انڈیا: پاکستانی جرسی پہننے کے جرم میں نوجوان گرفتار

Posted on December 20, 2016



انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام میں ایک نوجوان کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کی جرسی پہننے کے لیے گرفتار کیا گیا اور ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گيا ہے۔

یہ واقعہ آسام کے ہیلا کاندی ضلعے میں ایک مقامی کرکٹ میچ کے دوران پیش آيا۔

ہمارے نامہ نگار امیتابھ بھٹا سالی نے بتایا کہ ضلع کلکٹر پرنب جیوتی گوسوامی سے ان کی بات ہوئی جنھوں نے اس واقعے کی تصدیق کی۔

انھوں نے بتایا کہ ریاست میں حکمراں جماعت بی جے پی کے یوتھ ونگ بھارتیہ یوا مورچہ نے رپن چودھری نامی نوجوان کے خلاف ایف آئي آر درج کرائي تھی۔

در اصل ایک مقامی میچ کے دوران رپن چودھر نے شاہد آفریدی کے نام کی پاکستانی جرسی پہنی تھی۔

جس پر وہاں موجود نوجوان نے اعتراض کیا اور پھر ان کے درمیان جھگڑا ہوا۔

اطلاعات کے مطابق وہاں موجود ہندو جاگرن منچ اور بھارتیہ یوا مورچہ کے ارکان اور ان کے ہم خیال نوجوانوں کی جانب سے اعتراض کیا گیا اور پھر معاملے نے طول پکڑ لیا۔

انھوں نے اس پر اشتعال پھیلانے اور ملک سے غداری کا معاملہ درج کرانے کی کوشش کی تھی۔لیکن ضلع میجسٹریٹ نے کہا کہ صرف پاکستانی کرکٹ ٹیم کی جرسی پہن لینے سے غداری جیسے سنگین الزامات عائد نہیں ہوتے اس لیے انھیں پولیس سٹیشن سے ہی ضمانت پر رہا کر دیا گيا ہے۔

ان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 120 (بی) اور 294 کے تحت معاملہ درج کیا گيا ہے اور یہ دفعات بہت سخت نہیں ہیں۔ تاہم پوچھ گچھ کے بعد انھیں ضمانت پر رہا کر دیا گيا ہے۔

بی جے پی کے ضلعی صدر کیشپ رنجن پال نے بتایا کہ پاکستان کی جرسی انھیں گوارا نہیں اور وہ اس کے خلاف اپنی مہم جاری رکھیں گے۔

خیال رہے کہ انڈیا میں حالیہ برسوں پاکستان کے خلاف جذبات میں اضافہ ہوا ہے۔ پہلے مہاراشٹر جیسی ریاستوں میں پاکستانی کھلاڑیوں اور فنکاروں کے خلاف مظاہرے اور بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ بہر حال انڈیا میں پاکستان کے بہت سے کھلاڑی پہلے بھی پسند کیے جاتے رہے ہیں لیکن یہ آسام جیسی ریاست میں اس قسم کا پہلا معاملہ ہے۔