Altaf Hussain Ke Red Warrant Hakoomati Drama

Posted on February 13, 2017








Dated: February 12, 2017
Altaf Hussain Ke Red Warrant Hakoomati Drama
By: Syed Anwer Mahmood
الطاف حسین کے ریڈ وارنٹ حکومتی ڈرامہ
تحریر: سید انور محمود

سات فروری 2017 کوالطاف حسین کی گرفتاری کے لیے وفاقی وزارت داخلہ نے’ریڈ ورانٹ‘ جاری کرنے کی منظوری دئے دی ہے۔الطاف حسین پاکستان کی چوتھی بڑی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) کےبانی ہیں۔اب ایم کیو ایم چار حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔19 جون 1992 کے فوجی آپریشن کے بعد ایم کیو ایم دو حصوں میں بٹ گئی تھی۔ الطاف حسین کی قیادت سے بغاوت کرنے والوں نےاپنے آپ کو ایم کیو ایم(حقیقی)کے نام سے روشناس کروایا، اس دھڑئے کی قیادت آفاق احمد اور عامر خان کررہے تھے۔ عامر خان نے بعد میں الطاف حسین سے مفاہمت کرلی اور واپس ایم کیوایم میں آگئے۔ 3 مارچ 2016 کی صبح سابق ناظم کراچی مصطفی کمال اور انیس قائمخانی اپنی خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے دبئی سےکراچی پہنچے اور اسی شام ایم کیو ایم سے علیدگی کا اعلان کیا اور الطاف حسین پربہت سارئے ذاتی الزامات لگانے کے بعد اپنی نئی پارٹی بنانے کا اعلان کیا جو اب ’’پاک سر زمین پارٹی‘‘ کہلاتی ہے۔ الطاف حسین 22 اگست 2016 کی اپنی پاکستان مخالف تقریر سے قبل تک ایم کیو ایم کے رہنما تھے، ان کی اس تقریر کے بعد ان کے اپنے سینیر ساتھیوں نے ان سے علیدگی اختیار کرلی، ایم کیو ایم مزید دو دھڑوںمیں تقسیم ہوگئی، ایک دھڑئے کی قیادت ایم کیو ایم (پاکستان) ڈاکٹر فاروق ستارکررہے ہیں جبکہ دوسرئے دھڑئے کی قیادت ایم کیو ایم (لندن) الطاف حسین کررہے ہیں۔الطاف حسین کے ریڈوارنٹ کےفیصلے کے بارے میں ایم کیو ایم(لندن) کی قیادت تاحال خاموش ہے۔

ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین گذشتہ 25 سال سے برطانیہ میں رہ رہے ہیں ، 15 سال پہلے 2002 میں ان کو برطانوی شہریت مل چکی ہے۔ 22 اگست 2016 کو انہوں نے کراچی میں اپنی جماعت کے کارکنوں سے ٹیلی فونک خطاب کے دوران سندھ رینجرز کے سربراہ سمیت ملک کی سلامتی کے اداروں پر الزامات لگاتے ہوئے کڑی تنقید کی تھی۔ اُن کی تقریر کے بعد مشتعل افراد نے ایک ٹی وی چینل کے دفتر پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ بھی کی تھی۔ کچھ گھنٹوں بعد ہی الطاف حسین نے ایک تحریری بیان میں اپنی تقریر اور اُس کے بعد تشدد کے واقعات پر معافی مانگ لی تھی۔ اس متنازع تقریر کے بعد ملک کے مختلف حلقوں کی طرف سے ایم کیو ایم کے بانی رہنما کے بیان کی مذمت کی گئی۔ 22 اگست کی تقریر سے پہلے بھی الطاف حسین نے سال 2015 میں 30 اپریل ، 12 جولائی اورپہلی اگست کو بہت سخت تقریریں کی تھیں اور ان تمام تقریروں میں حکومت، ڈی جی رینجرز، آئی ایس آئی، فوج اور بیوروکریٹس کو سخت ترین تنقید کا نشانہ بنایا ۔ ان تمام کی تمام تقریروں کو ناپسند کیا گیا اور سب سے زیادہ افسوس تب ہوا جب الطاف حسین نے پاکستان کو ایک ناسور کہا اور پاکستان مردہ باد کے نعرئے لگوائے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئے دن کسی نا کسی بحران کا شکار رہتی ہے،جس کا سب سے بڑا سبب وزیر اعظم نواز شریف ہیں، گذشتہ نو ماہ سے وہ پاناما لیکس میں پھنسے ہوئے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا واقعی حکومت اور خاصکر وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وزیر اعظم نواز شریف الطاف حسین کو واپس لاکر ان پر مقدمات چلانا چاہتے ہیں یا پھر پاناما لیکس سے بچنے اور 2018 کے عام انتخابات میں شہری سندھ اورخاصکر کراچی اور حیدرآبادسےکامیابی کےلیے یہ نئی چال چلی ہے۔ جواب میں یہ ہی کہا جایگا کہ ہم الطاف حسین کو واپس لاکر ان پر مقدمات چلاینگے۔ اگر حکومت واقعی الطاف حسین پر مقدمات چلانا چاہتی ہے تو پھر اس نے ریڈوارنٹ کو جاری کرنے کی اجازت سے پہلے کوئی ہوم ورک نہیں کیا۔ 1978 سے لیکر 22 اگست 2016 کی تقریر تک الطاف حسین پر بننے والے مقدمات کی تعداد 250 سے زیادہ ہے، ان مقدمات میں سیاسی اور غیر سیاسی دونوں الزامات شامل ہیں۔ 16 ستمبر 2010 کو لندن میں قتل ہونے والےایم کیو ایم کےرہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے سلسلے میں الطاف حسین بھی مشکوک افراد کی فہرست میں شامل ہیں، صورتحال یہ ہے کہ منی لاڈرنگ کا کیس بنا برطانیہ میں (جو بعد میں پولیس نے ختم کردیا) ، ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی رپورٹ لکھی گئی برطانیہ میں تو ایسا کیسے ممکن ہے کہ وہ الطاف حسین کو پاکستان کے حوالے کردیں گے۔

اب ایک نئی خبر یہ آئی ہے کہ الطاف حسین کی اشتعال انگیز تقاریر کا جائزہ لینے کے لیے لندن پولیس نے نیا یونٹ بنادیا ہے، آپریشن ڈیمرٹ نامی یونٹ الطاف حسین کی تقاریرکی تحقیقات کرے گا ۔ اس یونٹ کے ذریعے الطاف حسین کی 22 اگست 2016 اوردیگرپانچ تقاریرکی تحقیقات ہوں گیں۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اگر الطاف حسین کو گرفتار کرکے لایا گیاتو پھر عدالت میں جب الطاف حسین بولینگے تو کیا جنرل ضیاءالحق، کیا جنرل اسلم بیگ اور کیا جنرل پرویزمشرف سب کے راز کھلیں گے، بینظربھٹواور زرداری کے علاوہ نواز شریف کے بھی بہت سے رازوں پر سے بھی پردہ اٹھے گا، 19 جون 1992 کو جب ایم کیو ایم مسلم لیگ (ن) کی اتحادی تھی تو سندھ میں ڈاکوں کے خلاف آپریشن کی بات کرکے نواز شریف نے ایم کیو ایم کے خلاف فوجی آپریشن کیا تھا، بقول الطاف حسین نواز شریف نے دھوکے سےایم کیو ایم اور الطاف حسین کی پیٹھ میں چھراگھونپا تھا۔الطاف حسین کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی منظوری سے پانچ دن پہلے صوبہ سندھ میں محمد زبیر عمر نےنئے گورنر کی حیثیت حلف لیا۔ زبیر عمر پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھتے ہیں اور نواز شریف کے خاندان سے قریب سمجھے جاتے ہیں، انہوں نے پہلے دن ہی میڈیا کو بتایا کہ’’کراچی آپریشن جاری رہے گا‘‘،2018 کے انتخابات میں دیگر جماعتوں کی طرح مسلم لیگ (ن) بھی حصہ لے گی۔ایک اور بیان میں گورنر سندھ نے کہا کہ ’’ایم کیو ایم کےتقسیم ہونے کے بعد کراچی میں سیاسی خلاء پیدا ہورہا ہے، الطاف حسین کا معاملہ اب ختم ہوچکا ہے‘‘۔شایدگورنر سندھ کہہ رہے تھے کہ مسلم لیگ (ن) کراچی کے اس سیاسی خلاء کا پورا فائدہ اٹھائے گی۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار گذشتہ سال الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں برطانیہ کی پولیس کے رویے کی وجہ سے مایوس ہوچکے ہیں جب برطانیہ کی پولیس نے الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزاما ت واپس لے لیے تھے۔ اس کے باوجود اب وزارت داخلہ کا ریڈ وارنٹ کے جاری ہونے کی اجازت دینا ایسا لگتا ہے کہ الطاف حسین کے ریڈوارنٹ دراصل ایک نیاحکومتی ڈرامہ ہے جس کا مقصد صرف یہ ہے کہ عوام کی توجہ ان کے اپنےمسائل اور پاناما لیکس کے مقدمے سے ہٹ جائے۔لندن میں ایم کیو ایم کے پارٹی رہنما پرامید ہیں کہ الطاف حسین اس بحران سے نکل جائیں گے اور ان پر ڈاکٹر عمران فاروق قتل یا نفرت آمیز تقریر کے خلاف مقدمات میں برطانیہ میں فرد جرم عائد نہیں ہوگی، اس کے علاوہ الطاف حسین کی برطانوی شہریت انہیں پاکستانی حکومت کی بیدخلی کی کوشش کے خلاف مددگار ہوگی۔ ویسے بھی پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرموں یا قیدیوں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ گویا الطاف حسین کے خلاف ریڈ وارنٹ پر عمل’’ہنوز دلی دور است‘‘ والا معاملہ ہے۔