کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟ تیسری قسط

Posted on February 21, 2017








کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟
تیسری قسط.
تحریر:- حبیب جان لندن

روس کے بڑھتے ہوئے اثرات کو زائل کرنے کیلئے امریکن نہایت ہی چالاکی اور ہوشیاری سے پاکستان کو فرنٹ لائن کے طور پر استمعال کر رہے تھے وہی شاطرانہ طور پر دیگر اسلامی ممالک کو جہاد کے نام پر بڑی خوبصورتی کے ساتھ افغان جنگ میں دھکیل رہے تھے۔ جُوں جُوں روسی افغانستان میں قدم جما رہے تھے یوں یوں امریکن مسلم ممالک کے جنگجوؤں کو اسلامی جہاد کے نام پر بھرتی کرکے پاکستان بھیجے جا رہے تھے تو دوسری طرف آمریت کو شرف قبولیت کے ساتھ ساتھ ڈالروں بھری بوریوں سے نوازا جارہا تھا۔

امریکن بلاک سے وابستہ برادر مسلم ممالک براہ راست پاکستان کے آمر ضیاءالحق کے اقتدار کو دوام بخشے ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔ جہادی مجاہدین وطن عزیز میں معتبر اور معززین کے رُتبے پر فائز ہوچکے تھے، سر پر کفن باندھے کفر کی قوت ” روس” کے خلاف جنت کی طلب میں برسر پیکار تھے۔ جہاد میں شہید ہونے والے مجاہدین کی بیوائیں اپنے اپنے گاؤں اور علاقوں کی معزز ترین خواتین میں شمار ہونے لگی تو ان کے بچے ہر ایک کی آنکھ کا تارا بنے ہوئے تھے۔ سرکاری اخبارات شہداء کی شان میں قصیدے لکھتے روس کی بربادی تک جہاد کا درس دیا جاتا شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے جیسی جزباتی تحریریں کر کے نوجوانوں کو راغب کیا جارہا تھا۔

یاد رہے ہمارے حکمران امریکہ اور برادر مسلم ممالک سے مسلسل ڈالرز پر ڈالرز لے رہے تھے تو دوسری طرف جنت کی لالچ میں جہاد کے نام پر اندھا دھند بھرتیاں جاری ساری تھی. یہاں ہم مذہبی اور سیاسی پارٹیوں کے افغان جہاد پر ادا کئے گئے کردار پر بحث کئے بغیر اصل حقائق پر ہی توجہ مرکوز رکھیں گے۔ نوجوان بھرتی بھی ہورہے تھے تو دوسری طرف سے لاشے بھی آرہے تھے شہداء کی شجاعت اور بہادری کے قصہ ہر اک زبان پر تھے مائیں بیوہ ہونے پر نازاں تو بچے شادمان تھے۔ جنت کا تصور ہر ایک کے دل و دماغ میں رچ بس گیا تھا۔

وقت پر لگائے اُڑتا رہا، مجاہدین کی فتوحات کا سلسلہ جہاں آسمانوں کو چُھو رہا تھا وہی عظیم طاقت روس دونوں شانے چت ہونے جارہی تھی۔ بین الاقوامی سطح پر روس کو افغانستان سے نکلنے کا محفوظ راستہ دینے کا حل تلاش کیا جارہا تھا، ہمارے یہاں سب کے سب نہال تھے، کفر کی سب سے بڑی سپر پاور کی شکست پر شادیانے بجائے جارہے تھے، جو مجاہدین غازی بن کر لوٹ رہے تھے وہ سب قوم کے سپر ہیرو تھے، ایک عجیب سما تھا چراغاں تھا خوشیاں تھی، غازی کا گھر کسی پیر مرشد کا گھر بن گیا تھا، تحفہ تحائف نزرانے پوشاک واہ واہ تھی، شان و شوکت تھی کہ اچانک راتوں رات۔۔۔۔۔ایک دم سے۔۔۔۔ جاری ہے