ایسی حکومت کا کیا فائدہ؟

Posted on February 26, 2017



ایسی حکومت کا کیا فائدہ؟
حبیب اکرم

راؤ عبدالرشید مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پہلے پنجاب پولیس کے آئی جی اور پھر انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے سربراہ تھے اور سیکیورٹی کے معاملات پر وہ بھٹو کے مشیر بھی تھے۔ 1976ء میں انہوں نے ایک خط وزیراعظم بھٹو کو لکھا جس میں انہیں بتایا گیا تھا کہ تین سال پہلے وفاقی حکومت نے بلوچستان میں بغاوت فرو کرنے کا جوکام پاک فوج کے سپرد کیا گیا تھا ، وہ ختم ہوچکا ہے اس لیے اسے جلد ازجلد واپس بلاکر صوبے کے معاملات سول انتظامیہ کو سونپ دینے چاہئیں۔ انہوںنے اپنے خط میں اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ فوجی افسروں کی طرف سے روزمرہ کے سرکاری کاموں میں مداخلت کی وجہ سے سول افسروں میں بے چینی پیدا ہورہی ہے جس کا بروقت علاج نہ کیا گیا تو صوبے کی سول انتظامیہ بددل ہوکر کام چھوڑ دے گی اور ایک بار ایسا ہوگیا تو پھر اسے بحال کرنا بہت مشکل ہوجائے گا۔ بھٹو نے اس خط کو بغور پڑھا اور اس میں کی گئی سفارشات پر عملدرآمد1977ء کے الیکشن کے بعد تک ملتوی کردیا۔ الیکشن کے بعد حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ انہیں بلوچستان سے فوج واپس بلانے کا موقع نہ مل سکا کیونکہ الیکشن کے نتائج تسلیم نہ کیے گئے اورملک تیسرے مارشل لاء کی زد میں آگیا۔سول معاملات میں فوج کی مداخلت بڑھتی چلی گئی اور سول انتظامیہ پہلے بد دِل ، پھر کمزور اور آخرکار نا اہل ہوکر رہ گئی۔
راؤرشید نے آج سے اکتالیس برس پہلے جو کچھ لکھا تھا وہ کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی، دنیا بھر کے ماہرین سیاسیات صدیوں پہلے اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ ملک کے اندرونی معاملات میں فوج یا نیم فوجی دستوں کا استعمال اگر طول پکڑ جائے تو سول انتظامیہ تباہ ہوجاتی ہے۔ اس تباہی میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہوتا بلکہ خودسول انتظامیہ
خوف اور احساسِ شکست میں مبتلا ہوکر پیشہ ورانہ خودکُشی پر مائل ہوجاتی ہے۔یہ سامنے کی بات تھی جسے بھٹو نے اپنی دانست میں چند ماہ کے لیے نظر انداز کیا تو حالات ایسا موڑ مڑ گئے کہ اتنا عرصہ گزرجانے کے بعد بھی بلوچستان سے (فرنٹیئر کانسٹیبلری)ایف سی کو نکالنا ممکن ہی نظر نہیں آتا۔ بے شک ایف سی فوج سے الگ ادارہ ہے لیکن اس کی ساخت اوراس میں حاضر سروس فوجی افسروں کی کمان کے باعث اسے فوج سے منسلک ہی سمجھا جائے گا۔ اس صوبے میں سول انتظامیہ اور پولیس کی حالت اتنی پتلی ہے کہ ان کے اعلیٰ افسران ایف سی کی مدد کے بغیر دفتر سے اپنے گھر بھی نہیں جاسکتے۔ اہلیت کا عالم یہ ہے کہ کوئٹہ میں پولیس کے ٹریننگ سکول پر دہشت گرد حملہ کرتے ہیں تو پولیس والے ان کا مقابلہ کرنے کی بھی سکت نہیں رکھتے۔ سول انتظامی افسروں اور ایف سی میں متعین فوجی افسروں کے درمیان اعتماد کا عالم یہ ہے کہ ڈیرہ بگٹی کے ڈپٹی کمشنر ، دو اسسٹنٹ کمشنر اور ایس پی پولیس وزیر اعلیٰ ، چیف سیکرٹری اور آئی جی سے ایف سی کے افسروں کے رویے کی شکایت کرتے ہوئے اپنے تبادلے کی درخواست کررہے ہیں۔ 1976ء میں جو خدشہ تھا آج تلخ حقیقت بن کر سامنے موجود ہے اور کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔
سندھ میں بھی یہی ہوا جہاں رینجرز کو پچیس برس پہلے چند ماہ کے لیے بلایاگیا تھا ۔ رینجرز کی آمد کے بعد پولیس ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ گئی اور مسلسل کمزور ہوتی چلی گئی۔ پولیس کی کمزوری کے باعث حکومت کو رینجرز کے اختیارات بڑھانے پڑے اور اب نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ سندھ کی پولیس دہشت گردی کے خلاف لڑنا تودور کی بات، ایک جلسے کی بھی مناسب طور پر حفاظت نہیں کرسکتی۔جب پولیس کمزور ہوگئی تو فطری طور پرہر سول ادارے پر حکومت کی گرفت ڈھیلی پڑتی گئی اور حالات یہاں تک آ پہنچے کہ سندھ کے بلدیاتی اداروں سے لے کر صوبائی سیکرٹریٹ تک ہرادارے میں کام کرنے کی صلاحیت ہی سرے سے ناپید ہوگئی۔رینجرز کو حالات سنبھالنے کے لیے ازخود اپنا مینڈیٹ بڑھانا پڑگیا جس کے سیاسی مضمرات صوبے میں طویل عرصے تک رہیں گے۔ اس پر مزید بدقسمتی یہ ہوئی کہ رینجرز کی سندھ میں موجودگی کوئی انتظامی معاملہ نہیں رہی بلکہ قومی سلامتی سے جڑ گئی جس کی وجہ سے رینجرز کی افادیت کافیصلہ صوبائی حکومت کے ہاتھ سے نکل کر وفاقی اداروں کے پاس چلا گیا ، یوں صوبائی حکومت کی رٹ بھی رخصت ہوگئی۔ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقے میں بھی ہم اسی صورتحال سے دوچار ہیں جس کا تجربہ ہمیں سندھ اور بلوچستان میں ہوچکا ہے ۔ یہاں فوج اور ایف سی نے دہشت گردی پر تو بڑی حد تک قابو پا لیا ہے مگر اس کے نتیجے میں سول انتظامیہ تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے خیبر پختونخوا میں تو پولیس کو طاقتور بنا کر کسی حد تک سول حکومت کی رٹ بحال کرلی ہے مگر وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں میں اتنا بھی نہیں ہوسکا۔
پنجاب واحد صوبہ ہے جہاںہمہ گیر قسم کا کوئی فوجی آپریشن نہیں ہوا۔ یہاں رینجرز کی مدد حاصل بھی کی گئی تو مختصر وقت اور متعین کام کے بعد انہیں واپس بھیج دیا گیا۔ یہاں کی پولیس پُر اعتماد رہی، حالات سے خود کو ہم آہنگ رکھا اور دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں حاصل کرتی چلی گئی۔ یہاں کی سول انتظامیہ بھی اپنی روایتی سستی کے باوجود جاگتی رہی اور حالات پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے میں کامیاب رہی۔ اس صوبے میں دہشت گردی کے چھوٹے بڑے واقعات تو ہوئے مگر ان کی تعداد دیگر صوبو ں کے مقابلے میں بہرحال کم رہی اور جو ہوئے ان کے ذمہ دار بھی پکڑے گئے یا ٹھکانے لگ گئے۔ پچھلے برس لاہور میں گلشن اقبال پارک میں خودکش دھماکا ہوا تو حکومت مخالف سیاسی جماعتوں نے صوبے میں رینجرز آپریشن کا مطالبہ داغ دیا اور اتنا دباؤ ڈالا کہ ایک موقعے پر صوبائی حکومت صوبہ گیر رینجرز آپریشن پر تیار ہوگئی۔ یہ معاملہ ختم ہوا تو مال روڈسانحہ نے ایک بار پھر وہی دباؤ پیدا کردیا کہ صوبے بھر میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی رینجرزکو سونپ دی جائے۔ اس بار یوں محسوس ہورہا ہے کہ صوبائی حکومت اس دباؤ کو برداشت نہیں کرپارہی اور اس نے وفاق کو رینجرز فراہم کرنے کی درخواست بھی کردی ہے۔پنجاب حکومت کی درخواست پر فیصلہ کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو ئی یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس کی اپنی طے کردہ پالیسی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پہلی دفاعی لائن پولیس ہے، رینجرز کو پہلی دفاعی لائن بنا کر دراصل وہ اپنی اس پالیسی سے انحراف کا ارتکاب کرے گی۔اگر کوئی انتہائی ضرورت یا ناقابل برداشت دبائو ہے بھی تو رینجرز کو ”سپرپولیس‘‘ کے طور پر لانے کی بجائے مختصر ترین وقت کے لیے پولیس کی معاونت تک ہی محدود رکھنا چاہیے۔ ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ پنجاب کو دیگر صوبوں کے مقابلے میں محفوظ رکھنے کا کام اسی پولیس نے بغیر کسی مدد کے اپنا خون بہاکر کیا ہے، اگر یہ پولیس بھی برباد ہوگئی تو پنجاب کے حالات بھی وہی ہوجائیں گے جو سندھ اور بلوچستان میں ہیں۔
پنجاب میں فوجی یا نیم فوجی دستوں کے ذریعے کوئی طویل مدتی آپریشن کرنے سے پہلے وفاقی حکومت کو اس کے عالمی مضمرات کا بھی بغور جائزہ لینا ہوگا، کیونکہ ملک کے اکثریتی صوبے میں اس طرح کا کوئی آپریشن شروع کرنے سے دنیا کو ایک تویہ پیغام جائے گا کہ پاکستان ضربِ عضب سے مطلوبہ نتائج نہیں حاصل کرسکا اوردوسرے یہ کہ ایک بار یہاں اس طرح کا کوئی آپریشن شروع ہوگیا تو پورا پاکستان ہی جنگ زدہ علاقے کی تعریف میں آجائے گا۔ ضرب عضب کی ناکامی کے تاثر کے ساتھ جنگ زدہ علاقہ قرار پا جانے کی صورت دنیا ہماری خودمختاری کا کتنا لحاظ کرے گی اس کا ہمارے اہل ِ حل و عقد کوخوب اندازہ ہے۔اس معاملے کاسیاسی پہلو یہ ہے کہ اگر مسلم لیگ ن کی حکومت اپنی طاقت کے گڑھ پنجاب میں بھی دہشت گردوں سے نہیں لڑسکتی تو پھر ایسی حکومت کا کیافائدہ؟
– See more at: http://dunya.com.pk/index.php/author/habib-akram/2017-02-23/18651/82571251#tab2