کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟ آٹھویں قسط

Posted on March 10, 2017








کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟
آٹھویں قسط
تحریر:- حبیب جان لندن

دُختر مشرق بینظیر بھٹو شہید جہاں عدالتی کٹہروں کے چکر لگا رہی تھیں وہی ان کے شوہر نامدار کرپشن کے مقدمات میں 10 فی صد سے آگے جا کر 100 ویں درجے پر فائز ہوگئے تھے۔ ملکی اور بین الاقوامی میڈیا میں جمہوریت کیلئے طویل جدوجھد کرنے والوں کے خلاف کالم اور اشتہارات چھپوائے جارہے تھے۔ اور یہ سب کچھ ایوان صدر میں بیٹھا وہ شخص کروا رہا تھا جس کی نامزدگی خود اس کی پارٹی نے کی تھی۔ فاروق لغاری اور میاں مُحّمد نواز شریف میں گاڑھی چھلنے لگی تھی۔ کل کے بھائی، بہن ایک دوسرے کے جانی دشمن جبکہ نئی تعلق داریاں شیر و شکر میں تبدیل ہوگئی تھیں۔

ایوان صدر میں پہنچ کر شاید فاروق لغاری اپنے آپ کو عقل قُل سمجھ بیٹھے تھے اور نہ صرف پانچ سال بلکہ اگلے دس سالوں تک صدر جلیلہ کے منصب پر رہنے کا خواب سجائے خراماں خراماں آگے بڑھ رہے تھے لیکن دوسری طرف کے منصوبہ ساز مطلب نکلنے کے بعد ان سے جان چُھڑانے کیلئے نیا راستہ تلاش کر رہے تھے، اور بلآخر مواخذہ کے نام پر ایوان صدر کا نیا مکین مُحّمد رفیق تارڑ کی صورت میں تلاش کر لیا گیا اور یوں جناب فاروق لغاری بھی انجام کو پہنچ کر چوٹی زیریں کے علاقہ میں دوبارہ جا بسے۔

اب کیا تھا میاں مُحّمد نواز شریف وزیراعظم، مُحّمد رفیق تارڑ صدر تو غالبا جناب وسیم سجاد سینیٹ کے چئیرمین حکمران ہر طرف سے بے فکر بے نیاز پاکستان کے وسائل سے فیضیاب ہونے لگے ہر جگہ میاں صاحبان کا طوطی بولنے لگا۔ مرکزی برادرم اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات آسمان کی بلندیوں کو چُھونے لگے۔ وہ کیا کہتے ہیں انسان کتنا ہی چالاک تیز و طرار ہوجائے لیکن اللہ کا اپنا نظام ہے بلآخر میاں صاحب سے آرمی چیف کی تقرری کرتے وقت چُوک ہوگئی یا منصوبہ سازوں نے چُوک کروائی بہرحال جونئیر جنرل پرویز مشرف کو ترقی دیکر پاک فوج کا چیف مقرر کردیا گیا۔

افغانستان میں طالبان کی شریعت کا بول بالا تھا، پاکستان میں آباد مجاہدین اور غازی برادران اپنی اپنی آباد کردہ جنتوں میں اطمینان بخش زندگیاں گزار رہے تھے۔ دوسری طرف میاں صاحب ہندوستان سے کاروباری پینگیں بڑھا رہے تھے، بس سروس کے زریعے دونوں اطراف کے لوگوں نے آنا جانا شروع کردیا تھا۔ حتی کہ بھارتی وزیراعظم بھی جہاز کی جگہ بس یاترا کرتے پاکستان آ پہنچے ساتھ ساتھ بھارتی پیاز کشمیری سیب انڈین ٹماٹر بارڈر کراس کر کے ہمارے سالن و ترکاری کا جُز بن گئے تو دوسری طرف ہمارے تاجر بھی اپنی مصنوعات ہندوستان ایکسپورٹ کرنے لگے۔ بھارتی فلمیں ڈرامے گھر گھر رام اور سیتا کی کہانیاں زبانی ازبر ہونے لگی، لیکن اس دوران ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو بار بار کہہ رہا تھا کہ یہ سب دھوکہ ہے بغل میں چُھری منہ میں رام رام یہ ہندو بنیا کبھی مسلمانوں کا دوست نہیں ہوسکتا۔

ہندوستان سے میاں صاحبان کی مُحبت و عقیدت بغیر کسی ہوم ورک اور منظوری کے بڑھ رہی تھی۔ نہ سیاسی پارٹیاں مطمئن تھی اور نہ ہی اشرافیہ، میاں صاحب تھے کہ راکٹ کی رفتار سے امیرالمومنین بننے کی خواہش لئے آسمان کی طرف پرواز کئے جارہے تھے کہ راتوں رات معرکہ کارگل نے پرواز کو بریک لگا دئیے ہندوستان سے دوستی کا سفر ایک دم ساکت ہوگیا، الزامات کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا، بقول جنرل مشرف آپریشن کارگل پر حکومت آن بورڈ تھی جبکہ میاں صاحب اپنی تاویلیں پیش کرتے رہے، آہستہ آہستہ دو تہائی اکثریت رکھنے والا وزیراعظم امیرالمومنین بننے کے خواب سجائے سیاسی غلطیوں پر غلطیاں کرتے کرتے آخر کار ایک ایسی بند گلی میں داخل ہوگیا جہاں سے نہ ہی یوٹرن ممکن تھا اور نہ ہی کوئی اور محفوظ راستہ۔

میاں مُحّمد نواز شریف کی امیرالمومنین بننے کی خواہش نے سیاسی طور پر ان کو ایک ایسے دوراہے پر کھڑا کردیا تھا جہاں مَلک کے اندر ان کی حمایت دن بدن ختم ہوتی جارہی تھی اشتہارات کے بل بوتے پر چلائی جانے والی حکومت بے یارو مددگار ہوگئی تھی دوسری طرف اپوزیشن پارٹیاں خاص کر پاکستان پیپلز پارٹی اپنا حساب کتاب سود سمیت وصول کرنے کی تیاری کر رہی تھی۔ جنرل پرویز مشرف اپنے ناخُن تیز کر چکے تھے۔ ہر طرف سے انتظار تھا کہ میاں صاحب غلطی کریں اور بس۔۔۔۔ آخر کار غلطیاں سرزد ہونا شروع ہوگئی پاکستان میں پہلی بار میرے عزیز ہم وطنوں کی جگہ سب سے پہلے پاکستان کا نیا نعرہ لگایا گیا جنرل پرویز مشرف اقتدار کی سنگا سن پر براجمان ہوگئے تو میاں مُحّمد نواز شریف امیرالمومنین کا خواب لئے آصف زرداری کے برابر والی ملیر جیل کی کوٹھری میں آباد ہوگئے۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔