کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟ پانچویں قسط

Posted on February 28, 2017








کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟
پانچویں قسط
تحریر:- حبیب جان لندن

اس بات سے یقینا نہ ہمیں اختلاف ہے اور نہ ہی کسی اور کو اختلاف ہوگا۔ کہ 1971 کی پاک بھارت جنگ میں جو کردار روس نے ادا کیا جس کے سبب ہمیں پسپائی ہوئی اور پاکستان دو لخت ہوا لہذا بھارت کے ساتھ ساتھ اب ہر پاکستانی کا روس کے خلاف دل میں نفرت آمیز رویہ رکھنا ایک فطری عمل تھا۔ اگر 1971 کی جنگ میں روس بھارتیوں کی پشت پر نہ ہوتا تو جنگ کا نقشہ کچھ اور ہی ہوتا۔ لہذا افغانستان کی جنگ میں اگر ہمارے منصوبہ سازوں نے یہ سوچ کر حصہ لیا کہ چلو ایک ٹکٹ میں دو فوائد حاصل کرلیں گے امریکی امداد اور اس کے جدید ہتھیاروں سے دنیا کی دوسری بڑی سپر پاور کو دُھول چٹوائیں گے اور یوں ہم روس سے 1971 کا حساب بھی برابر کرلیں گے۔

یہ بات بھی ایک حقیقت ہے گزشتہ تین دہائیوں سے پاکستان میں جاری دہشت گردی بھی افغان جہاد ہی کے مرہون منت ہے۔ اگر کوئی یہ نہیں مانتا تو درحقیقت وہ حقائق سے آنکھیں چُرارہا ہے، افغان جہاد امریکن ایجنڈا تھا یا نہیں ہمارے سپہ سالاروں نے ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکن ایجنڈے کی آڑ میں روس سے اپنا حساب کتاب چُکایا تو بھی ہمارے منصوبہ ساز لائق تحسین اور مبارکباد کے مستحق ہے آخر کار روس سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا بدلہ تو بنتا تھا۔ یہاں سارے کھیل میں بس ایک یہ غلطی ہمارے منصوبہ بندی کرنے والوں سے ہوگئی کہ وہ امریکہ سے افغان جہاد کے خاتمہ اور روس کی شکست کے بعد کا روڈ میپ حاصل کرنا بُھول گئے، یا پھر امریکن جان بوجھ کر پاکستان کو بیچ منجدھار میں چھوڑ کر پتلی گلی سے نکل گئے۔

امریکن بدمست ہاتھی کی طرح چنگھاڑتا ہوا مستقبل کے نتائج سے بے پرواہ فتح کے نشہ میں چُور واشنگٹن جا بیھٹا، ضیاءالحق اور اس کے رفقاء بلا غیرے شرکت پاکستان کے مالک بن بیٹھے اور روس کی بربادی میں شریک ہر جنرل داد وصول کرنے کے ساتھ ساتھ بچا کچا مال غنیمت سمیٹنے میں لگ گیا۔ رہے مجاہدین جن کو آج کل حرف عام میں دہشت گرد یا خود کش بمبار کے القابات سے یاد کیا جاتا ہے وہ اپنی اپنی دنیا میں یوں مگن ہوگئے جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہیں تھا، لیکن اس کے برعکس افغانستان کے مجاہدین اپنے ہی مُلک میں اقتدار کی بندر بانٹ میں ایسے اُلجھے کہ افغانستان ایک نئی خانہ جنگی میں الجھتا چلا گیا امن اور سکون ایسا روٹھا کہ آج تک افغان سرزمین آگ اور شعلے اُگل رہی ہے۔

سانحہ اوجھڑی کیمپ اور ضیاءالحق طیارہ حادثہ کیس جیسے واقعات بھی کہیں نہ کہیں افغان جہاد سے جا کر جُڑ جاتے ہیں۔ ہیلری کلنٹن کے انکشافات بہت سارے رازوں سے پردہ ہٹاتے ہیں کہ امریکن کس طرح منصوبہ سازی کرتے ہیں اور پھر اس سے کس طرح جان چُھڑاتے ہیں۔ ضیاءالحق طیارہ حادثہ کے بعد تو ہونا یہ چاہئے تھا کہ ہماری پالیسیاں یکسر بدل دی جاتی اگلے کم از کم 50 سال نہیں تو 10 سال کی منصوبہ بندی کی جاتی لیکن بد قسمتی سے نہ اس وقت ایسا کیا گیا اور نہ ہی آج اس طرح کا کوئی منصوبہ تشکیل دیا جارہا ہے پاکستان ہمیشہ سے ہی عارضی بنیادوں پر ہی چلایا گیا اور چلایا جارہا ہے۔ ۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔