سازگار عالمی فضا اور پاکستان کی ممکنہ حکمت عملی

Posted on January 30, 2017



دہشت گردی اورانتہا پسندی ایک عالمی توجہ کا حامل مسئلہ ہے۔اور پاکستان پوری دنیا میں وہ واحد ملک ہے جس نےاس ناسور کے خلاف متعدد واضح اقدامات لئے ہیں اوراسے اس ناسور کے خلاف گراں قدرکامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں۔ جسکی وجہ سے پاکستان کو بہت محتاط ہی سہی مگراب عالمی سطح پر پزیرائی ملنا شروع ہو گئی ہے۔جس کا ثبوت پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو عالمی اکنامک فورم ڈیووس میں “گلوبل دہشت گردی” کے موضوع پر اظہار خیال کے لئے مدعوکیا جانا ہے۔ یہ پاکستان کے لئے ایک حوصلہ افزا بات ہے کہ جہاں اس سے” ڈو مور” کے لئے اصرار کیا جاتا تھا وہاں اب اس کے دہشت گردی کے خلاف لئے جانے والے اقدامات کو نہ صرف سراہا جا رہا ہے بلکہ اقوام عالم اب پاکستان کے مفید تجربات سے سیکھنا بھی چاہتی ہیں۔
اوردوسری جانب خوش قسمتی سےعالمی سفارتی فضا بھی پاکستان کے حق میں ہموار ہوتی ہوئی دیکھائی دے رہی ہے۔ روس کے پاکستان کی طرف حالیہ جھکاؤ سے جہاں خطے کی سیاست پر دورس اثرات مرتب ہونگے وہیں بین الاقوامی سطح پر بھی اہم ترین بدلاؤ متوقع ہیں۔ روس اس وقت سی پیک میں شمولیت کا متمنی تو ہے ہی مگروہ سی پیک کو اپنے اقتصادی ترقی کے منصوبے”یوریزین اکنامک یونین”کے ساتھ منسلک کرنے کی خواہش بھی رکھتا ہے۔اور اسی تناظر میں اگر روس کی افغان طالبان کے حوالے سے متوقع حکمت عملی اور پاکستان کے ساتھ منعقدہ حالیہ عسکری مشقوں کو بھی دیکھا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اس سے ہمارے ابدی وروایئتی حریف یعنی بھارت کےسٹریٹجک مفادات کو خاطر خواہ دھچکا لگا ہے۔جسکی ٹیسیں ہمیں بھارتی میڈیا پرنشر ہونے والے متعدد پروگراموں میں انکے اینکر حضرات کے اپنائے جانے والے لب و لہجےاور سی پیک کے خلاف منفی پروپیگنڈے سے بخوبی سنائی دیتی ہیں۔مزید براں بھارت کے”نیوکلیر سپلائرز گروپ”میں شرکت کو پاکستان کے ساتھ مشروط کرنے کے حوالے سے پاکستان کے “دیرینہ دوست ملک چین” کے حالیہ بیان نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے لئے سفارتی میدان میں بہت سی راہیں ہموار کر دی ہیں۔ یاد رہے چین اور روس دونوں ممالک ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل اراکین ہیں اور ویٹو کا حق رکھتے ہیں۔اور ایسے میں ان دونوں ممالک کے پاکستان کے ساتھ گہرےسفارتی و معاشی روابط استوار ہونا، بلاشبہ دشمننانِ پاکستان کے ان بھیانک خوابوں کو چکنا چور کر دینے کے مترادف ہے، جو کہ ماضی قریب میں پاکستان کو سفارتی سطح پر تنہا کر دینے کے نعرے لگاتے رہے ہیں۔
اب موجودہ سازگار عالمی فضا سے مستفید ہونے کے لئےکچھ ذمہ داریاں پاکستان کے کندھوں پر بھی عائد ہوتی ہیں ۔جن میں سر فہرست ،بین الاقوامی تعلقات میں سفارتی حربوں کامؤثر استعمال اور ایک متوازن خارجہ پالیسی کا وضع کیا جانا ہے۔ عالمی سطح پر بین الاقوامی رائے عامہ اپنے ملک کے قومی مفادات کے حق میں ہموار کرنے کے لئے بلاشبہ بہت سے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ جس میں کلیدی کردار اس ملک کے سفارتکار اور بین الاقوامی امور کے دیگر ماہرین اور اسکے مخصوص مندوبین ادا کرتے ہیں۔ اور اسی سلسلے میں لابنگ کے لئے لابنگ فرمز اور ایڈووکیسی گروپسز کی خدمات بھی حاصل کی جاتی ہیں۔مگر تاحال پاکستانی ماہرین اس میں خاصے کمزور دیکھائی دیتے ہیں۔ جسکی حالیہ مثال امریکی نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں پاکستانی وزیر اعظم کی شرکت کو ممکن بنانے کے لئے (پاکستانی وزیر اعظم کی ذات کے لئے)طارق فاطمی صاحب کی کی جانے والی لابنگ کی ناکام کو ششیں ہیں۔ اسی لئے امور خارجہ کے ماہرین کی جانب سے اب یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہاہےکہ کہیں پاکستان یہ سنہری سفارتی موقع بھی اپنے نااہل سفارتی ٹیم کی وجہ سے گنوا نہ دے۔ ہر ملک اپنے قومی مفاد کے پیش نظر علاقائی و عالمی سطح پراپنی داخلی وخارجہ حکمت عملی ترتیب دیتا ہے۔ مگر پاکستان تو بد قسمتی سےگزشتہ چند سالوں سے ایک قابل وزیر خارجہ سے بھی محروم ہے۔جسکی وجہ سےکئی اہم ترین فورمز پر گزشتہ چند بر سوں سے متعدد عالمی توجہ کے حامل، نازک موضوعات پر پاکستان کی موثر نمائندگی نہیں ہو سکی۔ ہمارے محترم وزیر اعظم صاحب ان فورمز پر جا تے تو رہے مگر وہاں انکی ملکی اہمیت کے حامل امور کے حوالے سے سفارتی سر گرمیاں کہیں پر بھی د یکھائی نہیں دیں۔بہر حال،موجودہ عالمی سودمند، سفارتی ماحول، پاکستان کو کسی بھی صورت میں بھی، اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے۔ اور مزید یہ کہ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات میں بھی جزبات کی بجائےدانش مندی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔اور اسے مستقل طور پر ہندوستان کا آلہ کار بننے سے روکنے کے لئے ہر ممکن تراکیب بروئے کار لانی ہونگی۔کیونکہ پاکستان کسی بھی صورت میں اب اپنی مغربی سرحد پر بھی، مستقل خطرہ مول لینے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اسکے علاوہ پاکستان کو ایران اور سعودی عرب کے ساتھ بھی دوطرفہ تعلقات میں معاملہ فہمی سے کام لیتے ہوئےایک متوازن اور میانہ روی کی پالیسی اپنانہ پڑے گی کیونکہ پاکستان کے لئے دونوں فریقین ہی مسلم برادر ممالک کی یکساں حیثیت رکھتے ہیں۔علاوہ ازیں، تمام گلوبل فورمز پر مسئلہ کشمیرکو اجاگر کرنے کے لئے جہاں حکومت پاکستان کی جانب سے ایک مربوط حکمت عملی درکار ہے وہیں بلوچستان میں بھارتی ہاتھ ملوث ہونے کے حوالے سے تمام تر شوائد اقوام عالم کے سامنے لانے کے لئے بھی پاکستان کو از سر نو تدابیر کرنی پڑیں گی۔ تاہم اس ضمن میں موثر پیش رفت کے لئے پاکستان کو سب سے پہلے اقوام متحدہ میں موجود اپنے مستقل و غیر مستقل مندوبین اور اپنے مخصوص نمائندگان کو متحرک کرنے کی اشد ضرورت ہے، کہ جنکے وہاں بمعہ اہل و عیال قیام وطعام کے اخراجات سالہا سال سے پاکستان اٹھا رہا ہے مگر پاکستان کو بظاہر انکا کو ئی فائدہ اتنے برسوں میں نہیں ہوا۔
اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی اور نمایاں کامیابی دہشت گردی کے خلاف ایک جیتی ہوئی جنگ ہے جو کہ اقوام عالم کے لئے بھی باعث دلچسپی ہے۔ اسی لئے حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنے چند وفاقی و صوبائی وزراء کےفوجی عدالتوں اور نیشنل ایکشن پلان سے متعلق اور بعض مبینہ انتہا پسندوں کے حق میں دیے گئے بیانات کا فوری طور پر ازخود نوٹس لے۔کیونکہ اس سے پاکستان کے قومی مفاد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اور یہ اہم ترین ذمہ داری اب حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ کسی کو بھی اتنی چھوٹ نہ دے کہ محض چند افراد سول سو سائٹی کا نام استعمال کرتے ہوئے،کبھی آزادی رائے کے بینر تلے ،تو کبھی فوج سےاپنی ذاتی دشمنی کی آڑ میں، پاکستان کے قومی سلامتی کے اعلٰی اداروں پر جب چاہیں کیچڑ اوچھال سکیں۔
ایمان ملک