Pakistan Ki Nakaam Kharja Policy (Part IV)

Posted on December 27, 2016



Dated: December 24, 2016
Pakistan Ki Nakaam Kharja Policy (Part IV)
By: Syed Anwer Mahmood
پاکستان کی ناکام خارجہ پالیسی۔۔۔چوتھی قسط
تحریر: سید انور محمود

مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے اپنی 9 جون کی پریس کانفرنس میں پاکستان کے ساتھ افغانستان، ایران ، متحدہ عرب عمارات اور سعودی عرب سے تعلقات کا بھی کچھ ذکر کیا تھا۔افغانستان اورایران سے تعلقات کا اظہار پہلے بھی ہوچکا ہے لیکن تھوڑا سا اور۔افغانستان پاکستان پر قطعی اعتماد نہیں کرتاہے۔ افغانستان میں کرزی ہو یا اشرف غنی یا پھر عبداللہ عبداللہ یہ سب پاکستان مخالف ہیں۔افغانستان برملا الزام لگاتا رہا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیاں افغانستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتی ہیں، پاکستان، افغانستان میں اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنے کے لئے افغانستان میں درپردہ مسلح گروپوں کی حمایت کرکے اندرونی مداخلت کا مرتکب ہورہا ہے، لیکن افغانستان ان بھارتی قونصل خانوں کا کبھی ذکر نہیں کرتا جو پاکستانی سرحدوں کے قریب ہیں جہاں سے بھارتی دہشتگردپاکستان میں داخل ہوکر دہشتگردی کرتے ہیں۔پاکستان 30 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے، جن کی برکت سے دہشتگردی، کلاشنکوف کلچر اور بے انتہا جرائم میں اضافہ ہوا ہے، 70ہزار سے زیادہ پاکستانی شہید ہوچکے ہیں لیکن پاکستان پھر بھی برا ہے۔مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے 22 جون کو کہا تھا کہ اب ہم افغان مہاجرین کی مزیدمیزبانی نہیں کرسکتے، سماجی واقتصادی اورسیکورٹی چیلنج مہاجرین کی میزبانی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق سرتاج عزیز نے یہ بات اقوام متحدہ کے کمشنر برائےمہاجرین فلیپو گرینڈی سے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران کہی ۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارئے کچھ ناعاقبت اندیش سیاسی رہنما ان افغان مہاجرین کے زریعے سیاست میں اپنا قد بڑھانے کےلیے ان کی واپسی پر اودھم مچاتے ہیں جبکہ اس مسلئے پرنواز شریف حکومت کی کوئی خارجہ پالیسی نہیں اور ہر 6 ماہ بعد افغان مہاجرین کی واپسی میں 6 ماہ کا اضافہ کردیا جاتا ہے۔ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے حوالے سے پاکستانی مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے افغان صدر اشرف غنی کو الزام تراشی نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ الزام تراشی کی بجائےمثبت اقدامات پرتوجہ دینی چاہیے۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔

رضا شاہ پہلوی کے زمانے تک پاک ایران تعلقات کافی بہتررہے، انقلاب خمینی کے بعد ضیا الحق ان تعلقات کو قائم نہیں رکھ سکا، اور اسی کے زمانے میں کراچی اور ملک کے دوسرئے حصوں میں شیعہ سنی فسادات شروع ہوئے۔دوسری طرف مذہبی بنیاد پر ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں بہت تیزی سے خرابی آئی۔ان دونوں ملکوں کے بگڑتے ہوئے تعلقات کا پاکستان میں بہت برا اثر پڑا، اورشعیہ اور سنیوں میں مسلک کی بنیاد پر نفرت انگیزاختلافات بڑئے، ایک دوسرئے کے لوگوں کی جانیں لی گیں اور پھر یہ اختلاف آگے چلکر دہشتگردی تک پہنچ گئے۔خاصکر پچھلے دوعشروں سے ایران اور پاکستان کے تعلقات سرد مہری اور عدم اعتماد کا شکار ہیں۔ ایران پاکستان کےرویوں سے شدید طور پر مایوس ہے، پاکستان نے ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن کے منصوبے کی تکمیل سے تقریباً اپنے آپ کو علیدہ کرلیا ہے،کیونکہ امریکہ اس منصوبے کی مخالفت کرتا ہے اور ہماری خارجہ پالیسی ایسی ہے کہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز اس قابل نہیں کہ امریکہ کو قائل کرسکیں ۔ دوسرئے ایران پاکستان پریہ الزام بھی لگاتا ہے کہ پاکستان کے مذہبی شدت پسند پاکستانی حکومت کی مرضی سے ایران کے سرحدی علاقوں میں گڑبڑ کرتے ہیں۔ ایران نے گوادر کی بندرگاہ اور پاک چین اقتصادی راہداری کے اثرات سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے انڈیا کی مدد سے چابہار کی بندرگاہ کو گوادر طرز کی بندرگاہ کے طور پر توسیع دینے اور چابہار سے وسط ایشیا تک راہدار ی کی تعمیر کے لئے انڈیا اور افغانستان سے سہ فریقی معاہدہ کیا ہے، جس سے خطّے کی صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔جبکہ کچھ عرصے پہلے ایرانی قیادت نے پاک چین اقتصادی راہداری میں اپنی شرکت کی خواہش کی تھی۔پاکستان کے وزیر اعظم یا مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے ایرانی قیادت کے اس بیان میں کوئی دلچپی نہیں۔

دسمبر 1971 میں متحدہ عرب امارات کے تشکیل میں آنے کے بعد پاکستان وہ پہلا ملک تھا جس نے اسے باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا۔ شیخ زاید بن سلطان النہیان کے زمانے میں متحدہ عرب امارات کے پاکستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کی ایک تاریخ رہی ہے۔ مگر یمن اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والی جنگ میں پاکستا ن کی اس جنگ میں براہ راست شمولیت سے انکار کے بعد متحدہ عرب امارات سے پاکستان کے تعلقات سخت کشیدہ ہوچکے ہیں۔ اپریل 2015 میں پاکستان کی پارلیمنٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ ’’یمن سعودی عرب تنازعے میں پاکستان غیر جانبدار رہے گا’’، دولت مند متحدہ عرب ا مارات کے وزیر خارجہ ڈاکٹر انور محمد قرقاش نے غیر جانبدار رہنے کے فیصلے پر پاکستان کو اعلانیہ دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کو اس اہم مسئلے پر غیر جانبدار رہنے اور اپنی متضاد اور مبہم رائے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ اماراتی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ “یہ ایک کاہلی پر مبنی غیرجانبدارانہ موقف ہے”۔ کاہل یا کام چور اس وقت کہا جاتا ہے جب کوئی آپ سےمعاوضہ لے کر کسی خدمت کا وعدہ پورا نہ کرئے۔ نواز شریف کی خارجہ پالیسی ملک کے فائدئے کےلیے قطعی نہیں ہوتی بلکہ یہ ان کے ذاتی فائدئے کے گرد گھومتی ہے، جس کی ایک مثال ورلڈ ایکسپو 2020 میں پاکستان کا متحدہ عرب امارات کے مقابلے میں ترکی کو ووٹ دینا ہے۔ پاکستان کا غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ بالکل صیح تھا مگر ذمہ داری پھر بھی پاکستان کی غیر ذمہ دارانہ ناکام خارجہ پالیسی، اور سفارتی ناکامیوں کی ہے ۔ کیونکہ کسی کو نہیں معلوم کہ درون خانہ پاکستان کے متحدہ عرب امارات سے کیا مالی معاملات رہے ہیں کہ پاکستان کو کھلے عام سبق سکھانے، سخت نتائج بھگتنے کی دھمکیاں اور کاہل اور کام چور ہونے کے طعنے دئے جارہے ہیں، کہیں ایسا تو نہیں پاناما لیکس کیس میں اگلے گواہ کے طور پر کسی متحدہ عرب امارات کے شہزادئے کا نام سامنے آئے۔9 جون کی پریس کانفرنس کے بعد مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے دوبارہ متحدہ عرب امارات کا نام نہیں لیا، کہتے ہیں چور کی داڑھی میں تنکا۔

سعودی عرب اور پاکستان کے برادرانہ تعلقات تو پاکستان کے وجود میں آتے ہی شروع ہوگئے تھے ، جبکہ 1951 میں دوستی اور تعاون کا باقاعدہ معاہدہ ہوا۔ سعودی عرب میں 10 لاکھ سے زیادہ پاکستانیوں کو روزگار ملا ہوا ہے، جس سے ملک کو بھاری بھرکم زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ نواز شریف کی موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے فوراً بعد سعودی عرب نے ڈیڑھ ارب ڈالرز کا تحفہ بھی دیا تھا جو اب شاید واپس مانگا جارہا ہے اور کہا جارہا کہ ڈیڑھ ارب ڈالر کی رقم پاکستان میں غیر ملکی زرمبادلہ کے زخائر میں اضافہ کےلیے دی تھی، یہ رقم تحفہ نہیں تھی۔ یمن سعودی تنازعے کے وقت سعودی عرب نے دعوی کیا تھا کہ اسے امریکہ سمیت پانچ ملکوں کے علاوہ پاکستان کی بھی حمایت حاصل ہے۔ پاکستان اس خطے میں ایک بہترین فوجی قوت کے علاوہ ایٹمی ٹیکنالوجی کا حامل واحد اسلامی ملک ہے۔ سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس آپریشن کے لیے نہ صرف سعودی عرب کو پاکستان کی حمایت حاصل ہے بلکہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اس جنگ میں حصہ لینے کو بھی تیار ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں کل وقتی وزیر خارجہ نہیں ہے اور مشیر خارجہ سرتاج عزیز بے اختیا ر ہیں ۔وزارت خارجہ کا قلمدان وزیراعظم کے پاس ہے، لہذاپاکستان کے مستقبل اور خارجہ پالیسی کے اس اہم معاملے پر کل جماعتی کانفرنس یا پارلیمان کے اندر موجود سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیے بغیر وزیر اعظم نواز شریف نے فوج کے سربراہ کے ساتھ مختصر مشاورت کے بعد سعودی عرب کا بھرپور ساتھ دینے کا اعلان کردیا ۔
(جاری ہے)