہیں؟ یہ سب یہ اسوقت بھی تو کہہ سکتا تھا جب آپ اسکے پاس پہلی مرتبہ آئے تھے؟
تو خیر جناب من! میں اپنے دوست کو یہ سارا قصہ اور اپنا تجربہ سنا رہا تھا، اور بتا رہا تھا کہ اسکے بعد اگر مجھ سے دنیا کے کسی بھی خطے کا کوئی بھی شخص پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے حوالے سے میرا تجربہ دریافت کرے گا، تو میں اسے یہ قصہ ضرور سناوں گا، کہ ملکی مفاد اور نیشنل ازم کے نام پر میں نہ کسی کو دھوکا دے سکتا ہوں نہ کنویں میں چھلانگ لگانے کا مشورہ۔ میں ان سے اپنے اس ذاتی تجربے کی بنیاد پر یہی کہہ رہا تھا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری صرف مہنگی بجلی اور امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے ناکام نہیں ہوئی، بلکہ یہاں کا سرمایہ دار بھی بد نیت اور بد دیانت ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ بڑے ٹیکسٹائل یونٹس بند پڑے ہیں، اور سارا مال چائنہ سے بنوا کر یہاں بیچا جا رہا ہے۔ دوست میاں صاحب کے دفاع میں پاک چین اقتصادی راہداری کو پاکستان کے لیے سنگ میل بتا رہا تھا، اور میں اسے بتا رہا تھا کہ، چائنہ اپنے ساتھ ایک لاکھ ورکرز بھی لا رہا ہے، اور پاکستان کی بے انتہا بڑھی ہوئی آبادی، اور اسی تناسب کی بیروزگاری کا دیو ہیکل مسلہ صرف سی پیک سے حل ہونے نہیں جا رہا، اس منصوبے میں ہماری حیثیت محض محصول چنگی کی سی ہوگی، جسکی آمدن اسٹیبلشمنٹ، بیوروکریسی اور سیاست دانوں کے پیٹ میں چلی جائے گی۔ بس یہی وہ بات تھی جسکے جواب اور میاں صاحب کی وکالت میں دوست نے مجھے آبادی کے مسلے پر لکھنے کی تجویز دی اور عمران خان کو ہسپتال بنانے پر پاگل قرار دیا۔ سویپنگ سٹیٹمنٹس اور ججمنٹس پاس کرنے کا عادی نہیں ہوں، اس لیے سب کے لیے تو نہیں کہہ سکتا کہ سبھی سرمایہ دار اور فیوڈلز ظالم اور بد دیانت ہی ہونگے، مگر میرا ذاتی مشاہدہ یہی ہے کہ، کاروباری ناکام ہو یا کامیاب، فیوڈلز کی طرح اسکی ذہنیت بھی عمومی طور پر انسانیت سے عاری ہی رہتی ہے۔
عمار کاظمی