کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟ دوسری قسط

Posted on February 20, 2017



کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے.
قسط (دوئم)
تحریر :- حبیب جان (لندن)

تقریباً گزشتہ تین دہائیوں سے پاکستان دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہے۔ ہماری حکومتیں بار بار دہشت گردوں کی کمر توڑنے کے دعوے کرتی نظر آتی ہیں لیکن یہ دہشت گرد ہمیشہ سلاجیت نامی کُشتہ کھا کر اپنی کمر سیدھی کر کے پھر آ دھمکتے ہیں اور یہ سلسلہ ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ پچاس ہزار سے زائد ( فوج اور پولیس کے جوانوں کی تعداد علیحدہ ہے)ہمارے معصوم شہری ان دہشت گردانہ کاروائیوں میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ کئی مائیں بیوہ ہوگئیں تو کہیں ننھے نونہال باپ کے سائے سے محروم ہوگئے، اسی طرح کئی نوجوان سن بلوغت میں ہی سنہرے خواب لئے دار فانی کو کُوچ کر گئے. اس کے علاوہ بم دھماکوں میں سرکاری اور نجی املاک کا نقصان علیحدہ سے ہے۔

ان تین دہائیوں میں ہونے والی دہشت گرد کاروائیوں میں اگر معاشی نقصان کا تخمینہ لگایا جائے تو وہ بھی اربوں کھربوں میں بنتا ہے، ان تمام باتوں کے باوجود آج تک ہماری سیاسی اور مقتدر قوتیں کسی ایسے نتیجے پر نہیں پہنچ پائیں کہ آخر ایسا کیا حل نکالا جائے جس کے سبب ہمیشہ ہمیشہ کیلئے وطن عزیز سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکے.

دہشت گردی کی ابتدا گرم پانی پر قبضہ کی جنگ.

تین دہائی قبل جب ہم نے امریکی ایجنڈے کے تحت افغانستان پر قابض رشین افواج کے خلاف طبل جنگ بجایا تھا تو کسی کے وہم گمان بھی نہ تھا کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے۔ یہاں یہ بات سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ ریاست ہمیشہ جب بھی کوئی فیصلہ کرتی ہے تو اندرونی معاملات سمیت بیرونی مفادات کو مقدم رکھ کے کرتی ہے۔ لیکن جب ہم تین دہائیوں قبل ریاست کے فیصلوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں تو دماغ کچھ ماؤف سا ہوجاتا ہے۔

آئیں کچھ جذبات سے ہٹ کر جائزہ لیتے ہیں کہ اس وقت کے حکمرانوں سے ایسی کیا غلطیاں سرزد ہوئی تھی کہ آج 30 سال بعد بھی ہم بحیثیت قوم اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں، اگر ہمارے حکمران دور اندیش اور سیاسی طور پر بالغ ہوتے تو یقیناً کسی بھی حتمی فیصلہ سے قبل 100 بار ضرور سوچتے یا مشورے کرنے کی میز پر بیٹھ کر کوئی نتائج اخز کرتے لیکن بدقسمتی یا ثمی قسمت کہیئے کہ اس وقت پاکستان پر ایک آمر ضیاءالحق کی حکمرانی تھی اور وہ آمر اپنے دور اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے کسی بھی صورت بین الاقوامی طاقتوں کو خوش رکھنے کیلئے کسی حد تک جانے کیلئے تیار تھا۔

ایک طرف ڈالرز کی بارش تو دوسری طرف جنت کی بشارت.

آج گوگل یا YouTube پر سرچ کیا جائے تو امریکن تھنک ٹینک سے لیکر CIA اور ہیلری کلنٹن تک برملا اس بات کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں کہ امریکہ نے اپنے مفادات کے تحفظات کیلئے گرم پانی تک روس کی رسائی روکنے کیلئے پاکستان کو کس طرح استمعال کیا ” مجاہدین ” کی اصطلاح اور ” طالبان ” ڈاکٹرائن کو کس طرح مُسلم معاشرے میں سرائیت کیا۔ بقول امریکن کے ہم نے پاکستان کے حکمرانوں پر “ڈالروں” کی بارش کردی اور اپنے ہدف حاصل کرنا شروع کردئیے۔ دوسری طرف ہمارے حکمرانوں نے امریکن ایجنڈے کی تشریح کچھ یوں کی روس کی فغانستان میں موجودگی سے اسلام کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں لہذا “جہاد” واجب ہوگیا ہے، بس پھر کیا تھا گلی گلی منادی کرا دی گئی ملاؤں نے جنت کے فتوے دینے شروع کردئیے اور یوں (ایک ایسی جنگ کی بنیاد رکھ دی گئی جس کا فائدہ صرف اور صرف امریکہ کو تھا تو نقصان سراسر پاکستان کا تھا۔ ( جاری ہے