کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟ جی ہاں۔

Posted on February 14, 2017



کیا پاکستان میں دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟؟؟ جی ہاں!!!
تحریر:- حبیب جان (لندن)
قسط (اوّل)

ایک عرصہ سے گوں مگوں کی کیفیت میں رہا کہ اس حساس موضوع پر لکھا جائے لیکن ہمیشہ دل و دماغ میں ربط نہ ہوسکی، لیکن کراچی کے علاقہ ناظم آباد میں میڈیا ہاؤس کے ایک اسسٹنٹ تیمور کی نا معلوم افراد کے ہاتھوں ہلاکت اور مرحوم کی والدہ اور بہنوں کے ماتم نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا بمشکل رات کروٹیں بدلتے گزری نیند میں بوجھل آنکھیں ملتے ہوئے ابھی صبح اُٹھے ہی تھے کہ ٹیلی ویژن کا ہر چینل لاہور کے دھماکوں کی دل دہلانے والی خبروں سے گونج رہا تھا۔

دوستوں کو فون ملانے کی کوشش کی کہ لاہور میں رہائش ان کے عزیز و اقارب کی خیریت دریافت وغیرہ کی جائے، شکر اللہ کا کہ قریبی احباب کے رفقاء اس المناک حادثہ میں محفوظ رہے لیکن دوسری طرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلی افسران اور میڈیا سے منسلک کیمرہ مین سمیت 14 سے زائد پاکستانی شہید اور 80 کے لگ بھگ افراد شدید زخمی ہوگئے۔ ابھی یہ خبریں گونج ہی رہی تھی کہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بم ناکارہ بناتے ہوئے پولیس فورس کا ایک جوان شہید تو کچھ جوان شدید زخمی ہوکر ہسپتال پہنچ گئے.

ایسا لگ رہا تھا کہ دہشت گرد پاکستان میں خوف کی فضا قائم کر کے کوئی خاص مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دماغ پر زیادہ زور نہیں دینا پڑا معاملات کی کڑیاں خود بخود کھلتی چلی گئیں ایک طرف CPEC یعنی پاک چین راہداری تو دوسری طرف PSL-2 -2017 پاکستان سپر لیگ کرکٹ کپ کا انعقاد اور آرگنائزر کا فائنل میچ لاہور میں کرانے کا اعلان، معاشی حب کراچی میں آگے بڑھتا ہوا امن اور تجارتی ہدف ساتھ ساتھ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی گوادر پورٹ سے تجارتی سرگرمیوں کا آغاز ۔۔۔۔۔۔ ایسے میں یہ کیسے ممکن ہے پاکستان کے ازلی دشمن اس قدر جاری ترقیاتی سرگرمیوں پر خاموش رہیں ۔۔۔۔۔

کھیل سیدھا سادہ ہے پاکستان میں کبھی بھی استحکام نہیں ہونا چاہئے ہمیشہ الجھا کہ رکھو معاشی طور پر کمزور پاکستان ہمارے دشمنوں کا ایجنڈا نمبر 1 ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کچھ اسی طرح کا ایجنڈا ہماری سیاسی پارٹیوں اور اشرافیہ کا بھی ہے کہ ان کے گھر شاد و آباد رہے پاکستان تو ہمیشہ قائم رہنے کیلئے بنا ہے دشمن پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اللہ ہی نے بنایا ہے اور وہی اس کی حفاظت کرے گا، جیسے جملے بول کر اپنے اپنے خوشحالی کے ایجنڈے پر مشغول ہوجاتے ہیں، مال بناؤ تے اگو جاؤ.

آج فوجی عدالتوں کے معاملات پر سیاسی پارٹیاں تقسیم ہے تو دوسری طرف ہر تین ماہ بعد کراچی میں رینجرز اختیارات کا رونا روتے ہوئے نظر آتی ہیں۔ دو سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی پارلیمنٹ فوجی عدالتوں کا متبادل نظام نہیں دے سکیں۔ ایوان زیریں اور ایوان بالا کا اکثر کورم پورا نہیں ہوتا جن لوگوں کا کام قانون سازی کرنا تھا ان کی اکثریت اسمبلی کی آرام دہ لگژری کرسیوں پر جُگت بازیوں اور ٹوٹے دیکھنے میں مصروف نظر آتی ہے۔ جب کوئی حادثہ رونما ہوتا ہر تو اکثر ایک جیسے بیانات نظر آتے ہیں، مثلاً دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، دہشت گردی کی کمر توڑ دی گئی، قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے ہم آخری سانسوں تک دہشت گردوں کا پیچھا کریں گے وغیرہ وغیرہ جیسے بیانات یا ٹکرز چلا کر حکمران پھر مال بناؤ تے اگو جاؤ والی مہم پر لگ جاتے ہیں، باقی اللہ اللہ خیر سلا۔ جاری ہے