کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟ نویں قسط

Posted on March 12, 2017








کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟
نویں قسط
تحریر:- حبیب جان لندن

میاں صاحب ملیر جیل کوٹھری میں زرداری کی ضیافتیں نیم دلی سے انجوائے کرتے ہوئے اس گھڑی کو کوس رہے تھے جب انہوں نے پرویز مشرف کو فوج کا سپہ سالار بنایا تھا۔ دن بڑی تیزی سے گزر رہے تھے، منصب صدارت سے جناب رفیق تارڑ بھی فارغ کر دئیے گئے۔ دوسری طرف جنرل مشرف نے عدلیہ کے دئیے گئے اختیارات استمعال کرتے ہوئے اپنے نام کے آگے چیف ایگزیکٹو کا لاحقہ لگا لیا اور مملکت پاکستان کے کلی مالک بن گئے۔ راتوں رات میاں مُحّمد نواز شریف کے وفاداروں نے جان بخشی کے عوض اپنی وفاداریاں بغیر کسی مول کے جنرل مشرف کے ترازو میں ڈال کر پاکستان کو ایک اور خود ساختہ مسیحا فراہم کردیا۔

ایک طرف زرداری کرپشن میں تو دوسری طرف میاں صاحبان کرپشن پلس جنرل مشرف طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں پیشیاں بُھگت رہے تھے، جنرل مشرف اپنے پیشروں کی روایات کو زندہ رکھے ہوئے تھے 90 دن کے اندر الیکشن کرانے کا وعدہ طوالت اختیار کرتے جارہا تھا۔ اعلی عدالتیں نظریہ ضرورت کے تحت وہ اختیارات بھی آمر کو دئیے جارہی تھی جن کی خواہشیں بھی نہیں کی گئی تھیں۔ اندرون مُلک درباریوں نے قصیدہ گوئی کرتے ہوئے جنرل مشرف کے اقتدار کو دوام بخش دیا تھا، بس اب صرف بین الاقوامی سطح پر جنرل مشرف کے اقتدار کو شرف قبولیت درکار تھا۔

افغانستان سے امریکہ کی واپسی سویت یونین کی ٹوٹ پھوٹ اور طالبان کا طرز حکمرانی برادر اسلامی ممالک کی آپس کی رنجشوں نے عالمی دنیا کیلئے مسائل پیدا کردئیے تھے کہ اچانک امریکی مالیاتی دارالخلافہ نیو یارک میں 9/11 کے ورلڈ ٹوئن ٹریڈ ٹاورز واقعے نے تو دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ دنیا دو بلاکس میں تقسیم ہوگئی مُسلم اور غیر مُسلم، امریکن صدر جارج بش نے دہشت گردی کا سارے کا سارا ملبہ طالبان اور اس کے سرپرستوں پر ڈال دیا عراق میں مصروف نیٹو افواج کا رخ افغانستان کی طرف موڑ دیا ساتھ ہی پاکستان کو سخت پیغام دیا کہ ہمارے ساتھ یا دہشت گردوں کے ساتھ۔

موقع کی تاک میں بیٹھے جنرل مشرف نے بغیر کسی مشاورت اور نتائج کی پرواہ کے امریکہ کے آگے دوزانوں ہو کر پل بھر میں بین الاقوامی قوتوں کی آنکھوں کا تارا بننے کا فیصلہ کرلیا۔ امریکہ اپنے لاؤ لشکر اور اتحادیوں کے ساتھ افغانستان پر ہمیشہ قابض ہونے کیلئے حملہ آور ہوگیا۔ پاکستان کی سڑکیں، بندرگاہیں اور ائیرپورٹ سب یکایک مصروف ہوگئے سامان حرب کے ساتھ ساتھ خوراک راشن ڈالرز سب کچھ بزریعہ پاکستان افغانستان پہنچنا شروع ہوگئے۔

ادھر جنرل مشرف طبلے کی تھاپ پر رقصاں امریکن کی خوشنودی کیلئے کچھ بھی کرنے کو ایسے تیار تھے جو حُکم میرے آقا، دوسری طرف امریکن فرمائشی پروگرام بغیر کسی وقفہ کے جاری تھا کہ اچانک ایسی فرمائش بھی آ گئی جو مستقبل میں پاکستان کے اندر دہشت گردی کی بڑی وجہ بننے جارہی تھی حسب عادت مشرف حکومت نے بغیر کسی مشاورت اور نتائج کی پرواہ کئے بغیر فرمائشی پروگرام کے آگے ہتھیار ڈال کر اپنے اقتدار کی دائمی سند حاصل کرلی۔

امریکن خواہش کے بعد افغانستان جہاد میں شرکت کرنے والے پاکستانی مجاہدین اور غازی راتوں رات طالبان کے ساتھی اور امریکہ کے دشمن تصور کر لئیے گئے۔ جو لوگ عزت شان و شوکت کے ساتھ رہ رہے تھے انہیں غدار قرار دے کر گھروں سے دربدر کردیا گیا۔ شہیدوں کی بیوائیں جو اپنے اپنے علاقوں میں روحانیت کے مرتبے پر فائز تھیں غریب الوطن ہو کر معصوم بچوں کے ساتھ ایک بار پھر افغانستان کی سنگلاخ چٹانوں پر جاکر امریکن میزائلوں اور راکٹوں کے رحم و کرم پر زندگی کے بقیہ دن گزارنے پر مجبور ہوگئیں ۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔