کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟ دسویں قسط

Posted on March 14, 2017








کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟
دسویں قسط
تحریر:- حبیب جان لندن

افغان جہاد کے ہیروز اور شہداء کی بیوائیں بچوں اور جوان بیٹیوں کے ہمراہ جہاں امریکن اور اتحادی افواج کی بمباری کا سامنا کرتے ہوئے سنگلاخ چٹانوں پر دن میں تپتی دھوپ تو راتوں میں سخت سرد موسم کے رحم و کرم پر زندگی کی گاڑی کو دھکہ دے رہی تھیں۔ دوسری طرف جنرل پرویز مشرف اپنی غیر آئینی حکومت کو امریکن آشیرواد اور بین الاقوامی حمایت ملنےپر افغان جہاد اور پاکستانی مفادات سے بے نیاز ہوکر اقتدار کے ایوانوں میں گُم ہوگئے۔

افغانستان کے وسیع پہاڑی سلسلے کی بھول بھلیوں میں افغان مجاہدین اور پاکستان سے نکالے ہوئے اپنے اور برادر اسلامی ممالک کے مجاہدین بچے کُچے روسی اسلحہ کے ساتھ امریکن اور اتحادی افواج کا بھرپور مقابلہ کر رہے تھے۔ افغانستان دن بدن تباہی اور بربادی کی طرف بڑھتا جارہا تھا۔ جہادی تنظیمیں نئی نئی صف بندیوں میں مصروف جبکہ ہمارے پاکستانی جہادی زعماء بھی خفیہ طریقہ سے مجاہدین سے اسلامی رشتے نبھانے میں لگے ہوئے تھے۔

جنرل مشرف اور ان کی ٹیم نے دونوں اطراف کے مجاہدین کے بڑھتے ہوئے تعلقات سے لا تعلق ہو کر صرف اور صرف امریکہ کو خوش کرنے کیلئے رات دن ایک کیا ہوا تھا۔ پاکستان کی بندرگاہ اتحادی افواج کی لاجسٹک سپورٹ کیلئے رات دن مصروف جہاں سامان حرب سے لے کر پُر تعیش اشیاء اور خوراک کے جہاز بھر بھر کے آیا کرتے تھے۔ آگے چل کر پاکستان دشمنوں نے انہی جہازوں میں لایا ہوا جدید اسلحہ کراچی میں بھی تقسیم کرنا شروع کردیا تھا جس پر آگے چل کر بات کریں گے۔

جُوں جُوں امریکن اور اتحادی افواج کے مظالم افغانستان میں بڑھتے جارہے تھے یوں یوں پہاڑوں میں موجود مجاہدین کی نفرت امریکہ کے ساتھ ساتھ پاکستان سے بھی بڑھتی جارہی تھی۔ جو لوگ کل تک آنکھوں کا تارا تھے آج وہ بے یارو مددگار تھے، جنت کے خواب دکھانے والوں نے راتوں رات بے وفائی کر کے ان کی زندگیوں کو جہنم بنادیا تھا۔ آنکھوں کے سامنے جوان بیٹیوں کا بوجھ تو معصوم بچے بھوک و افلاس سے ایڑیاں ایڑیاں رگڑ کر مر رہے تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں آواز بلند کر ہی تھی اور نہ ہی اقوام متحدہ کوئی قرارداد منظور۔

جنرل مشرف کا پاکستان میں اقتدار پر کنٹرول مظبوط ہوتا جارہا تھا۔ اپوزیشن دیوار سے لگا دی گئی تھی۔ میاں نواز شریف ملیر جیل کو خُدا حافظ کہہ کر خاندان سمیت سعودی کنگ کی ضمانت پر مشرف حکومت سے 10 سال پاکستانی سیاست سے دور رہنے کا معاہدہ کر کے جدہ جا کر آباد ہوگئے۔ آصف زرداری جیل میں تو شہید بینظیر بھٹو کبھی لندن کبھی دبئی میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور تھیں۔ جنرل مشرف مکمل سکون اور اطمینان کے ساتھ سب سے پہلے پاکستان کے نعرے کا ڈرامہ رچاتے ہوئے پاکستان کو ایسی خوفناک دہشت گردی میں دھکیل رہے تھے جس سے نکلنے کیلئے پاکستانی قوم آج بھی جانوں کے نزرانے پیش کر رہی ہیں۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔

loading...