مردُم شماری مارچ 2017

Posted on February 13, 2017



مردم شماری مارچ 2017
تحریر:- حبیب جان ( لندن)

ترقی یافتہ ممالک میں مردم شماری دس یا پندرہ سال میں نہیں بلکہ ہاتھ کے ہاتھ اندراج مقامی بلدیاتی ادارے کرتے رہتے ہیں۔ فرض کریں آپ لندن کے کسی علاقہ میں مکان کرایہ پر یا ذاتی طور پر خرید رہے ہیں تو آپ پر لازم ہے کہ جلد از جلد مقامی کؤنسل کو اطلاع دیکر اپنا اور دیگر اہل خانہ کا اندراج کروائیں، اسی طرح جس پراپرٹی ڈیلر یا ایجنٹ پر بھی یہ ذمہ داری ریاست کی طرف سے عائد کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی فرد/کمپنی کو مکان/دکان/دفتر یا کسی بھی قسم کی جائیداد کی لین دین کرے گا وہ پابند ہے کہ مقامی کؤنسل آفس کو ایک مخصوص وقت کے اندر اندر جائیداد لینے والے کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کرے.

اب ہم آتے ہیں ترقی پزیر ممالک یا تیسری دنیا سے وابستہ ممالک کی طرف، بد قسمتی سے پاکستان میں جمہوریت کا تسلسل نہیں رہا اور ماضی میں ہر تین چار سال بعد عزیز ہم وطنوں کی آواز کے زریعے اقتدار پر غیر جمہوری قوتیں قابض رہیں۔ اب اللہ کا شکر ہے ایک دہائی سے لنگڑی لولی کرپش زدہ ہی سہی لیکن وطن عزیز جمہوریت کی طرف رواں دواں ہے اسی بناء عرصہ دس سال بعد 15 مارچ سے پاکستان بھر میں مردم شماری کا آغاز ہورہا ہے۔ یاد رہے یہ مردم شماری بھی سپریم کورٹ کے حکم پر کی جارہی ہے لیکن اس پر ہم یہاں بحث نہیں کریں گے یہ معاملہ آئندہ کیلئے اُٹھا رکھتے ہیں.

مردُم شماری کسی بھی مُلک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل عمل ہوتا ہے۔ مردُم شماری کے نتائج کے بعد حکومتیں اپنے آئندہ کے تمام لائحہ عمل مرتب کرتی ہے جس میں ترقیاتی کاموں سے لے کر انسانی بہتری کیلئے منصوبوں کو حتمی شکل دینا شامل ہوتا ہے۔ ماضی کی مردُم شماری کے نتائج ہمیشہ مشکوک رہے شہری علاقوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی قائدین شہری آبادی کو کم ظاہر کرنے کی شکایت کرتے نظر آئے اور یہئی وجہ ہے کہ مردُم شماری کے اعلان کے ساتھ ہی شہری اور دیہی سیاسی قیادتیں آستینیں چڑھائیں ایک دوسرے کے خلاف صف آراء نظر آرہی ہیں۔

مارچ 2017 کی مردُم شماری اس لحاظ سے بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ یہ پاک چائنہ راہداری منصوبے کے شاندار آغاز کے فورا بعد ہورہی ہے اور ہر عام و خاص کے ذھن میں یہ بات رچ بس گئی ہے کہ بس چند سالوں کے بعد وطن عزیز میں دودھ اور شہد کی نہریں بہئیں گی۔ گاؤں میں رہنے والے افراد کی زندگی شہری زندگی کے معیار کے مطابق ہو جائیں گی۔ شہری آبادی کا خیال ہے کہ ہسپتالوں اسکولوں کالجوں کا جال بچھ جائے گا۔ سڑکیں پُل وغیرہ تعمیر ہوں گےاور بجلی کا نظام میں بہتری ہوگی مستقبل قریب میں لوڈشیڈنگ خاتمہ ہوگا وغیرہ وغیرہ.

یہاں یہ بات قابل ستائش ہے کہ حکمران اس مرتبہ مردُم شماری کے حوالہ سے کچھ سنجیدہ اور مُخلص نظر آتے ہیں۔ پاک فوج کے سربراہ نے بھی مردُم شماری کو صاف اور شفاف بنانے کیلئے دو لاکھ فوجی جوانوں کی تعیناتی کیلئے احکامات جاری کردئیے ہیں دوسری طرف مردُم شماری اسٹاف کی تربیت کیلئے سول انتظامیہ متحرک ہوگئی ہے. اب تک تو حکومت کی سنجیدگی اور مُخلصی کے دعوے تو بہت ہیں۔ اصل صورتحال 15 مارچ کے بعد واضح ہوگی کہ حکومتی اقدامات پر عوام کتنے مطمئن ہوئے اور میڈیا کیا رائے قائم کرتا ہے.

بہرحال یہ ایک اچھا موقع ہاتھ آیا ہے پاکستان کے شہری اور دیہی علاقوں میں آباد تمام زبان بولنے والے افراد حب الوطنی کے جزبہ سے سرشار ہوکر مردُم شماری میں بھرپور حصہ لیں۔ سیاسی و سماجی تنظیمیں اپنے اپنے علاقے میں مردُم شماری کے عمل پر نظر رکھیں جہاں جہاں سرکاری عملہ کوتاہی برتے وہاں وہاں فورا نشاندہی کی جائے۔ اس سلسلے میں NGOs بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

ہم یہاں حکومت وقت سے بھی درخواست کریں گے۔ فروری 15 کے بعد سے باقاعدہ نیشنل میڈیا کے زریعے آگاہی مہم شروع کی جائے تاکہ شہری اور دیہی علاقوں میں رہنے والے عوام بھرپور طریقہ سے مردُم شماری کے عمل میں شریک ہو۔ یہاں ایک تجویز اور بھی دینا ضروری ہے ملکی اور بین الاقوامی حالات، سرحدی کشیدگی کے تناظر میں صدارتی آرڈینینس کے زریعے مردُم شماری کے عمل میں رخنہ یا کسی قسم کی رکاوٹ ڈالنے والے نا پسندیدہ عناصر کے خلاف سخت ترین کاروائی عمل میں لائی جائے۔ یاد رکھیں مردُم شماری میں حصہ لینا ایک قومی ذمہ داری ہے اسی میں ہماری ترقی و خوشحالی کا راز پنہا ہے