کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟ بارہویں قسط

Posted on March 28, 2017








کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟
بارہویں قسط
تحریر:- حبیب جان لندن

جنرل پرویز مشرف کنگ پارٹی کی بیساکھیوں پر ہواؤں کے دوش پر اقتدار کی بندر بانٹ میں مشغول جبکہ دوسری طرف اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران شہید محترمہ بینظیر بھٹو بشمول میاں مُحّمد نواز شریف لندن میں اپنے اپنے اختلافات کو پش و پست ڈال کر نئی صف بندیاں کرتے ہوئے میشاق جمہوریت کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ پاکستان کو نت نئے تجربات سے گزارا جارہا تھا امریکنوں کے تجویز کردہ سٹی بنک کے نمائندے شوکت عزیز وزیراعظم کے منصب جلیلہ پر فائز ہوکر ہر نئے دن قوم کے بچے بچے کو ورلڈ بنک کا مقروض بنانے پر تُلے ہوئے تھے۔

وہ کہتے ہیں اللہ کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ آخر کار جنرل مشرف امریکن کی “گُڈ بُک” میں اپنا کردار مستقل بنیادوں میں جاری رکھنے میں آہستہ آہستہ ناکام ہونا شروع ہوگئے۔ دوسری طرف لندن میں سیاسی پارٹیاں “میشاق جمہوریت” کے مسودے کو حتمی شکل دینے میں کامیاب ہوگئی۔ بدلتے موسم کی طرح پاکستان میں بھی سیاسی طوفان کی گھن گرج محسوس کی جانے لگی۔ دہشت گردوں کی کڑاہی میں بھی اُبال آنا شروع ہوگئے تھے لال مسجد اسلام آباد کا سانحہ اس کا آغاز تھا۔

واقعہ لال مسجد اور بلوچ قبائلی رہنما اکبر بگٹی کی المناک موت نے تو جیسے جنرل مشرف کی تمام اکڑ فوں کافور کردی۔ اور یہئی وجہ تھی کہ جنرل مشرف اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی کی رہنما شہید محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ سے پش پردہ “این آر او” کرنے پر مجبور ہوا۔
افغانستان کی سیاست ہمیشہ پاکستان کے امن سے مشروط رہی ہے، جُوں جُوں جنرل مشرف کی گرفت اقتدار پر کمزور ہورہی تھی یوں یوں افغانستان میں موجود دہشت گرد (کل کے مُجاہدین) پاکستان میں روابط بحال کرنے میں فعال کردار ادا کرنے میں لگ گئے تھے۔

برسوں سے خواب دیکھنے والے یکمشت تعبیروں کی تکمیل میں سرگرداں ہوگئے۔ پاکستان دشمن قوتیں مشرقی اور مغربی سرحد پر شہد کی مکھیوں کی طرح اُمڈ آئیں۔ مبلغوں کے واعظوں نے اثر کرنا چھوڑ دیا جنت کے طلب گار کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر جلد از جلد جنت جانے کیلئے بے تاب اور بے چین نظر آنے لگے۔ تمام معاملات سے بے فکر جنرل مشرف اور اشرافیہ صرف اور صرف اقتدار سے چمٹے رہنے کا فارمولہ ڈھونڈنے میں تو امریکن پاکستان مخالف اپنی پیشنگوئیاں پوری کرنے میں تمام قوت کے ساتھ آگے بڑھتے رہے۔

اکتوبر 2007 محترمہ شہید بینظیر بھٹو کی پاکستان واپسی سے لیکر 27 دسمبر 2007 کو لیاقت باغ میں ان کی شہادت کے محرکات بھی اب تک تصفیہ طلب ہیں، عدالتیں اس سلسلے ابھی تک کسی فیصلہ پر نہیں پہنچی ہیں۔ خود پیپلز پارٹی بھی پانچ سالہ اقتدار میں رہتے ہوئے بھی قاتلوں کا تعین کرنے میں ناکام رہی۔ کوئی بھی حتمی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ آیا شہید بی بی کا قتل جنرل مشرف کی ان سے کئے گئے NRO سے انحراف تھا یا پھر افغانستان میں بیھٹے دہشت گردوں ( کل کے مُجاہدین ) نے پاکستان میں موجود ان کے ہمدردوں کے زریعے شہید بینظیر بھٹو کا دہشت گردی کے خلاف دلیرانہ مؤقف تھا۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔