کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟ چھوتی قسط

Posted on February 23, 2017








کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟
چھوتی قسط
تحریر:- حبیب جان لندن

روس بمشکل اقوام متحدہ کی ثالثی ڈرامہ بازیوں کا سہارا لے کر افغانستان سے ایسے نکلا کہ جان چُھوٹی سو لاکھوں پائیں۔ اسی طرح امریکہ بہادر دنیا کی بلا شرکت غیرے سپر پاور کا تمغہ سجائے افغانستان سے بغیر کسی پیشگی اطلاع دئیے ڈالرز کے چاہنے والوں کو بے یارو مدد گار واشنگٹن سدھار گیا۔ اقوام متحدہ ہمیشہ کی طرح قراردادوں اور مطالبات پیش کرنے میں لگ گئی۔ پاکستان پہلے ہی تین ملین سے زائد افغان مہاجرین کی ذمہ داریاں نبھا رہا تھا کہ دوسری طرف جنت کے طلب گاروں کے غول کے غول جنت کی خواہش لئے واپس پاکستان آگئے۔

ستم ظرفی یہ بھی ہوئی جو دوسرے برادر مسلم ممالک کے مجاہدین تھے وہ بجائے اپنے اپنے مُلکوں کے جانے کے جنت کے خواب لئے مستقل بنیادوں پر پاکستان میں قیام پزیر ہوگئے۔ ایک طرف افغان مہاجرین تو دوسری طرف مجاہدین اور غازیوں کے لشکر، ڈالرز کی بارشیں تھم گئی امریکہ بہادر نے یکدم آنکھیں پھیر لیں جیسے کہ جانتے ہی نہیں تم کون بھائی، جواب دینے والے بولے بھائی میں چاچا خوامخواہ، بین الاقوامی طاقتیں صم بکم ۔۔۔۔ آمر ضیاءالحق پریشان لنگڑی لولی مُحّمد خان جونیجو کی جمہوری حکومت کو بھی فارغ کردیا گیا، ادھر اُدھر ہاتھ پاؤں مارے گئے لیکن نتائج وہی زیرو بٹّہ زیرو.

افغانستان سے روس کے جانے کے بعد مقامی مجاہدین اور قبائل خود سر ہوگئے، ہر گروپ اپنے آپ کو تیس مار خاں سمجھنے لگا، خانہ جنگی عروج پر پہنچ گئی منشیات اور اسلحہ دھرلے سے سرحدوں کے پار اسمنگل ہونے لگا، پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوا گلی گلی منشیات اور کلاشنکوف فروخت ہونے لگی، کوئی پرسان حال نہ رہا مجاہدین پہاڑوں سے نکل کر شہروں میں منتقل ہونے لگے، برادر مسلم ممالک کے مجاہدین بھی پاکستانی معاشرے میں ایسے رچ بس گئے کہ یہئی کہ ہو کر رہ گئے۔

جنت کے طلب گاروں نے افغان جہاد میں شہادت نہ ملنے کو اپنی بدقسمتی جانتے ہوئے زندگی سے صلح کرلی اور اپنے شجاعت و بہادری کے قصہ کہانیاں کرتے کرتے وقت گزارنے لگے۔ بیگمات ناز و نخروں میں تو بچے دودھو پھلو میں پلنے لگے۔ دوسری طرف ہمارے حکمران اقتدار کی مستیوں میں مگن اپنی ہی دنیا میں مگن رہے، کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی، آمر ضیاءالحق اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے مصروف عمل رہا، برادر اسلامی مُلک اپنے اپنے معاملات سیدھے کرتے رہے، افغان جہاد سے جن لوگوں نے فیض حاصل کیا تھا ان کی اولادیں اندرون ملک کے ساتھ ساتھ بیرون ممالک میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرتی رہیں. ۔۔۔۔۔۔ جاری ہے