مودی سے پہلے اجیت ڈوول اسرائیل میں

Posted on March 3, 2017








ریندر مودی انڈیا کے پہلے وزیر اعظم ہوں گے جو موسم گرما میں اسرائیل کا دورہ کریں گے اور اس دورے کی تیاریوں کے لیے انڈیا کے مشیر برائے قومی سلامتی اجت ڈوول اسرائیل کے دو روزہ دورے پر اسرائیل پہنچے ہیں۔

اجت نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو اور اپنے ہم منصب بریگیڈیئر جنرل ریٹائرڈ جیکب نیجل سے ملاقات کی۔

انڈیا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ انڈیا اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات 25 سال قبل قائم ہوئے اور دونوں ممالک کے درمیان روابط میں بتدریج بہتری آئی ہے۔

کانگریس نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو خاموشی سے بہتر کرنے کی پالیسی اپنائی جس کی بڑی وجہ انڈیا کی اندرونی سیاست اور انڈیا کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات تھے۔ تاہم بھارتیہ جنتا پارٹی نے کھلے عام اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی پالیسی اپنائی ہے۔

اس سے قبل اکتوبر 2015 میں صدر پرناب مکھرجی انڈیا کے پہلے سربراہ مملکت تھے جنھوں نے اسرائیل کا دورہ کیا۔

صدر مکھرجی کی دعوت پر گذشتہ سال اسرائیلی صدر نے انڈیا کا دورہ کیا اور وہ دوسرے اسرائیلی صدر تھے جنھوں نے 20 سال بعد دہلی کا دورہ کیا۔

اب تک اسرائیل کے صرف ایک وزیر اعظم نے نئی دہلی کا دورہ کیا ہے اور وہ سنہ 2003 میں ہوا تھا جب اس وقت کے وزیر اعظم ایریل شیرون انڈیا گئے تھے۔ اس وقت بھی بی جے پی کی حکومت تھی اور اتل بہاری واجپائی وزیر اعظم تھے۔
نومبر 2015 میں عالمی ماحول پر پیرس میں ایک اجلاس کے دوران نریندر مودی نے نیتن یاہو سے کہا تھا ‘مجھے خوشی ہے کہ ہم فون پر بات کر سکتے ہیں اور ہر موضوع پر بات کر سکتے ہیں۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ اور آپ کے ساتھ یہ ہو سکتا ہے۔’ اسرائیلی وزیر اعظم نے فوراً جواب میں کہا ‘اور آپ کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔’

2015 میں اقوام متحدہ کی اسرائیل کی غزہ میں جاریحت پر جاری کی گئی رپورٹ پر یو این کے ادارے برائے انسانی حقوق کے ووٹ میں انڈیا نے ووٹ دینے سے گریز کیا۔ اور اسی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہت بہتری آئی۔

نیتن یاہو نے اپنی تقریروں میں مودی کو اکثر ‘میرے دوست’ کہہ کر مخاطب کیا اور وہ اسرائیل کی انڈیا کو برآمدات میں اضافے کے لیے کوشاں ہیں۔ انھوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو ‘لامحدود’ قرار دیا۔ 1992 میں دونوں ممالک کے درمیان 20 کروڑ ڈالر کی تجارت تھی جو 2016 میں 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی ہے۔