کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟ چھٹی قسط

Posted on March 3, 2017








کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟
چھٹی قسط
تحریر:- حبیب جان لندن

جنرل ضیاء طیارہ حادثہ کے بعد ایک اُمید ہو چلی تھی کہ شاید اسٹبلشمنٹ اور جمہوری قوتیں کچھ دو اور کچھ لو کی پالیسی کے تحت ایک آمر کی بچھائی ہوئی بساط سے آہستہ آہستہ باہر نکل آئیں گے۔ یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا ضیاءالحق کے بعد بھی ایک مخصوص گروپ اپنی پالیسیوں سے دستبردار ہونے کیلئے تیار نہ تھا۔ حالانکہ صاف انداز میں ہر اندھے کو بھی صاف شفاف آئینہ کی طرح بین الاقوامی قوتوں کی مستقبل کی پالیسیاں نظر آرہی تھیں۔ بد قسمتی سے ہمارے منصوبہ ساز اپنی ناک سے آگے دیکھنے کیلئے اب بھی تیار نہیں تھے۔

افغانستان میں خانہ جنگی اپنی آب و تاب کے ساتھ جاری تھی روسی ہتھیار ایک دوسرے کے خلاف استمعال ہورہے تھے۔ ہمارے اہل دماغ برادری اسلامی مُلک کی مذہبی عقیدت و احترام کے جزبہ سے سرشار اس کی ہر بات پر بغیر کچھ تمہید باندھے سر بسجود ہو جاتے تھے۔ اور یوں اسی محبت کے سبب افغانستان میں ایک ایسی حکومت تشکیل دے دی گئی جو مکمل اسلامی کہلائی طالبان کمانڈر مملکت چلانے کے اہل بنے اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان سمیت برادر اسلامی مملکت نے بھی طالبان حکومت کو شرف قبولیت بخش دیا۔

یاد رہے اس سارے عمل میں کتنا جمہوری انداز اختیار کیا گیا کتنے اجلاس ہوئے اور کون کون on board تھا کوئی خاص جان کاری نہیں ہاں البتہ اس وقت کی جمہوری حکومت جو کہ محترمہ شہید بینظیر بھٹو کی تھی کہ ایک اہم ذمہ دار جنرل نصیر بابر کے سر یہ سہرا رکھا جاتا ہے کہ افغانستان میں طالبان کو اقتدار دینا ان کا کارنامہ تھا۔اس بحث میں پڑے بغیر کہ آیا یہ کارنامہ جنرل بابر کا تھا یا جنرل حمید گُل کی ڈاکٹرائن تھی۔

افغانستان میں انتہائی قلیل مدت میں جہاں طالبان کے عدل و انصاف کا ڈنکے بجنے لگے وہی دل دہلانے والے مظالم بھی سامنے آنے لگے۔ خواتین پر مظالم تو مخالفین کے سر کاٹے جانے جیسی باتیں مغربی میڈیا کی زینت بننے لگی۔ اسی دوران پاکستان میں موجود افغان جہاد کے ہیرو اور غازی بھی نادرن سرحدی علاقوں کے ساتھ ساتھ شہروں میں مدرسے و مساجدوں کے زریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھانے میں مصروف عمل ہوگئے۔ پاکستان میں سول حکومت گیارہ سالہ آمریت کے مضمرات ختم کرنے میں کچھوے کی طرح آگے بڑھ رہی تھی، اور شاید یہئی وجہ تھی کہ جمہوری حکومت نے فوج سول تعلقات کی مضبوطی کیلئے جنرل اسلم بیگ کو تمغہ جمہوریت سے بھی نوازا تاکہ آئندہ کوئی جنرل جمہوریت پر شب خون نہ مارے۔

تمغہ جمہوریت دینے کے باوجود محترمہ شہید بینظیر بھٹو کی حکومت اپنی آئینی مدت پوری نہ کر سکی اور اس مرتبہ منصوبہ سازوں نے طریقہ کار بدل کر صدارتی اختیارات استمعال کرتے ہوئے آئینی شق B-52 کے زریعے شہید بینظیر بھٹو کی حکومت کو گھر بھیج دیا۔ الیکشن کا اعلان ہوا جن لوگوں نے شہید بینظیر بھٹو کو گھر بھیجا تھا وہ دوبارہ کسی اور کو اقتدار میں لانا چاہتے تھے لہذا وہی ہوا الیکشن تو ہوئے لیکن نتائج مرضی کے لائے گئے اور یوں مسند اقتدار کی ہما میاں نواز شریف کے سر پر بٹھا دی گئی۔

اب کیا تھا میاں صاحب اسلام آباد میں بر اجمان تو دوسری طرف مجاہدین طالبان کی صورت میں افغانستان پر حکمرانی کر رہے تھے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حکمرانوں نے امیرالمومنین کے خواب دیکھنا شروع کردئیے تھے۔ ہمارے غازی بھی اپنی آب و تاب کے ساتھ چمک دمک رہے تھے، پاکستان جمہوریت سے کوسوں دور ہوتا جارہا تھا۔ امریکہ واحد سپر پاور ہونے کے ناطے دنیا کا واحد تھانیدار بنا ہوا تھا، مرضی کے فیصلے مسلط ہورہے تھے، روس کا شکست کے داغ دھوتے دھوتے شیرازہ بکھر گیا تھا۔ صحرائی اسلامی ریاستیں اپنی دُھن میں مگن آسمان کو چھوتی ہوئی بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر میں مصروف تھیں تو دوسری طرف افغان پاک سرحد پر اندر ہی اندر ایک خوفناک لاوا پک رہا تھا۔

پاکستان کے اندر جمہوری قوتیں کمزور جبکہ مذہبی جنونیت بڑھتی جارہی تھی منصوبہ ساز خوشی کے شادیانے بجانے میں مصروف تھے، کسی کو کوئی سروکار نہیں تھا مدرسے اور مساجد اسلامی تعلیمات کی بجائے دوسرے ایجنڈے پر لگا دئیے گئے تھے، کسی کو نہ غم تھا نہ فکر کہ آنے والا کل کیا پیغام لارہا ہے پاکستان کی سالمیت اور استحکامت کا مستقبل کیا ہوگا۔ نہ کوئی خارجہ پالیسی اور نہ ہی کوئی داخلہ پالیسی، بقول کسی شاعر کے
نہ بس کی خوبی نہ ڈرائیور کا کمال ، بس چلی جارہی ہے خُدا کے سہارے

موٹروے کی شروعات کے سوا کوئی بھی قابل زکر منصوبہ ایسا نہ تھا جس پر قوم فخر کر سکے۔ دوسری طرف میاں نواز شریف کو اقتدار کی مسند پر بٹھانے والے حسب روایت اکتاہٹ کا شکار ہونے لگے اس مرتبہ ایک تیر سے دو شکار کئے گئے میاں صاحب کے ساتھ ساتھ آثار قدیمہ کے بابا غلام اسحق خان کو بھی فارغ کردیا گیا۔ پھر الیکشن کا ڈھونگ رچایا گیا لازمی طے تھا اب میاں صاحب اقتدار میں نہیں آسکتے تھے لہذا میوزیکل چئیر کے کھیل میں قرعہ شہید بی بی کے نام نکلا، اس بار منصب جلیلہ سمیت صدارت بھی پیپلز پارٹی کے نام کردی گئی۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔۔