کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟ گیار ویں قسط

Posted on March 21, 2017



کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟
گیار ویں قسط
تحریر:- حبیب جان لندن

امریکن کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ ہر کام سو سالہ منصوبہ کے مطابق مرحلہ وار ترتیب دیتے ہیں۔ جبکہ ہمارے بارے میں دنیا کی رائے یہ ہے کہ پاکستان ایک فون کال پر نہ صرف خارجہ پالیسی تبدیل کرسکتا ہے۔ بلکہ اب تو عام خیال کیا جاتا ہے کہ نہ تو ہماری داخلہ اور نہ ہی خارجہ پالیسی ہے۔ بس اللہ کے سہارے مملکت پاکستان کو چلایا جارہا ہے۔ کچھ اسی طرح کا حال جنرل پرویز مشرف کی حکومت کا تھا۔ نہ ہی داخلہ اور نہ ہی کوئی خارجہ پالیسی تھی ایک فون کال پر مشرف حکومت امریکنوں کے آگے لیٹ گئیں تھی۔

رہا سوال داخلہ پالیسی کا تو جس پاکستان دشمن الطاف حسین کو جنرل مشرف نے معروف اینکر حامد میر کے پروگرام میں اپنے ہاتھ سے گولی مارنے کا دعوی کیا تھا اسی الطاف پر ایسی ایسی مہربانیاں کیں کہ وہ پاکستان کے دشمن نمبر 1 بن گئے۔ قصہ مختصر یہ کہ جنرل مشرف اپنے اقتدار کو تقویت دینے کی خاطر جہاں پاکستان کو اندرونی خانہ کمزور کر رہے تھے وہی بیرونی دنیا میں بھی کوئی اچھی کارگزاری نہیں تھی۔ پاکستان سے روزآنہ ” ڈو مور” ڈو مور” کا مطالبہ بڑھتا جارہا تھا۔

جنرل پرویز مشرف اقتدار کے نشہ میں اس قدر مدہوش ہوگئے تھے کہ ہر آنے والے خطرات سے بے فکر ہوکر ہر قیمت پر صرف اور صرف اپنے دور حکومت کو طوالت دینا چاہتے تھے۔ کنگ پارٹی کی تشکیل سے لے کر مخالفین باالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کی کردار کشی سمیت ہر وہ حربہ استمعال کیا گیا جس سے جنرل مشرف کے اقتدار کو فائدہ پہنچنے کی اُمید تھی۔ یہئی سبب تھا کہ جنرل مشرف کے اعلان کردہ 2002 کے الیکشن میں تمام تر کوشش کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی کو شہید بینظیر بھٹو کے بغیر ہی الیکشن میں شرکت کرنا پڑی۔

جنرل پرویز مشرف کی تشکیل کردہ کنگ پارٹی نے بغیر کسی مزاحمت کے 2002 الیکشن کی اکثریتی پارٹی بن کر جنرل کے ہاتھ میں جمہوریت کی چھتری تھما دی۔ دوسری طرف مجاہدین افغانستان کی جنگ میں کمزور ہو رہے تھے اور بلآخر اتحادی افواج کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد کچھ پہاڑوں پر تو کچھ دوسرے چھوٹے بڑے گروپ ایران کے ساتھ ساتھ پاکستان منتقل ہونا شروع ہوگئے۔ پاکستان میں حسب روایت ہمیشہ کی طرح حکمران چین و سکون کی بانسری بجاتے ہوئے سب اچھا ہے کی رٹ لگانے میں مصروف تھے۔

ادھر امریکہ شمسی ائیر بیس ( یاد رہے جنرل مشرف نے بغیر کسی شرائط و ضوابط کے جہاں امریکہ اور اتحادی افواج کو سہولتیں دی ہوئی تھی اس میں ایک شمسی ائیر بیس کا آزادانہ استمعال بھی شامل تھا) سے جنگی طیارے اور ڈرون اُڑتے اور افغانستان سمیت پاکستانی حدود میں دہشت گردوں یعنی کل کے مجاہدین کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جانے لگا جس میں ُمجاہدین معاف کیجئے گا دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان کے بیوی بچوں کو بھی ہلاکتیں ہونے لگی۔ یوں سمجھ لیجئے کہ کل کے دل و جان مُجاہدین بے سرو سامانی میں ایک ایسی کیفیت سے دوچار ہوگئے جہاں اب ان کے ہمدرد کم اور دشمن زیادہ ہوگئے۔

امریکہ کی سرپرستی نے جنرل مشرف کو اتنا خود سر اور مغرور بنادیا اور وہ سمجھ بیٹھے کہ اب شاید پاکستان کی حاکمیت کے وہ ہمیشہ مالک رہیں گے اور ان کو کوئی بھی الگ نہیں کرسکتا۔ اس زعم میں نتائج سے بے پروا ہو کر انہوں نے قبائلی سردار سابق گورنر و وزیر اعلی بلوچستان نواب اکبر خان بُگٹی کو راستہ سے ہٹانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ریاستی طاقت کے زریعے ہلاک کروا دیا۔ دوسری طرف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں لال مسجد کے واقعات سر اُٹھانے لگے تو جنرل نے یہاں بھی گفت و شنید کی جگہ طاقت کا استمعال کرتے ہوئے سنگینوں کے زریعے فتح حاصل کر لی۔ جنرل پرویز مشرف اقتدار کی ہوس میں اپنی ہی ادارے کی طاقت کو بے دریغ استمعال کر رہے تھے، ڈسپلین کی پابند فوج اپنے جنرل کی حکم بجاآوری کی پابند تھی۔ بلوچستان نفرت کی آگ میں جل رہا تھا تو دوسری طرف پاکستان دشمن قوتیں دستیاب صورتحال سے بھرپور فائدے حاصل کر رہی تھی اور ہمارے حکمران ۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔