کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟ ساتویں قسط

Posted on March 7, 2017



کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟
ساتویں قسط
تحریر:- حبیب جان لندن

اس بار ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس مسلم لیگ (ن) کے بجائے پاکستان پیپلز پارٹی کے نام کردیا گیا۔ غلام اسحق خان کی جگہ فاروق احمد خان لغاری کے صدارتی منصب پر فائز ہونے کے بعد یہ گُمان ہو چلا تھا کہ اب شاید پاکستان میں جمہوریت کی گاڑی اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرے گی۔ وزیراعظم اور صدر کے مابین بہتر ورکنگ ریلیشن قائم ہوگا، ادارے فعال اور مظبوط ہوں گے تو دوسری طرف عوام کی اُمید بندھ آئی تھی کہ اب پاکستان پیپلز پارٹی اپنے منشور روٹی کپڑا اور مکان جیسے وعدوں کو حقیقت کا رنگ دیتے ہوئے مزدور کسان اور طلباء کی زندگی میں انقلاب برپا کر دے گی.

لیکن اسے بد قسمتی کہئیے یا ثمُی قسمت کچھ ہی ماہ میں جمہوریت دشمن قوتوں نے بھائی بہن یعنی محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ اور فاروق احمد خان لغاری کے درمیان ایسی نفرت کی دڑاڑ ڈالی کہ ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس جو کہ چند فرلانگ پر واقع تھے اتنے دور ہوگئے کہ جو شخص شہید بی بی کے احترام میں گھنٹوں گھنٹوں پجیرو جیپ پر لٹک لٹک کر جئے بھٹو کے نعرے لگایا کرتا تھا وہی شخص اسی قائد اور بہن کے خلاف ایسے ایسے الزامات لگانے پر اُتر آیا کہ آدمی کانوں کو ہاتھ لگالے.

وقت تیز رفتاری کے ساتھ سفر کر رہا تھا تو دوسری طرف سازشی عناصر بھی بڑی تیزی کے ساتھ شہید بینظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف جال بُننے میں مصروف تھے اسی دوران کلفٹن کراچی میں پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس کے چئیرمین اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور چئیرمین عوامی وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کے گھر کے سامنے ان کے بیٹے اور اس وقت کی منتخب وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کے بھائی میر مُرتضی بھٹو کو رات کے اندھیرے میں خون میں نہلا دیا گیا۔ اور کمال فن کاری کے ساتھ اس قتل کا تانا بانا وزیراعظم بہن کے ساتھ ساتھ اس کے شوہر یعنی آصف علی زرداری کے سر ڈال دیا گیا۔ میر مرتضی بھٹو کے قتل سمیت پاکستان پیپلز پارٹی پر اقربا پروری اور کرپشن کے الزامات لگاتے ہوئے آئینی شق B-52 کا استمعال کرتے ہوئے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی حکومت کو گھر اور زرداری کو جیل بھیج دیا گیا.

نگراں حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا الیکشن کا اعلان ہوا، ظاہر سی بات تھی ہر ذی شعور اچھی طرح جانتا تھا کہ اب پیپلز پارٹی کو نہیں مُسلم لیگ کو اقتدار سوپنا جائے گا۔ ایوان صدر سازشوں کی آمجگاہ بن گیا بدنام زمانہ ہارس اینڈ کیٹل شو شروع کردئیے گئے چاروں صوبوں کی زنجیر سکڑ کر صرف سندھ تک محدود ہوگئی۔ پاکستان کی سیاست میں امریکن مائی باپ کے ساتھ ساتھ برادر اسلامی ممالک بھی دل کھول کر ریال اور دینار لُٹا رہے تھے، سیاسی اور مذہبی اتحاد بھی پروان چڑھ رہے تھے تو دوسری طرف جمہوری قوتوں کو دیوار سے لگا دیا گیا تھا۔ پاکستان کے ٹھیکیدار قائداعظم کے پاکستان کو بند گلی میں دھکیل رہے تھے.

صاف شفاف الیکشن کا ڈھول اتنی شدت سے پیٹا گیا کہ بچاری بینظیر بھٹو شہید کی آواز اس شور میں دب گئی وفاق کی سب سے بڑی پارٹی جاگ پنجابی جاگ کے نعرے کے نیچے دب کر صرف 17 قومی اسمبلی کی نشستیں حاصل کر پائی۔ اور ایک بار پھر عنان اقتدار میاں مُحّمد نواز شریف کے حوالہ کردیا گیا۔ پاکستان کچوا چال کی رفتار سے تو دنیا والے چاند پر ڈیرے ڈال رہے تھے، توانائی کے شعبے میں انقلاب برپا ہو چکا تھا موٹر کاریں الیکٹرانک ٹیکنالوجی پر divert جبکہ ہوائی جہاز سولر انرجی پر اُڑانے کے منصوبے فائنل مراحل میں داخل ہورہے تھے، عام آدمی بے روزگاری، مہنگائی، لوڈ شیڈنگ جیسے مسائل سے نبرو آزما جبکہ حکمران اور اشرافیہ چین کی بانسری بجاتے ہوئے سب اچھا ہے کی رٹ لگائے دہشت گردوں کی پھلتی پھولتی نرسریوں سے بے خبر اپنی اپنی مستیوں مست بنک بیلینس بڑھانے میں مصروف تو دوسری طرف دختر مشرق بینظیر بھٹو اپنے بچوں کے ہمراہ ایک صوبے سے دوسرے صوبوں کی عدالتوں میں کرپشن کے مقدمات کی تاریخوں پر پیشیاں بھگت رہی تھی۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔۔