Final Pakistan Aur Dehshatgardon Ke Darmiyan

Posted on February 18, 2017








Dated: February 18, 2017
Final Pakistan Aur Dehshatgardon Ke Darmiyan
By: Syed Anwer Mahmood
فائنل پاکستان اور دہشتگردوں کے درمیان
تحریر: سید انور محمود

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) پاکستان کی ٹی/20 پریمئر لیگ ہے۔ یہ لیگ ٹیموں کے نام کی بجائے شہروں کے نام پر مشتمل ہے۔ ٹیموں کو ’’لاہور قلندرز، اسلام آباد یونائیٹڈ،کراچی کنگز،کوئٹہ گلیڈیٹرز اورپشاور زلمی‘‘ کے نام دیے گئے ہیں۔اس لیگ کا مقصد بین الاقوامی کرکٹ ٹیموں کو پاکستان میں کھیلنے کےلیے آمادہ کرنا ہے۔ پی ایس ایل کی پانچ فرنچائز کی نیلامی 93 ملین امریکن ڈالر کے عوض دس سال کے لیے کی گئی ہے، سب سے بڑی بولی ’کراچی کنگز‘ کے لئیے لگائی گئی۔ پاکستان نے کھلاڑیوں کےلئے 2 ملین امریکی ڈالر کا بیمہ کروایا اور غیر ملکی کھلاڑیوں کی آمدنی کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ۔ گذشتہ سال 2016 میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی زیرنگرانی پی ایس ایل کا پہلا ایڈیشن 4تا 23 فروری 2016شارجہ اور دوبئی میں ہوا۔ جس کے فائنل میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو ہرا کر فتح اپنے نام کی تھی۔ پاکستان سپر لیگ کےسرکاری لوگو کی تقریب لاہور کے ایکسپو سینٹر میں 20 ستمبر 2015کو منعقد ہوئی ، اسی تقریب میں سرکاری گانے “اب کھیل کے دکھا” کو بھی علی ظفر کے آواز میں پیش کیا گیا۔

نو فروری 2017کو دبئی میں ہونے والی ایک رنگا رنگ تقریب سے پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن کا آغاز ہو گیا ہے، دوسرے ایڈیشن میں گذشتہ سال کی طرح ہی پانچ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، مجموعی طور پر 24 میچز کھیلے جائیں گے، دبئی 13 اور شارجہ 10 میچوں کی میزبانی کرے گا جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس بار فائنل 5 مارچ کو لاہور میں کرانے کا اعلان کر رکھا ہے، ساتھ ہی پاکستان کرکٹ بورڈ نے یقین دلایا ہے کہ تمام کھلاڑیوں اور آفیشلز کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے گئے ہیں۔تاہم فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن (فیکا) نے بین الاقوامی کرکٹرز کو متنبہ کیا کہ وہ فائنل کے لیے لاہور جانے سے گریز کریں۔ پوری پاکستانی قوم پی ایس ایل کے دوسرئے ایڈیشن میں بھرپور دلچسپی لے رہی ہے مگر ساتھ ہی پاکستان کے عوام دہشتگردی کے ناسور سے بھی نبروآزما ہیں۔ گذشتہ پانچ دن میں ملک کےچاروں صوبوں میں دہشتگردی کی آٹھ چھوٹی بڑی وارداتوں کی وجہ سے ایک سو سے زیادہ افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔ 13 فروری کو لاہور میں ایک بڑی دہشتگردی ہوئی جس میں سات پولیس اہلکاروں سمیت 13 افراد جاں بحق اور84سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں، اس دہشتگردی کے بعد اسی رات پی ایس ایل کے سربراہ نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ فائنل لاہور میں ہی ہوگا۔

جمرات 16 فروری 2017 کی شام کو صوبہ سندھ کے شہر سہون شریف میں لال شہباز قلندر کے مزار پر ایک خودکش حملہ آور نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں 80 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوگئے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 250 سے زیادہ ہے ایک اخباری اطلاع کے مطابق پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں ہوگا یا نہیں اس کا فیصلہ اب 25 فروری کو ہو گا۔ نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل کے فائنل کیلئے نئی ڈرافٹنگ 25 فروری کو ہو گی۔ اس موقع پر غیر ملکی کھلاڑیوں اور پانچوں فرنچائزز کے سامنے فارمولا رکھا جائے گا کہ لاہور فائنل کیلئے کون کون تیار ہے اور کون نہیں؟ نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ جو کھلاڑی لاہور جانے کے لیے تیار نہیں ان کی جگہ نئے غیر ملکی کھلاڑیوں کو شامل کیا جائے گا جن سے وہ رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور ہی میں ہو اور اس میں غیر ملکی کھلاڑی حصہ لیں۔

پاکستان سپر لیگ کے سربراہ نجم سیٹھی نے پیر 12 فروری2017 کی رات کو پوری پاکستانی قوم سےایک سوال کیا تھا کہ پی ایس ایل کا فائنل لاہورمیں ہونا چاہیے یا نہیں، پوری پاکستانی قوم اس بات پر متفق تھی کہ فائنل لاہور میں کرایا جائے۔ اس کے بعد دہشتگردوں نے ایک اور دہشتگردی کا مظاہرہ 16 فروری 2016 کی شام درگاہ لال شہباز قلندر پر کیا۔ یہ دہشتگردوں کی طرف سے پاکستان کی حکومت کو ایک کھلاچیلنج ہے، حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس چیلنج کو قبول کرئے اور ابھی سے واضع طور پر اعلان کرئے کہ پی ایس ایل کا فائنل لاہورمیں ہی ہوگا، اب یہ فائنل ثانوی طور پر تو وہی دو ٹیمیں کھیل رہی ہونگی جو دوسرئے ایڈیشن میں شامل ہیں لیکن حقیقت میں یہ فائنل پاکستان اور دہشتگردوں کے درمیان ہوگا۔ دہشتگردشاید بھول گے کہ واہگہ باڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب کے وقت دو نومبر 2014 کو ان کے خود کش دھماکے کے نتیجے میں تین رینجرز اہلکاروں سمیت 60 افراد جاں بحق اور 175سے زائد زخمی ہوگئے لیکن اگلے روز 3 نومبر کو پھر تقریب ہوئی، ایک دن پہلے اپنے جاں بحق ہونے والے پاکستانی بہن بھایوں کا غم تھا، لیکن لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب میں شرکت کی تھی۔دہشتگردہارگئے تھے،دہشتگرد پاکستانیوں کے حوصلے پست نہ کرسکے تھے، پھر 22 مئی 2015کو زمبابوے کی کرکٹ ٹیم نے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان کے ساتھ ٹی/20 کا انٹرنیشنل میچ کھیلا جو دہشتگردوں کے منہ پر ایک طمانچہ تھا۔

آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ تو پہلے ہی یہ یقین دہانی کراچکے ہیں کہ افواج پاکستان پی ایس ایل کے فائنل کیلئے مکمل تعاون کرے گی۔ دوسری طرف مئیر کراچی وسیم اختر کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ واقعات کی وجہ سے بین الاقوامی کھلاڑی پاکستان نہ بھی آئیں تب بھی پی ایس ایل کا فائنل ملک میں ہی ہونا چاہیے، انہوں نے پی سی بی کو پیشکش کرتے ہوئے کہاکہ اگر پی ایس ایل کا فائنل کراچی میں کرائیں تو وہ اس کی تمام تر ذمہ داری لینے کے لیے تیار ہیں۔ اور اب تو یہ معاملہ ایک بین الاقومی شکل اختیار کرچکا ہے کیونکہ انگلش بورڈ کے صدر اور پاکستان ٹاسک ٹیم کے سربراہ جائلز کلارک نے کہا ہے کہ پاکستان دشمن قوتوں کو شکست دینےکے لئےلاہور میں فائنل ضرور ہونا چاہیے۔جائلز کلارک نے پی سی بی کو کی گئی ای میل میں لاہور سانحہ پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور پی سی بی سے کہا کہ وہ فائنل لاہور میں کرانے کے لئے ثابت قدم رہے۔ آئی سی سی کے سیکیورٹی ماہرین ہر صورت میں پاکستان آئیں گے۔ جائلز کلارک نے پی ایس ایل کے سربراہ نجم سیٹھی سے کہا ہے کہ لاہور میں جو کچھ ہوا اس سے دکھ ہے لیکن اگر فائنل نہ ہوا تو پھر دہشتگردوں کے عزائم مضبوط ہوں گے۔ جبکہ سری لنکا سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی سنگا کارا جو کراچی کنگز کے کپتان بھی ہیں انہوں نے پاکستان میں کھیلنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگران کی ٹیم پی ایس ایل کے فائنل میں پہنچ جاتی ہے تو وہ لاہور میں ضرور کھیلیں گے، انہیں بہت خوشی ہوگی کہ پاکستان میں کرکٹ کے شائقین اپنے کھلاڑیوں کو وطن میں کھیلتا دیکھیں۔

پاکستان سپر لیگ کے سربراہ نجم سیٹھی کوچاییے کہ وہ دہشتگردوں کے اس چیلنج کو قبول کریں اور فوری طور پر لاہور میں فائنل کا اعلان کردیں، اس کے ساتھ ہی ان کو چاہیے کہ وہ صدر پاکستان ممنون حسین کو اس فائنل کے مہمان خصوصی کے طورپر اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیف منسٹر پنجاب شہباز شریف، پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور موجودہ سیاسی رہنما عمران خان، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار، صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ اور کچھ اعلیٰ حکام کو بھی لاہور کے فائنل میچ کودیکھنے کی دعوت دیں، یقیناً اس سےعام لوگوں میں ایک اچھا پیغام جائے گا اور ایک کثیر تعداد میں لوگ فائنل دیکھنے آینگے جو دشتگردوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہوگا اور دنیا کو یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے لیکن دہشتگردوں سے ہر گز خوفزدہ نہیں۔